ملک دشمنی کا سفر!

09:09 AM, 6 Mar, 2026

تحریک انصاف کا وجود اس کی تشکیل سے ہی تضادات کا شکار ہے۔ عمران خان کا ماضی اور ان کے قصے جو اب بھی زبان زد عام اور دہائیوں کی کہانیاں اب بھی منظر عام پر آ رہی ہیں ۔ کہیں ناجائز اولاد کے چرچے تو کہیں کم عمر بچوں کا جنسی استحصال یہ وہ حقائق ہیں جن کا تحریک انصاف اور ان کے قائد نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ ذاتی معاملات میں مداخلت کا رنگ دے کر گفتگو کا عنوان بدل دیا گیا۔ یا پھر اس شرم ناک ماضی کو مذہب کارڈ کے ذریعے دبا دیا گیا۔ الغرض ذاتی اور جماعتی سطح پر پی ٹی آئی اور اس کے مہاتما داغدار ماضی حال اور شاید مستقبل بھی رکھتے ہیں کہ ان کے کارہائے نمایاں آنے والے زمانوں میں بھی بے شرمی اور پستی کی داستان پیش کرتے رہیں گے۔
پی ٹی آئی کا وجود حمید گل کی اذان سے شروع ہوا اور پاشا کی اقامت کے بعد باجوہ کی امامت اور پھر فیض کی دعائے خیر تک سرکاری وسائل ، مشینری، پیسہ اور ساز بازی سے تعبیر ہے۔ ہر دور کی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا یہ بغل بچہ اغیار کا وہ آلہ کار ہے جس کے قصے 90 کی دہائی میں حکیم محمد سعید شہید اور ڈاکٹر اسرار احمد صاحب چیخ چیخ کر سنا چکے تھے۔ آج ان کی ایک ایک بات زیر زبر کے ساتھ من و عن درست ثابت ہو رہی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی وہ بات جو امریکیوں نے کہی کہ عمران کا خیال رکھنا وہ ہمارا بچہ ہے پھر نواز شریف صاحب کی زبان سے ایسی بات یقینا اس طرف اشارہ تھا کہ اس ناجائز بچے کو مستقبل میں کوئی اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے اور اس کی حفاظت اور لاڈ ریاست پاکستان کے ذمے لگائے گئے کہ موصوف کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچنا چاہئے کیونکہ یہ ان کا مشنری بغل بچہ ہے۔
اسرائیل، برطانیہ اور امریکہ کو ایسا ہی آلہ کار درکار تھا جو نمایاں چہرہ ہو یا اداکار ہو یا کھلاڑی اور اس میں وہ تمام خباثتیں بدرجہ اُتم موجود ہوں جو ان قوتوں کو اس پر کنٹرول کرنے کیلیے چاہیے تھیں۔ چنانچہ موصوف اعلیٰ نمبروں سے اس چناؤ میں کامیاب ہوئے اور 80 کی دہائی سے 2010 تک تمام ناز و نخروں اور لاڈوں کے ساتھ اس کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا اور بیرونی و اندرونی طاقتوں نے بھاری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اس فتنے کو پالا۔ 90 کی دہائی سیاسی لحاظ سے ہمیشہ تاریکی کے دور کی صورت یاد رکھی جائے گی ۔ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ کو ہلا شیری دی اور عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب ٹھہرے بعد ازاں نواز شریف صاحب اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید صاحبہ کے میثاقِ جمہوریت کے بعد کرتا دھرتا سوچنے پر مجبور ہوئے کہ اب ان کی دال کیسے گلے گی چنانچہ نظریہ ضرورت کا صندوق کھولا گیا اور مہاتما کو ایک مورتی کی صورت منظر عام پر لایا گیا ظہیر السلام کا یہ بیان قیامت تک جلی حروف میں لکھا جائے گا کہ تحریک انصاف اور اس کا قائد ہمارا بچہ ہے ۔ یہاں مجھے میرے سینئر استاد اور رہنما جناب گوہر فہیم بٹ صاحب کا وہ لافانی جملہ یاد آ گیا کہ مہاتما کو پالا پوسا ، پڑھایا لکھایا تین تین شادیاں کرائیں اور وزیر اعظم بنایا۔۔۔ اور پھر یقینا آصف غفور جیسے با اثر شخصیات کی باقاعدہ کھلم کھلا سپورٹ اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر پندرہ سولہ سال کی نوجوان نسل کو سرکاری وسائل پر یہ سکھایا گیا کہ یہ نجات دھندہ ہے، پاکستان وہ نہیں ہے جو آپ کے آبا اجداد نے بنایا یا اسے ترقی دی بلکہ یہ نجات دھندہ آپ کو نیا پاکستان بناکر دے گا اور یہ آپ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے چنانچہ چور چور کے شور میں پاشا نے لاہور کا وہ سرکاری جلسہ کرایا اور ہمارے سیاست دانوں کی نا اہلی ہی سمجھ لیجیے کہ وہ اس کو کاؤنٹر ہی نہ کر سکے اور یوں اقتدار کے پجاری ، ضمیر فروش ، کرپٹ لوگوں کا اکٹھ کر کے 2013 میں الیکشن کرایا گیا ۔ نواز شریف گوکہ یہ انتخاب جیت گئے مگر مہاتما ملکی اور عالمگیری سیاست کے پلیٹ فارم پر منظر عام پر آ گیا اور منصوبہ سازوں کیلئے راستہ ہموار ہوگیا۔ میرے صوبے خیبرپختونخوا کی تقدیر پر بھی وہیں سے زوال کا وہ ستارہ ظاہر ہوا کہ جس کی نحوست اب بھی برقرار ہے ۔ اور پھر پانامہ سے اقامہ اور چلتے ، ترقی کرتے پاکستان کو روک دیا گیا۔
