ٹوٹے ہوئے جوتوں والا آدمی سید علی خامنہ ای

09:05 AM, 6 Mar, 2026

سید علی خامنہ ای کی سیاسی بصیر صرف ایران کے تہذیبی سلسلے کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ اسلام کے سیاسی نظریات سے تشکیل پانے والی حکمت عملی رہی ہے۔ یہ ان مذہبی معاشروں کا موضوع بحث ہو ہی نہیں سکتی جہاں کبھی معاشی اور سیاسی نظام کا واضح ڈھانچہ ہی موجود نہ رہا ہو اور جہاں طہارت اور لباس کے فقہی مسائل، معاشرہ سازی اور کردار سازی سے کہیں زیادہ اہم ہوں۔ میں کسی بھی طرح کی مذہبی یا فقہی تفصیلات میں جائے بغیر چند بنیادی سی باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ایپی کیورس کی دنیا سے لے کر آج تک، سادگی دنیا کا خوبصورت ترین فیشن ہے۔ سادگی سب سے بہترین دفاع اور اعلیٰ ترین قوت ہے۔ سادگی اقتدار کا غیر معمولی مظہر اور فرد اور قوم کی نا قابلِ تسخیر قوت ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ایک نہایت اہم اور بڑے ملک کے صدور کا سادہ ترین زندگی گزارنا، جائیدادیں اور جاگیریں نہ بنانا اور کسی بھی طرح کے تعیش کو نہ اپنانا اگر کوئی اتفاقی عمل ہوتا تو یہ عمل دنیا کے دیگر اسلامی ممالک میں بھی دیکھنے کو ملتا۔ محمود احمدی نژاد ایران بلکہ دنیا کے با اثر افراد میں شامل ہیں۔ انھوں نے صدارت چھوڑنے کے بعد میٹرو بس سے سفر کیا اور پھر سے یونیورسٹی میں پڑھانے لگے۔ بیٹے کی دعوتِ ولیمہ پر قالین بچھا کر مہمانوں کو کھانے کے لیے تھوڑے سے پھل پلیٹ میں پیش کیے۔ ایسی ہی صورتحال حسن روحانی اور ابراہیم رئیسی کی بھی دیکھی گئی۔ خصوصاً ابراہیم رئیسی نے بالکل سادہ زندگی گزاری اور استعمار کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ سیاست دان تو ایک طرف ایٹمی سائنسدان اور اہم دفاعی عہدوں پر فائز شخصیات نے بھی جاگیر داری، دولت مندی یا زمینداری کا رجحان نہیں پکڑا۔ جنرل قاسم سلیمانی کو پوری دنیا کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کا گھر ایران کے عام لوگوں جیسا ہے اور ان کے بچوں کا طرز زندگی بھی ہمیشہ بالکل عام لوگوں جیسا ہی رہا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ایران ترقی یافتہ نہیں ہے یا غربت کا شکار ہے۔ایسی صورت میں ممکن ہے کہ لوگوں کے پاس ثروت مندی کا کوئی موقع ہی موجود نہ ہو۔ جب کہ در حقیقت ایران ایک ترقی یافتہ ملک رہا ہے۔ یہ زندگی کے ہر میدان میں خود کفیل اور خود مختار رہا ہے۔ ایران نے اپنے میزائلوں سے لے کر میڈیسن اور کھانے پینے کی اشیا خود پیدا کی ہیں۔ انجینئرنگ کے میدان میں دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا۔ ایک ایک شہر کا انفراسٹرکچر جدید یورپی ممالک سے بہتر رہا ہے۔ تہران میں ہزاروں بلند و بالا ایسی عمارتیں موجود ہیں جنھیں ہم جدید انجینئرنگ کا شاہکار سمجھتے ہیں۔ ایران کی سیلیکون ویلی تیز ترین تحقیق میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی طرح تعلیم و تحقیق کے شعبے میں ایران کی یونیورسٹیوں نے دنیا کی بہترین تحقیق پیش کی ہے ۔ 
