طاقت کا موجودہ کھیل کسی کے حق میں نہیں

09:07 AM, 6 Mar, 2026

بالآخر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا ۔ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہے کہ امریکی عوام کو ایران سے خطرہ تھا اس لئے ہم نے ایران پر بڑا حملہ کر دیا ہے، ایران ایٹمی طاقت حاصل نہیں کر سکتا جب کہ ایرانی قیادت نے واضح کیا تھا کہ اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ ایرانی قیادت کے رہبرِ اعلیٰ ایٹم جیسے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کو جائز نہیں سمجھتے۔ایرانی قیادت کی اس وضاحت کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ شائد اب امریکہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری سے مسئلے کا حل نکالنے کے اپنے قول پر قائم رہیں گے تاہم امریکہ نے جس طرح سفارتکاری کے عمل کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا ہے، اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات کی بساط محض وقت حاصل کرنے کے لئے بچھائی گئی تھی۔
امریکہ اور اس کے اتحادی جب یہ کہتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی صلاحیت حاصل کر لینا انتہائی خطرناک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت مسلمان ملکوں کی سامراجی غلامی سے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تیل اور گیس سمیت وہ قدرتی وسائل جس کی اجارہ داری پر مغرب کی خوشحالی کا دارومدار یعنی مسلمانوں کے وسائل کو حاصل کر کے اپنی معیشت کو بڑھاتے رہو اور دوسری طرف مسلمان اپنی غریبی کے ہاتھوں معاشی اور عسکری طور پر اس قدر کمزور رہیں کہ وہ کبھی سامراجی غلامی کے چنگل سے نہ نکل سکیں۔ ایران پر امریکہ نے حملہ تو آج کیا ہے لیکن گزشتہ چار دہائیوں سے ایران کا جینا دو بھر کئے ہوئے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کیوں ہے، اس وقت تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ بش کی طرح ٹرمپ کو بھی امریکہ کی طاقت کا کچھ زیادہ احساس ہے۔ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ جو وہ سوچتے ہیں وہی صحیح ہے کیونکہ وہ امریکہ کے صدر ہیں اور امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ اپنے سے نسبتاً کم یا بہت کم طاقت رکھنے والے ملکوں کو تباہ کرنے کے لئے ہی طاقتور بنا ہے؟ طاقتور ممالک ہمیشہ طاقت کے زعم میں نہیں رہتے کیونکہ اس سے ان کی طاقت کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔ سابق امریکی صدر جارج واکر بش کو امریکہ کی طاقت کا بڑا بھرم تھا، وہ سمجھتے تھے کہ افغانستان اور عراق کے لوگ آسانی سے شکست قبول کر لیں گے مگر ایسا نہیں ہوا، پھر صدر ابامہ کو عراق جنگ ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ وہ عراق جنگ سے امریکہ کو نکالنے میں کامیاب رہے۔ دنیا میں امن کے حوالے سے ابامہ کا رویہ مقابلتاً ٹرمپ اور بش سے بہتر تھا، انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کا پر امن حل تلاش کرنے کے لئے ہی 2015ء کا معاہدہ کرانے میں سہولت کاری کا مظاہرہ کیا تھا، وہ طاقت کا ہمیشہ اور بے جا استعمال کرنا نہیں چاہتے تھے۔ ابامہ نے کوشش کی تھی کہ امریکہ کا امیج ایک ایسے ملک کا نہ رہے جس کے پاس مسئلوں کا حل نکالنے کے لئے جنگ کے سوا کچھ نہیں۔ ابامہ کے امریکہ کا صدر ہونے کی وجہ سے ہی ایران اور 6طاقتور ملکوں کے مابین ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدہ ہو سکا۔ امید کی جا رہی تھی کہ یہ معاہدہ بڑے دور رس نتائج کا حامل ہو گا اور دیگر تنازعات کے پر امن حل کے لئے ایک نظیر بنے گا۔ لیکن اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی ایک ایسے شخص برسرِ اقتدار آ گئے جن کی سوچ صرف یہی ہے کہ جو انہوں نے کہہ دیا وہی درست ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری ہمہ گیر حملوں کے ساتھ عالمی سیاست ایک بار پھر طاقت کے بے لگام استعمال کے وحشیانہ روش کی طرف لوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی سفاکیت کے ذریعے دنیا کے مسلمہ اصولوں، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور جنگوں سے متعلق طے شدہ ضوابط سب کو بری طرح پامال کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری انسانیت کے لئے لمحہ فکریہ ہے، جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ عالمی قوانین واضح کرتے ہیں کہ حالتِ جنگ میں بھی عام آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی قیادت اور ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر مٹا دینا بھی کسی بھی تنازع کے پر امن حل کے دروازے بند کر دیتا ہے کیونکہ بالآخر مذاکرات سیاسی قیادت کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں، مگر ایران پر ہونے والے حملوں میں بد قسمتی سے یہ تمام حدود پامال ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ امریکہ اورا سرائیل نے تمام اصولوں کو نظر انداز کر دیا اور ابتدائی حملوں میں ہی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنا دیا جہاں درجنوں طالبات جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ساتھ ہی عسکری و سیاسی قیادت کو چن چن کر ہلاک کیا گیا۔ یہ اقدام جنگی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ایسا مہذب اقوام نہیں کرتیں بلکہ وحشی درندے کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل ساری دنیا کے سامنے کر رہے ہیں۔
امریکہ کے موجودہ صدر کی جارحانہ پالیسیوں نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ عالمی نظم و نسق اب دباؤ اور دھونس پر استوار ہو رہا ہے اور اس منظر نامے میں اب اقوامِ متحدہ کا ادارہ وجود کھو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اورا سرائیل کے گٹھ جوڑ نے طاقت کے بے دریغ استعمال سے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ عالمی قوانین، انصاف کے معیارات، سفارتی آداب اور اخلاقی اصولوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، وہ عقل و منطق کی بجائے صرف طاقت کے استعمال ہی کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں یہ قطعی ضروری نہیں کہ کسی ریاست یا اس کے رہنماؤں اور عوام سے امریکہ اور دہشت گردی کے عالمی مراکز اسرائیل کے مفادات کو حقیقی خطرات یا تحفظات ہی لاحق ہوں۔
صدر ٹرمپ لگتا ہے کسی ہیجانی ذہنی کیفیت میں ہیں اور وہ امریکہ کو دنیا میں ایک ایسی ناقابلِ تسخیر قوت کے طور سامنے لانا چاہتے ہیں جس کے سامنے کسی کو سرتابی کی جرأت نہ ہو سکے چاہے اس کے لئے دنیا میں کتنی ہی کشیدگی کیوں نہ پیدا ہو جائے۔ امریکہ سمجھتا تھا کہ ایران امریکہ جتنی طاقت نہیں رکھتا لیکن ایران نے ثابت کیا ہے کہ اس کے ہاں جذبہ ایمانی بہت زیادہ ہے وہ اپنی حفاظت کر سکتا ہے، ٹرمپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایران کی طرف سے اس قدر سخت ردِ عمل آئے گا۔ ٹرمپ نے بات اگر جنگ تک پہنچا دی تو دی ہے لیکن ایران نے ثابت کے ہے کہ یہ جنگ ایران کے لئے تو تباہ کن ہو گی مگر امریکہ کے لئے بہت مہنگی پڑے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس جنگ نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اس کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی تنازعات، خانہ جنگیوں اور پراکسی معرکوں سے زخم خوردہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے عالمی برادری فوری اور مٔوثر کردار ادا کرے کیونکہ طاقت کا یہ کھیل کسی حق میں نہیں۔

مزیدخبریں