عالمی سیاست میں طاقت کے توازن، مفادات کی کشمکش اور نظریاتی اختلافات نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کو ہمیشہ عدم استحکام سے دوچار رکھا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ نے پورے خطے کو خطرات میں دھکیل دیا ہے‘ایسے حالات میں انسانی جانوں کا ضیاع، عالمی قوانین کی پامالی اور طاقت کے بے دریغ استعمال نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ انسانی حقوق کے دعوے دار حلقے اس صورتحال میں یا تو خاموش ہیں یا کھل کر ایک فریق کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو ان کے اہلِ خانہ ‘ پوری ایرانی قیادت سمیت شہید کیے جانے کی خبر نے پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ کسی بھی ملک کی قیادت کو اس طرح نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد بھی حملوں کا سلسلہ نہیں رکا بلکہ ایک درسگاہ پر حملہ کر کے تقریبا 190 معصوم بچیوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ معصوم بچیوں کا خون کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے سوالیہ نشان ہونا چاہیے، مگر دنیا کے وہ حلقے جو انسانی حقوق کے علمبردار کہلاتے ہیں، اس سانحے پر بھی خاموش دکھائی دیتے ہیں۔یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کے مفادات انسانی اقدار پر غالب آ جاتے ہیں۔ اسرائیل کو اس قدر کھلی چھوٹ مل چکی ہے کہ وہ جس ملک پر چاہے حملہ کر دے اور بعض عالمی قوتیں اس کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہیں۔ اس کے برعکس امتِ مسلمہ کی خاموشی اور عدم اتحاد ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے نازک وقت میں اگر مسلم ممالک مشترکہ مؤقف اختیار نہ کر سکے تو اس کے اثرات مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے جو دلائل دیے جا رہے ہیں وہ کسی حد تک اس مثال سے مشابہ ہیں جس میں ایک ریچھ بہتے پانی میں کھڑے مینڈھے پر الزام لگاتا ہے کہ تمہاری وجہ سے پانی گدلا ہو رہا ہے۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے سے محض ایک ہفتے کی دوری پر ہے اور اسے ایسا کرنے سے روکنا ضروری ہے۔ تاہم ایران اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔اس وقت ایران کو جانی اور مالی نقصان کا سامنا ضرور ہے، مگر اس کے باوجود اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ایران کا کہنا ہے کہ بحری بیڑے لا کر دھمکیاں دینے یا جنگ کا دائرہ وسیع کرنے سے اس کے ارادے کمزور نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔روس نے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران میں رجیم چینج کی پالیسی ترک نہ کی تو یہ معاملہ تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عراق اور افغانستان میں بھی طاقت کے استعمال کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ان جنگوں میں بے شمار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے، مگر آخرکار ناکامی اور بدنامی ہی ان کا مقدر بنی۔ اگر یہی حکمتِ عملی ایران کے معاملے میں بھی اختیار کی گئی تو نتائج مختلف ہونے کی توقع کم ہی ہے۔دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور بعض مشیر یہ سمجھتے ہیں کہ صدر کو جنگی مہم جوئی کے بجائے ملکی معیشت پر توجہ دینی چاہیے۔ اس اختلافِ رائے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔اسی دوران امریکی سفیر مائک ہکابی نے ایک انٹرویو میں ایسی گفتگو کی جس نے مشرقِ وسطی میں مزید تشویش پیدا کر دی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے الہامی کتابوںکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیل سے لے کر فرات تک کا علاقہ اسرائیل کا ہے اور اگر اسرائیل اس پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس بیان پر خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت متعدد عرب اور اسلامی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسے خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک اسرائیلی طیارے فضا میں موجود ہیں اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے میزائل پروگرام یا یورینیم افزودگی کے معاملے پر کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں کیونکہ یہ پروگرام اس کی قومی سلامتی اور پرامن ترقی کے لیے ضروری ہے۔ چین نے بھی اس بحران کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسے اسرائیل کی بلا مشروط حمایت پر شرم آنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری واقعی امن چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر جنگ بندی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ او آئی سی اور دیگر مسلم ممالک بھی یہی چاہتے ہیں کہ پہلے سیز فائر ہو اور اس کے بعد مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے، مگر اسرائیل اس کے برعکس براہِ راست مذاکرات پر زور دے رہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی سائنسدانوں اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے بعض حلقے بھی یہ کہتے ہیں کہ ایران کے پاس فوری طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔ اس کے باوجود ایران کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ وہ نیوکلئر ہتھیار بنانے کے قریب ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سیاست میں شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ان تمام حالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کا کردار کیا ہونا چاہیے۔ اگر مسلم ممالک اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر متحد نہ ہوئے تو مستقبل میں انہیں مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تقسیم کمزوری کو جنم دیتی ہے جبکہ اتحاد طاقت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے۔ ذاتی اور قومی مفادات سے بالاتر ہو کر اگر امتِ مسلمہ اتحاد کا مظاہرہ کرے تو نہ صرف خطے میں امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک متوازن کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اگر یہی انتشار برقرار رہا تو خطرہ ہے کہ مسلمان ممالک ایک ایک کر کے بحرانوں کا شکار ہوتے جائیں گے اور تاریخ ایک بار پھر ہماری کمزوریوں کی گواہ بن جائے گی۔
اسرائیل۔ایران کشیدگی اور امتِ مسلمہ کا امتحان
09:09 AM, 6 Mar, 2026