ان چند باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی اہم شخصیات بڑی آسانی سے وسائل پر قبضہ کر سکتی تھیں بلکہ ملکی اور غیر ذرائع کے استعمال سے یہ لوگ پر تعیش زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن کسی سطح پر بھی ایسا نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں نہ کوئی جیفری اپسٹین کار آمد ثابت نہیں ہو سکتا تھا۔ ایپسٹین جیسے زہریلے ہتھیار ان معاشروں میں استعمال ہوتے ہیں جہاں ریاکاری، مادہ پرستی اور ارتکاز دولت کا فیشن رائج ہو۔ دکھاوے اور فیشن کو مذہبی دستانے پہن کر بیچا جا سکتا ہو اور روحانیت کو زبان کا چسکا بنا لیا گیا ہو۔جن معاشروں میں عیاشی کو امیری تصور کیا جائے اور استحصال اور ذخیرہ اندوزی کو برکت اور نعمت اور رحمت کے معنی پہنا دیئے جائیں طاغوت بڑی آسانی سے اپنی مقصود بادشاہتیں قائم کر لیتا ہے۔ 
جب ملک کے حکمران سادہ ترین زندگی گزارنا سیکھ لیں تو نہ انھیں عوامی مقبولیت سے کوئی دور رکھ سکتا ہے اور نہ ہی اس ملک کو عالمی طاقت بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ بصیرت آیت اللہ خمینی سے براہ راست آیت اللہ خامنہ ای نے حاصل کی۔ سید علی خامنہ سادہ اور پرانے گھر میں رہنے والا سپریم لیڈر، معمولی پوشاک میں ملبوس حسین و جمیل آدمی، معمولی جوتے پہنے ہوئے، جن کی سلائی بھی اکثر خراب ہو جاتی تھی۔ لیکن عالم ایسا کہ تحفہ العوام میں دنیا کے کروڑوں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہو۔ 
 حالیہ جنگ میں پوری دنیا نے دیکھا کہ شہادت کے لیے بھی انھوں نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کو پہلے منتخب کیا۔ اپنی زوجہ، بیٹی، داماد اور نواسی کو راہِ خدا میں قربان کر دیا۔ بات صرف شہادت کی نہیں۔ بات ہر اس قول کی ہے جسے انھوں نے سچا کر دکھایا۔ اس وعدے کی ہے جو ہر حال میں تکمیل کو پہنچا۔بلکہ بات در اصل انسان کے اس تعارف کی ہے جس سے ابھی امریکہ اور اسرائیل جیسے ملک واقف ہی نہیں ہیں یعنی ایک بڑا آدمی ہزاروں سال پر محیط زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کی سچائی اور وعدے کی پاسداری اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتی ہے۔ اس کا موقف جیت جاتا ہے۔ 
آیت اللہ خامنہ ای کسی خفیہ مقام پر منتقل نہیں ہوئے چوں کہ ایرانی عوام کسی خفیہ مقام پر نہیں لے جائے جا سکتے تھے۔ ان کی بیٹی، زوجہ سمیت گھر والے عام جگہ پر موجود تھے چوں کہ ایران کے سبھی خاندان عام جگہوں پر ہی قیام پذیر تھے۔ بظاہر یہ بات لوگوں عجیب لگے یا شاید حیران و پریشان کرے لیکن یہی بات ایسے موقع پر ایک شخص کو رہبریت کا مقام تفویض کرتی ہے۔ ایک معمولی اور بڑے آدمی میں یہی فرق ہوتا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ پورا یورپ، امریکہ اور اسرائیل اپنے نا اہل اور عیاش حامیوں اور سہولت کاروں سمیت اپنا اخلاقی وجود کھو چکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ خود اپنی ہی نگاہوں میں گر کر اجتماعی موت کے گڑھے میں گرنے کو یہ صدی مادی فتح قرار دے گی یا جدید دنیا کا انسان یہ سوچے گا کہ عالمی معیارات کو طاقت کے نشے سے چور یہ مسخرے ایسے ہی طے کریں گے ؟ کیا ان کے بنائے گئے فیشن اور اصولوں پر انسانیت گزارا کر سکتی ہے؟ اگر نہیں تو ان سب کو کم از کم ایسے ہی دھتکاریے جیسے کئی صدی پہلے ایسے مسخروں کو بادشاہوں اور ملوکیتوں سمیت مسترد کیا گیا تھا۔  ورنہ آپ کا اپنا اخلاقی وجود بھی خطرے میں رہے گا۔

مزیدخبریں