2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر پاکستان کی کمر میں فیض حمید نے چھرا گھونپ دیا اور یوں اسرائیل ، برطانیہ اور امریکہ کا بغل بچہ اغیار کے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے اقتدار میں آ گیا۔ مہاتما کپتان نے اقتدار میں آتے ہی پاکستان کی ترقی کی شاہراہ سی پیک کو مکمل پیک کیا، یقینا یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا میں ایک نمایاں مقام پر پہنچا سکتا تھا اور یوں پاکستان ترقی اور خوشحالی کی علامت بن جاتا چنانچہ سی پیک کا منصوبہ پیک ، چین کے ساتھ معاہدات ختم ، کشمیر جسے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی شہ رگ کہا تھا، اس پر سودا بازی کشمیر کے مقدمے سے دستبرداری اور اس قصے کو تمام کر دیا گیا ۔ بھارت کو آزادی دی گئی کہ وہ جو کرے ہم خاموش رہیں گے اور جمعہ کے دن دو منٹ کی خاموشی کے سوا کچھ نہیں کریں گے ۔ چنانچہ کشمیر ہار گئے کشمیریوں کی تقدیر ہار گئی۔ تحریک انصاف کشمیر نے پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بوئے اور ایک نسل ایسی پروان چڑھی کہ جس نے بھارت اور یورپ میں بیٹھے ریشہ دوانیوں کے آلہ کاروں سے فنڈنگ لی اور کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے کا میدان سجانے لگے ۔ 
یہاں اسلام آباد میں مہاتما نے پاکستان کے تمام دیرینہ دوستوں کے ساتھ اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لیے سفارتی تعلقات خراب کئے ، بالخصوص سعودی عرب کے قابلِ صد احترام شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف انہی کے جہاز میں بکواس کی گئی اور یوں سعودیہ جیسا غم خواردوست بھی پاکستان سے الگ تھلگ ہوگیا اور زوال پذیری کا سفر اب تیزی سے شروع ہوگیا ۔ قصہ مختصر نئے پاکستان کے نام پر پاکستان کے سینے پر وہ گھائو لگائے کہ جن سے آج بھی لہو ٹپک رہاہے اور ناجانے کب تک یہ زخم رستا رہے گا۔ افغانستان سے دہشتگردوں کو ہزاروں کی تعداد میں لا بسایا ۔ اور ذاتی مفادات کیلئے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ۔ دہشت گردوں کی کھلم کھلا سپورٹ اور حمایت کل بھی کرتے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ملک سے رواداری، مساوات ، بھائی چارے اور رکھ رکھائو والی سیاست کی جگہ گالی اور عدم برداشت کو فروغ دیا تاکہ ملی و قومی یک جہتی برباد ہو اور اس طرح اغیار کے پاکستان توڑنے کے منصوبے کی تکمیل ممکن ہو سکے ۔ چنانچہ شعور کے نام پر ذلت و پستی ، نفاق کو ایسے پروان چڑھایا گیا کہ معاشرتی توازن ہی بگڑ گیا۔    (جاری ہے)


 پاکستان کی سلامتی کے ضامن ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی طرف مہاتما بڑھا اور ہر دوسرے جملے میں یہ کہتا تھا کہ ہمیں یہ پروگرام نہیں چاہئے ۔ فوج کا بجٹ زیادہ ہے ۔ فوج کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ۔ پہلے آئی ایم ایف کے پاس جانے کو موت سے تشبیہ دی گئی بعد ازاں ملک وینٹی لیٹر پر چلا گیا تو بھاری شرائط پر مالیاتی ادارے کا پروگرام لیا۔ پھر اپنے اقتدار کی آخری سانسوں پر اس پروگرام سے بھی مکر گیا جس کا خمیازہ آج بھی پاکستان بھگت رہا ہے ۔
