حدِ ادراک سے باہر حقِ دفاع

08:44 AM, 7 Mar, 2026

بہت دیر پہلے سنا ہوا ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ ایک موٹا تازہ شخص بازار میں ایک دبلے پتلے آدمی کو زمین پر لٹائے اس کے اوپر بیٹھ کر اسے پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ روتا بھی جا رہا تھا۔ لوگ بیچ بچاو¿ کی کوشش کر رہے تھے لیکن موٹا شخص کسی کی نہیں مان رہا تھا۔ انھی لوگوں میں سے کسی نے موٹے آدمی سے پوچھا کہ بھئی یہ کیا تماشا ہے، ایک تو تم اسے مارتے چلے جا رہے ہو اور الٹا روتے بھی خود ہی جا رہے ہو۔ موٹے شخص نے جواب دیا میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ جب بھی میں نے اسے چھوڑا یہ مار مار کر میرا برا حشر کر دے گا۔
یہ لطیفہ یوں یاد آیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے حقِ دفاع کا بہانہ بنا کر ایران پر جنگ مسلط کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران ان پر حملہ کر دیتا۔ اس سے زیادہ بھونڈا استدلال شاید ہی کبھی کسی نے پیش کیا ہو۔ کسی ملک پر محض اس خیال سے حملہ کر دینا کہ کہیں وہ پہلے حملہ نہ کر دے، اس سے زیادہ احمقانہ بات کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی لیکن کیا کیا جائے کہ امریکہ کی یہی تاریخ ہے۔ ماضی قریب میں امریکہ نے جتنے ملکوں پر بھی حملے کیے، ایسے ہی بے ہودہ بہانوں کی بنیاد پر کیے۔ چاہے وہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ ہو یا جوہری ہتھیاروں کے بہانے عراق پر حملہ، دونوں بار امریکہ ہی غلط ثابت ہوا۔ 
اب بھی امریکہ نے ایران پر حق دفاع کے جس بہانے کی بنیاد پر حملہ کیا ہے وہ بالکل لغو ہے۔ ابھی چھ سات ماہ پہلے کی تو بات ہے جب امریکہ خود کہہ رہا تھا کہ ایران پر اپنے جدید ترین طیاروں کی مدد سے حملہ کر کے اس کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ پھر وہ کس منہ سے دوبارہ ایران کی جوہری صلاحیت کا راگ الاپنے لگا اور اس پر حملے کے لیے نیا بہانہ گھڑ لیا کہ ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں اور وہ بہت جلد امریکہ یا اسرائیل پر حملہ کر دے گا۔ حالانکہ اسی دوران ایران سے مذاکرات کا شوشا بھی خود چھوڑا اور ایرانی قیادت نے بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہونے کی یقین دہانی کرائی جس پر پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو بھی سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا۔
امریکہ اور اسرائیل کا یہ حق دفاع کیسا ہے جو ان دونوں شیطانوں کو معصوم اور نہتے شہریوں پر حملوں کی اجازت دیتا ہے۔ اسرائیل کے ایرانی سکول پر حملے میں160کم سن طالبات شہید ہوئیں۔ اسرائیل اور امریکہ کو ان ننھی بچیوں سے کس قسم کا خطرہ تھا۔ اسرائیل نے اسی بہیمیت کا مظاہرہ غزہ میں بھی کیا تھا جہاں اس نے کوئی سکول چھوڑا نہ ہسپتال۔ پھر امریکہ نے سری لنکا کے قریب ایران کے ایک ایسے بحری جہاز کو تباہ کر ڈالا جو اس جنگ میں شریک ہی نہیں تھا بلکہ بھارت کے ساتھ جنگی مشقوں میں حصہ لے کر واپس لوٹ رہا تھا۔ اس جہاز پر سوار عملے میں سے بھی 80سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
امریکہ کا یہی حق دفاع امریکی صدر سے کہلوا رہا ہے کہ وہ سب سے پہلے ایران کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یقینی بنائیں گے کہ آئندہ جو بھی ایران کی قیادت کرے گا، امریکا اور اسرائیل کو دھمکی نہیں دے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای قبول نہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کی تقرری میں میرا ذاتی طور پر شامل ہونا ضروری ہے۔ ایران کی فضائی اور بحری قوت مکمل ختم کردی ہے۔ ایران کے پاس اب فضائیہ باقی ہے نہ فضائی دفاعی نظام۔ ان کے تمام طیارے تباہ ہوچکے۔ ہم ہر گھنٹے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کم کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈرعہدے چھوڑ دیں ورنہ انہیں قتل کردیا جائے گا۔ امریکی صدر نے دنیا بھر میں تعینات ایرانی سفارت کاروں سے بھی اپنی حکومت سے لاتعلقی کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی صدر ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ دو ماہ سے زیادہ بھی جاری رہ سکتی ہے۔ ایران میں آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکا نے ابھی ایران میں جنگ شروع کی ہے۔ اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل پیداواری صلاحیت ختم کردیں گے۔ ایران میں امریکی مشن اگلے مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ جنگ کی ٹائم لائن ہم خود طے کرتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اپنے صدر اور وزیر دفاع کے "افکارِ عالیہ" کی توثیق کی ہے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ فضا اور سمندر پر امریکی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ تہران کی دفاعی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہے، ڈرون حملوں میں 73 فیصد اور میزائل حملوں میں 86 فیصد کمی آئی ہے۔ مشن اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران کی عسکری طاقت بہت کمزور ہوچکی ہے، جنگ مو¿ثر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف کا حقِ دفاع امریکی قیادت سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گیا۔ ایران جنگ کے اگلے مرحلے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ایران کو سرپرائزدیں گے، سرپرائز کیا ہے یہ ابھی نہیں بتا سکتا۔ اگلے مرحلے میں باقی ماندہ ایرانی قیادت اور فوجی صلاحیتوں کو ختم کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ سمیت تمام امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ، دفاع نہیں بلکہ کھلی جا رحیت ہے۔ ننھی بچیوں کو شہید کرنا، اپنے ملک سے دور مشقوں میں مصروف بحری جہاز کو تباہ کرنا، ایرانی کی باقی ماندہ قیادت کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینا اور ایران میں اپنی مرضی کی قیادت لانے کی باتیں کرنا، اس کی فضائی اور بحری طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کرنا، اس کے سفرا کو اپنی حکومت سے لاتعلقی اختیار کرنے پر مجبور کرنا اور اس سب کے باوجود جنگ کا دائرہ کار بڑھانے کی دھمکیاں دینا کیا دفاع کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے نزدیک اگر یہی دفاع ہے تو ایسے دفاع کا حق دنیا کے ہر ملک کو حاصل ہے۔ کوئی بھی ملک یہ سوچ کر کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ کر سکتا ہے کہ کہیں وہ حملے میں پہل نہ کر دے اور اس وقت دنیا کو سب سے زیادہ خطرہ بھی اسرائیل اور امریکہ سے ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ان دونوں عالمی بدمعاشوں کی چیرہ دستیوں کے ستائے سب ملک اکٹھے ہو کر ان کے خلاف بھر پور طریقے سے اپنا حق دفاع استعمال کر ڈالیں۔ حد ادراک سے باہر اس حق دفاع کا دنیا کے دوسرے ملکوں کے ہاتھوں استعمال کا بظاہر امکان اگرچہ کم ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل اپنے طرز عمل سے دنیا کو اسی طرف دھکیل رہے ہیں۔

مزیدخبریں