گورنرپنجاب! پیپلز پارٹی کا چہرہ

08:58 AM, 7 Mar, 2026

اگلے روز گوجرانوالہ کی معروف کاروباری شخصیت ملک محمد اقبال ان کے بیٹے شاہد عمیر اور دوست ملک شفاقت ملنے کیلئے تشریف لائے۔ وطن عزیز میں شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جس میں سیاست نہ ہو اور یا کم از کم سیاسی گفتگو نہ ہو۔ ملک محمد اقبال ان کے بیٹے اور ملک شفاقت نے گفتگو میں موضوعات اور الفاظ کا چناو¿ تھا کہ میں حیران رہ گیا۔ آج کے دور میں جب لوگ صرف جانبداری، کلٹ فروشی اور کلٹ بازی سے باہر نہیں آتے، اتنی علم افروز گفتگو جس میں تاریخ، ادب، سیاست، سیاسی جماعتیں، سیاسی ورکر، لیڈر اور کرداروں کا اس خوبصورتی کے ساتھ احاطہ کیا کہ ایک عرصہ بعد ایسی علمی، ادبی و سیاسی گفتگو سننے کو ملی۔
گوجرانوالہ کے سیاست کاروںکا بھی ذکر رہا چونکہ تینوں کاروباری شخصیات ہیں، میں نے ان کی شعوری اور سنجیدہ گفتگو سن کر یقین کر لیا کہ ان کا کسی مذہبی، فرقہ پرست اور کلٹ پرست سیاسی جماعت کی طرف رجحان نہیں ہو سکتا۔ ایک سیاسی جماعت، ایک مذہبی فرقہ اور ایک شہر کے لوگوں سے میں بالکل بات کرتا ہوں نہ مقابلہ۔ میں نے احتیاط کی اور سیاسی وابستگی نہ پوچھی البتہ جب ان سے گورنر پنجاب کے رویے، انداز، سادگی اور عوام دوستی کی تعریفیں سنیں تو میں نے پوچھا، ملک صاحب گورنر پنجاب انتظامی طور پر تو ایک بے اختیار عہدہ ہے یہ محض دستخط کرنے والی مشین بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے عوام کو عزت نفس کی بحالی کی سخت ضرورت ہے۔ جس کیلئے عوام سے رابطہ اور سادگی کا رویہ، دوستانہ انداز انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے موجودہ گورنر پنجاب کی بات کی۔ حالانکہ گورنر محض ایک ایسا عہدہ ہے جو وفاق اور صوبے میں آئینی طور پر پُل کا کردار ادا کرتا ہے یا کم از کم انتظامی حوالہ سے تمام اختیارات تو وزیراعلیٰ کے پاس ہیں لیکن جو گورنر کی ذمہ داریاں ہیں ان کی بجا آوری کے ساتھ موجودہ گورنر کی عوام دوستی سے 
پیپلز پارٹی کے اصل جمہوری اور غریب پروری کے چہرے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
سردار سلیم حیدر سے پہلے گورنر رسمی پروٹوکول اور سختی کے نمائندہ تھے، جن کی کارکردگی دفاتر تک محدود رہتی اور عوامی رابطہ کمزور ہوتا۔ موجودہ گورنر، اس کے برعکس، سادہ اور عوام دوست ہیں۔ دیہی علاقوں کے دورے، سکولوں اور ہسپتالوں میں براہِ راست سننا، اور عوامی تجاویز پر عمل ان کی ترجیح ہے۔ تاریخی ورثے اور ثقافت کی حفاظت بھی ان کی اہم توجہ ہے۔ یہ عملی اور شفاف قیادت نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھاتی ہے بلکہ ترقی کی راہیں بھی ہموار کرتی ہے۔ پنجاب کے عوام موجودہ گورنر کے قریب اور پُرامید ہیں۔
گورنر پنجاب ایک منفرد قیادت کے حامل ہیں، جنہوں نے عوام دوستی، سادگی اور عملی اقدامات کو اپنی پہچان بنایا ہے۔ وہ رسمی پروٹوکول سے زیادہ عوامی مسائل کو ترجیح دیتے ہیں اور ہر سطح پر لوگوں کی سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گورنر کی سادگی اور عام آدمی کے قریب طرز عمل نے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ ان کے نظریات نہ صرف شفاف اور منصفانہ ہیں بلکہ پیلز پارٹی کے روایتی اصولوں اور عوامی خدمت کے عزم کو بھی واضح کرتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی مسائل پر ان کی بصیرت اور عملی فیصلے پنجاب کے عوام کے لیے مشعل راہ ہیں۔ یہ قیادت نہ صرف ترقی کی راہیں ہموار کرتی ہے بلکہ عوام کو حکومت کے قریب اور پُرامید بھی رکھتی ہے، جس سے پنجاب میں اعتماد اور خوشحالی کا ماحول قائم ہوا۔
صوبہ پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے منصب سنبھالنے کے بعد جس انداز میں عوامی رابطے اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ عموماً گورنر کا عہدہ رسمی اور محدود اختیارات کا حامل سمجھا جاتا ہے، مگر سردار سلیم حیدر خان نے اپنی عملی سرگرمیوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو ہر منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔گورنر ہاﺅس کے دروازے عوام کے لیے کھولنے کا اقدام ان کی نمایاں پہچان بن چکا ہے۔ مختلف سماجی، تعلیمی اور فلاحی وفود سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ صوبے کے عوام کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے کردار ادا کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور مختلف طبقات کے نمائندوں سے مسلسل ملاقاتیں ایک مثبت روایت کو فروغ دے رہی ہیں۔
تعلیمی اداروں کے دورے ان کی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہیں۔ نوجوانوں سے مکالمہ کرتے ہوئے وہ نہ صرف انہیں تعلیم اور تحقیق کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ قومی ترقی میں ان کے کردار پر بھی زور دیتے ہیں۔ اس طرح وہ نوجوان نسل کو امید، حوصلہ اور مثبت سوچ کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب معاشرے کو رہنمائی اور اعتماد کی ضرورت ہے، یہ طرزِ عمل یقینا قابلِ ستائش ہے۔اسی طرح سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں شرکت بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مختلف تقریبات میں شرکت، عوامی مسائل کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور صوبے کے مختلف علاقوں کے لوگوں سے رابطہ رکھنا اس بات کا مظہر ہے کہ وہ محض رسمی کردار تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ ایک فعال اور متحرک گورنر کے طور پر سامنے آنا چاہتے ہیں۔
سیاسی پس منظر رکھنے کے باوجود انہوں نے بطور گورنر ایک معتدل اور ہم آہنگ کردار اپنانے کی کوشش کی ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی طبقات کے ساتھ روابط میں توازن اور شائستگی ان کی شخصیت کا مثبت پہلو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سرگرمیوں کو عوامی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔مختصر یہ کہ سردار سلیم حیدر خان نے گورنر کے منصب کو عوامی خدمت، رابطے اور مثبت پیغام رسانی کا ذریعہ بنانے کی ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ اگر یہی جذبہ اور سرگرمی برقرار رہی تو یقینا ان کی کارکردگی صوبے میں ایک مثبت اور یادگار روایت کے طور پر دیکھی جائے گی۔ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ گورنرپنجاب پیپلز پارٹی کا روایتی، نظریاتی، سماجی اور عوامی چہرہ ہیں۔

مزیدخبریں