 اقتدار سے آئینی طریقے سے باہر ہوا تو عزائم کھل کر سامنے آ گئے اور ملک دشمنی میں وہ وہ حرکات کیں کہ میر جعفر بھول جائے ۔چنانچہ اللہ پاک کے فضل و کرم سے میاں محمد شہباز شریف اور جناب سید عاصم منیر صاحب جیسے محب وطن رہنمائوں کے ہاتھ ملک کی باگ ڈور لگتے ہی اغیار کا یہ آلہ کار آپے سے باہر ہوگیا اور اب باقاعدہ طور پر غدار وطن کے طور پر سامنے آتا ہے آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض نہ دینے کے خطوط لکھے ، عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی جستجو عروج پر پہنچی اور ملک کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ جلسے جلوسوں میں پیش کیا جانے لگا ۔ اسرائیل کے اخبارات میں شائع ہونے والے آرٹیکل اور تھیوریز پھر برطانیہ کے با اثر گولڈ سمتھ خاندان جو کہ اس کا سسرال بھی ہے اس کی حمایت سے واضح ہے کہ مہاتما پاکستان کا واضح دشمن اور ملک کو ہر صورت توڑنا چاہتا ہے ۔ 9 مئی اس کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے بعد بھی بہت سے اہم بیانات اور تحریکِ انصاف کی قیادت کا رویہ واقعتا اس پیغام کو عام کر رہا ہے کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں یعنی ہم ملک توڑ دیں گے۔ گزشتہ سال پاک بھارت جنگ میں الحمدللہ سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور میاں محمد شہباز شریف کی دور اندیشی بہادری اور دانش سے پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور تاریخی فتح حاصل کی ۔ بنیان مرصوص نے دنیا کی جنگی تاریخ ہی بدل دی پاکستان کی یہ فتح اب جدید جنگی نصاب کا حصہ ہے۔
 تحریک انصاف کی ملک دشمنی اور موقع پرستی کا یہ عالم ہے کہ افغانستان کی بزدلانہ کارروائیوں ، پاکستان کی فوج اور سویلین آبادی پرحملوں کو بھی جائز قرار دے رہی ہے۔ پاکستان افغان جنگ میں تحریکِ انصاف نے افغان طالبان کی حمایت کی اے آئی کے ذریعے ان کی فتح کی ویڈیوز بنائیں ، پاکستان کی فوج کا مورال گرانے کی سازش کی اور تو اور وفاق کے ایک یونٹ خیبرپختونخوا کو وفاق کے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش جاری ہے ۔ صوبائی حکومت ملکی سالمیت کے کسی بھی اجلاس کا حصہ نہیں بنتی‘ طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرتی ہے اور نہ ریاست کو کرنے دیتی ہے بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بھونڈی بات کی جاتی ہے۔
پاک افغان جنگ میں الحمدللہ پاکستان کی مسلح افواج نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ اور اپنے اہداف کو نشانہ بناکر پاکستان دشمنوں کو چن چن کر جہنم واصل کیا ہے ۔ اس پر بھی تحریک انصاف اور اچکزئی سمیت چند ضمیر فروش چیخیں مار رہے ہیں ۔ علاقائی سالمیت کی بات کی جائے تو امریکہ اسرائیل ایران جنگ کی وجہ سے یہ خطہ اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ بالخصوص خلیجی ممالک اور سعودی عرب پر ایران کے حملوں کے بعد صورتحال گمبھیر ہے ۔ اسرائیل امت مسلمہ کو توڑنا چاہتا ہے اور اتحاد کو پارہ پارہ کر کے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا چاہتا ہے ۔ ایسے میں وزیر اعظم پاکستان کے پارلیمانی رہنمائوں کی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو ٹھکرا کر تحریک انصاف نے پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس کے نزدیک پاکستان کی سالمیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ پاکستان میں جنگ ہو ملک کو نقصان پہنچے اس میں تحریک انصاف کا فائدہ ہے اس کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اگر ملک میں امن و امان ہو گا، ترقی، خوشحالی اور استحکام ہو گا تو تحریک انصاف اور اس کے آقاؤں کے تمام منصوبوں پر پانی پھر جائے گا۔
 وقت کا تقاضا ہے کہ فارن فنڈنگ سمیت ملک دشمنی کے واضح شواہد کی موجودگی میں طالبان کے سیاسی ونگ تحریک انصاف کو مکمل بین کر دینا چاہیے۔ 9 مئی، پاک بھارت جنگ اور اب افغانستان کے ساتھ جنگ میں تحریک انصاف کا کردار ایک ملک دشمن کا رہا ہے۔ بالخصوص اس جماعت کے ڈیجیٹل دہشت گرد جو بھگوڑے ہیں انہیں بھی نشان عبرت بنایا جائے۔ اگر اس وقت تحریک انصاف سمیت طالبان کے خلاف حتمی فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ ایک صوبے کو دیگر ملک سے کاٹنے کی دھمکیاں عروج پر ہیں، خیبرپختونخوا کی حکومت کی کارکردگی اور عزائم سامنے ہیں۔ نفرتوں اور نفاق کا بیج بونے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے بصورت دیگر تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔

مزیدخبریں