واشنگٹن :امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کی ایک تازہ رپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس، ایران کو امریکی فورسز کی نقل و حرکت اور ان کی حساس تنصیبات کی براہِ راست انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی دفاعی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
روسی سیٹلائٹ اور جاسوسی نظام مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی بحری جہازوں اور طیاروں کی 'ریئل ٹائم' لوکیشن ایران کو فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مسلسل ایرانی حملوں کو روکنے کی کوشش میں امریکہ کے 'انٹرسیپٹرز' (میزائل شکن میزائل) خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔
ایران نے روسی معلومات کی بنیاد پر امریکہ کے انتہائی حساس 'کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز' اور ریڈارز کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جو ایرانی انٹیلی جنس کی اپنی محدود ہوتی ہوئی صلاحیتوں کا متبادل بن چکی ہیں۔کئی مواقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ دفاعی نظام کو چکمہ دے کر براہِ راست نشانہ لگایا، جس نے مغربی دفاعی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس کا یہ اقدام امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں الجھائے رکھنے کی ایک بڑی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، تاکہ یوکرین جنگ سے عالمی توجہ اور امریکی وسائل کو ہٹایا جا سکے۔
ماسکو اور تہران کا خفیہ گٹھ جوڑ: امریکی افواج کے خلاف روسی انٹیلی جنس کے استعمال کا انکشاف
07:28 PM, 6 Mar, 2026