پاکستان میں سفری سہولیات یا منظم لوٹ مار؟

08:45 AM, 7 Mar, 2026

پاکستان میں شہری ٹرانسپورٹ کا منظرنامہ گزشتہ چند برس میں تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ کبھی رکشوں اور ٹیکسیوں پر سرکاری میٹر نصب ہوتے تھے اور کرایہ حکومت کی جانب سے مقرر کیا جاتا تھا۔ اس نظام میں خامیاں ضرور تھیں مگر کم از کم مسافر کو یہ یقین ہوتا تھا کہ اس سے فی کلومیٹر طے شدہ کرایہ ہی وصول کیا جائے گا۔ آج صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ ایپ بیسڈ سفری سروسز جیسے آن لائن ٹیکسی اور بائیک سروسز نے سہولت اور جدید ٹیکنالوجی کے نام پر شہری ٹرانسپورٹ میں نئی تبدیلی ضرور لائی ہے، مگر اس کے ساتھ بے ضابطگیوں کا ایک ایسا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے جس نے عام شہری کے لیے سفر کو پہلے سے زیادہ مہنگا اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ بڑی تعداد میں شہری شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ سروسز میں کرایوں کا نظام واضح نہیں رہا۔ ڈرائیور حضرات اکثر من مانا رویہ اختیار کرتے ہیں، پیک آور یا سرچ پرائسنگ کا سہارا لیتے ہیں اور بعض اوقات اضافی رقم کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ بارش ہو، ٹریفک جام ہو یا دفاتر کی چھٹی کا وقت، کرایے اچانک دوگنا یا تین گنا ہو جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈرائیور سفر قبول کرنے کے بعد منزل معلوم کرتا ہے اور اگر اسے فاصلہ یا علاقہ مناسب نہ لگے تو رائیڈ منسوخ کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسافر سڑک کنارے کھڑا انتظار کرتا رہتا ہے۔ بعض مواقع پر بدتمیزی اور غیر پیشہ ورانہ رویہ بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نجی کمپنیوں کی من مانی ہے یا حکومتی نگرانی کی کمی کا نتیجہ؟ایپ بیسڈ سروسز میں سرچ پرائسنگ کا تصور اس بنیاد پر پیش کیا جاتا ہے کہ جب طلب زیادہ اور گاڑیاں کم ہوں تو کرایہ بڑھا دیا جائے تاکہ مزید ڈرائیور سروس فراہم کرنے کے لیے متحرک ہوں۔ نظریاتی طور پر یہ ایک معاشی منطق ہے، مگر پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کی بڑی اکثریت متوسط یا کم آمدنی والے طبقے پر مشتمل ہے، یہ نظام اکثر عوام کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ دفاتر اور تعلیمی اداروں کے اوقات میں کرایوں کا بڑھ جانا عام شہری کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ طلبہ و طالبات، مزدور اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے لیے یہ اضافی اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں۔ یوں سفر جو ایک بنیادی ضرورت ہے، بتدریج ایک مہنگی سہولت بنتا جا رہا ہے۔ایک اور اہم مسئلہ رائیڈ قبول نہ کرنے کا ہے۔ اگر سفر کسی دور دراز علاقے کا ہو یا ڈرائیور کو واپسی کا کرایہ یقینی نظر نہ آئے تو وہ رائیڈ مسترد کر دیتا ہے۔ اس طرح مسافر کئی بار مسلسل درخواستیں بھیجتا رہتا ہے مگر کوئی ڈرائیور رائیڈ قبول نہیں کرتا۔ ایسے حالات میں ٹیکنالوجی کی تمام تر سہولت بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ بظاہر ایپ موجود ہے مگر عملی طور پر مسافر پہلے سے زیادہ بے بس دکھائی دیتا ہے۔اگر دنیا کے دیگر ممالک کا جائزہ لیا جائے تو وہاں ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ سروسز سخت ضابطوں کے تحت کام کرتی ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں ڈرائیورز کی سکریننگ، گاڑیوں کی فٹنس، کرایوں کی حد اور صارفین کے حقوق کے لیے واضح قوانین موجود ہیں۔ سرج پرائس کی بھی ایک حد مقرر ہوتی ہے اور شکایت کے نظام کو مو¿ثر بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ٹیکنالوجی واقعی عوامی سہولت بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں اس شعبے کے لیے واضح ریگولیٹری نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ بھی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام خود ناکافی ہے۔ سرکاری بسیں محدود ہیں، میٹرو منصوبے چند علاقوں تک محدود ہیں اور ریلوے شہری ٹرانسپورٹ کا متبادل نہیں بن سکی۔ ایسے میں ایپ بیسڈ سروسز شہریوں کی مجبوری بن گئی ہیں۔ لیکن چونکہ ان کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود نہیں، اس لیے کرایوں کی حد، سرچ پرائسنگ اور ڈرائیور کے رویے پر مو¿ثر نگرانی نظر نہیں آتی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ڈیجیٹل سہولت کے نام پر ریاست نے اپنی ذمہ داری نجی کمپنیوں کے حوالے کر دی ہو۔یہ صورتحال خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے پریشان کن ہے۔ یونیورسٹی جانے والی طالبات کے لیے صبح اور شام کے اوقات میں بڑھا ہوا کرایہ بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ملازمین کے لیے روزانہ کا اضافی خرچ ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے جبکہ محنت کش طبقے کی آمدنی کا بڑا حصہ سفر پر خرچ ہونے لگتا ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں تعلیم اور روزگار کے مواقع آسان بنائے جاتے ہیں، مگر اگر سفر ہی مہنگا اور غیر یقینی ہو جائے تو یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ان مسائل کے ساتھ ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے اور وہ ہے ڈرائیورز کی شہری راستوں سے ناواقفیت۔ اکثر ڈرائیور دور دراز علاقوں سے روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں مگر لاہور، کراچی یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے جغرافیے سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے۔ اس صورتحال میں وہ مکمل طور پر جی پی ایس پر انحصار کرتے ہیں۔ بظاہر یہ جدید ٹیکنالوجی ہے مگر عملی طور پر اس میں بھی کئی خامیاں ہیں۔ نیٹ ورک کمزور ہو جائے یا سڑک بند ہو تو ڈرائیور راستہ بھٹک جاتا ہے اور مسافر سے بار بار راستہ پوچھنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ غیر ضروری چکر لگ جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کرایہ بھی بڑھ جاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف وقت کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ سلامتی کے خدشات بھی پیدا کرتا ہے۔ خاص طور پر خواتین مسافروں کے لیے نامعلوم راستوں یا سنسان گلیوں میں پہنچ جانا خوف اور عدم تحفظ کا باعث بن سکتا 
ہے۔ جب ڈرائیور خود منزل کے راستے سے پوری طرح واقف نہ ہو تو مسافر کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔دنیا کے کئی بڑے شہروں میں ڈرائیورز کو باقاعدہ تربیت اور امتحان سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ شہر کے راستوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ پاکستان میں اس طرح کی شرط تقریباً موجود نہیں۔ اگر ڈرائیور کا انتخاب صرف گاڑی اور لائسنس کی بنیاد پر کیا جائے تو شہری آگاہی کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟ان تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ وفاقی یا صوبائی سطح پر ایک مو¿ثر ٹرانسپورٹ ریگولیٹری نظام قائم کیا جائے جو ایپ بیسڈ سروسز کو لائسنس جاری کرے اور ان پر نگرانی رکھے۔ کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کرایہ مقرر کیا جائے، سرچ پرائس کی حد متعین کی جائے، ڈرائیورز کے لیے پیشہ ورانہ تربیت لازمی قرار دی جائے اور مسافروں کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو سستی اور قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔اصل مسئلہ کسی ایک کمپنی یا چند ڈرائیوروں کا نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کا ہے۔ اگر واضح قوانین موجود نہ ہوں تو طاقتور فریق اپنی مرضی مسلط کرتا ہے اور عام شہری مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ عوام سہولت چاہتے ہیں، استحصال نہیں؛ احترام چاہتے ہیں، بدتمیزی نہیں؛ اور شفاف کرایہ چاہتے ہیں، نہ کہ پیک آور کے نام پر ایک اضافی بوجھ۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شہریوں کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے یا بے لگام منافع کو۔

مزیدخبریں