بین الاقوامی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کی نئی لہر سے پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک بھی لپیٹ میں آگئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے ساتھ افغانستان آئی ایس کے پی کی دہشتگردانہ سرگرمیوں اور ان کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ افغانستان میں داعش اور دوسری دہشتگرد تنظیموں کو طالبان کے دور حکومت میں ایک سازگار ماحول میسر ہوا ہے جس سے ان دہشتگردوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ دیگر مشہور دہشت گرد گروہ جیسے مشرقی ترکستان اسلامی تحریک، جماعت انصار اللہ جس کو تاجکستانی طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے، تحریک طالبان پاکستان اور افغانستان میں درجنوں دیگر گروہوں کو طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے جب کہ افغانستان میں پناہ گزین دہشتگردوں نے افغان شہریت بھی لے رکھی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ بلا امتیاز کام کر رہے ہیں جو علاقائی اور عالمی مقاصد کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ حالیہ تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اہم مطلوب دہشتگردوں کی جنت بن چکا ہے۔
پاکستان تو کئی دہائیوں سے افغان دہشتگردی سے متاثر ہے ہی، مگر اب پورا خطہ بھی افغان سر زمین سے ہونے والی دہشتگردی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا، سرحدی حملے اور انسانی بحران بڑھ رہے ہیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ طالبان دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے اور انہیں بلا روک ٹوک سرحد پار کارروائی کی اجازت دیتے ہیں۔
افغانستان ایک بار پھر دہشت گرد گروہوں اور ان کے معاونوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے تباہ کن نتائج پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان اور خطے میں سامنے آ رہے ہیں۔ داعش کے القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہ افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانوں میں موجود ہیں اور سرحد پار حملے، خودکش دھماکے اور دیگر کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ مندوب نے بھارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخالف فریق نے افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مالی، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کر کے بڑھاوا دیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار سال کے دوران طالبان حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے کیے مگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بجائے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا۔ 2025 میں افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان میں تقریباً 1,200 افراد جاں بحق ہوئے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن کے دوران پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر خودکش بمبار سمیت دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز کے اگلے دستے نے گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو بروقت روک کر اس کے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔ مایوسی کے عالم میں خوارج نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی، جسکے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہو گئے۔ بنوں میں اس خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے ملتے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری بھی اس کے ماتحت کام کرنے والے ذیلی گروہ ’’اتحاد المجاہدین‘‘ نے قبول کی۔اس گروہ کا مرکزی سرغنہ حافظ گل بہادر اور اس کے اہم کمانڈر افغانستان میں پناہ گزین ہیں۔ اِس سے قبل اسلام آباد میں ترلائی کے علاقے میں 6 فروری کو امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 36 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025ء میں واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران دہشت گردی نمایاں طور پر بڑھی، دہشت گرد حملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں کم از کم ایک ہزار 34 افراد جاں بحق اور ساڑھے 13 سو سے زائد زخمی ہوئے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 2021ء میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں تیزی آئی۔افغان طالبان رجیم دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہے، وہاں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جس کی وجہ سے خطے میں اَمن کی کوششیں مسلسل سبوتاڑ ہو رہی ہیں۔ خوارج رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی پاکستان میں کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آ رہے، اِن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے ذمہ داروں کے خلاف کسی قسم کا ضبط یا تحمل نہیں برتے گا اور ان کی موجودگی سے قطع نظر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
افغانستان ،دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ
09:06 AM, 6 Mar, 2026