اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو!

09:05 AM, 6 Mar, 2026

چودہ سو برس قبل بتا دیا گیا تھا کہ ہنود و یہود تمہارے دوست نہیں ہو سکتے جنہوں نے اس پر یقین کر لیا وہ فائدے میں رہے جو اس کے برعکس تجربات کرتے رہے وہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ گھر کی مثال لے لیجئے آئے دن نیتن یاہو کو یہ کہتے دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہمارے راستے کی رکاوٹیں دو ملک ہیں، پہلے ہم ایران سے نمٹیں گے پھر پاکستان کی خبر لیں گے۔ اس کی دوسری مثال انہی طاقتوں کا وہ ایجنڈا ہے جس کے مطابق عراق، مصر، لیبیا، شام، فلسطین، سوڈان، صومالیہ اور کشمیر پر مختلف بہانوں سے قبضے ہوتے رہے۔ ہم برصغیر سے ایک ایسٹ انڈیا کمپنی کو نکالنے میں تو کامیاب رہے پھر ہم نے اپنی پسند کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے دامن میں پناہ لے لی، نتیجہ سامنے ہے فائدے میں وہ رہے جو سوئی سے لے کر جہاز تک بنا رہے تھے جو زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک میں خودکفیل نہ ہو سکے، ان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر اور درآمدات کے انبار ہیں۔ جنہوں نے قرضوں کے اتنے بڑے انبار ہمارے سروں پر لاد دیئے ہیں کہ ان سے جان چھٹتی نظر نہیں آتی۔ کرپٹ اور اللے تللوں میں الجھی قوموں کا کیا حال ہوتا ہے۔ یہ ہم اپنی آنکھوں سے آج دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ کو اڈے دینے والے ممالک ان اڈوں کی تباہی کے بعد ایک دوسرے سے تعزیت کے لئے اکٹھے ہوئے۔ ان میں وہ تخریب کار بھی بیٹھا تھا جس کے سر کی قیمت امریکہ نے کئی ملین ڈالر مقرر کی پھر اسے ہی شام کی حکومت کو ختم کر کے برسر اقتدار لایا گیا اس نے رونی صورت بناکے قریب بیٹھے متمول ترین ملک کے امیر سے کہا کسی کی بھی جارحیت سے اگر تمہیں کوئی محفوظ رکھ سکتا ہے تو وہ تو بہادر دل، غیرت سے بلند سر اور سونی ہوئی تلوار ہے۔ کمزور قوموں کی کوئی دلیل نہیں ہوتی، انہیں بنا کسی دلیل کسی بھی بہانے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ملک و قوم کی عزت و وقار اور آزادی کے لئے صرف دولت کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے مسلمانوں کو ہر زمانے میں اپنے گھوڑے اور تلواریں تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو سو منزلہ عمارتیں لگژری جہاز اور جدید ترین کاروں کے فلیٹ ہمیں کچھ نہیں دیتے ، ہمارے بے دست و پا ایوان کسی سے پوچھنے کی جرأت نہیں رکھتے کہ تم نے کیا کس کو کتنی قیمت پر اور کیوں بیچا لیکن امریکی عوام کانگریس اور سینٹ سے ڈونلڈ ٹرمپ کو کٹہرے میں کھڑے کر کے پوچھ لیا ہے کہ ایران پر حملے کا جواز کیا تھا۔ سینٹ و کانگریس ارکان نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ ان پر اس قدر تنقید ہوئی یوں لگا جیسے ٹرمپ ابھی رونا شروع کر دیں گے پھر وہ میڈیا ٹاک کے لئے آئے تو ان کا رنگ زرد چہرہ لٹکا ہوا اور کندھے جھکے جھکے سے تھے۔ دور سے دیکھ کر بتایا جا سکتا تھا کہ ایک شکست خوردہ شخص چلا آرہا ہے۔ شکست بھی وہ جسے دنیا آج شرمناک ترین شکست کہہ رہی ہے۔
جنگ کے پہلے رائونڈ میں اسرائیل و امریکہ ناک آئوٹ ہوئے ہیں۔ انہو ںنے دنیا کی خوشنودی کے لئے نہیں اپنی کھال اور ساکھ بچانے کے لئے جنگ کے تیسرے دن جنگ بندی کے لئے قطر اور اٹلی سے رابطہ کیا۔ ان پہلے تین دنوں میں امریکہ کے سات آراستہ ترین فوجی اڈے راکھ کا ڈھیر بنا دیئے گئے۔ تل ابیب، حیفہ، اشکلون اور ان کے چار نواحی شہر کھنڈر بن گئے۔ سیکڑوں امریکی و اسرائیلی مارے گئے جبکہ دونوں کی کمر اس وقت ٹوٹی جب پانچ ہزار کلومیٹر کی نگرانی اور دفاع کرنے کے لئے لگایا گیا۔ دفاعی نظام ایک میزائل نے اڑا کے رکھ دیا جبکہ فضا میں اڑتے دس سے پندرہ لڑاکا جہاز بشمول ایف15اور فینٹم 35 یوں گرائے گئے جیسے بچہ غلیل سے چڑیا مار گراتا ہے۔ ایران نے اسرائیل کا نیوکلیئر پلانٹ تباہ کیا تو اسرائیلیوں کو معلوم ہوا کہ یہ پلانٹ کہاں لگایا گیا تھا۔ اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھانڈا فلسطینی مجاہدین نے پھوڑ دیا۔ اب امریکہ کی دفاعی طاقت اور اس کے اسلحے کے پول ایران نے کھول دیئے ہیں۔ آئرن ڈوم ڈھونگ ثابت ہوا، پینٹاگون کی پینٹ اتر گئی۔ عرب ممالک شکوہ کرتے نظر آئے کہ کڑے وقت میں امریکہ ان کی حفاظت نہیں کر سکا جبکہ حفاظت کے نام پر انہیں فروخت کیا گیا اربوں ڈالر کا دفاعی نظام کچھ تو ناکارہ بنا دیا گیا کچھ وہ تباہ ہونے سے بچانے کے لئے وہاں سے اکھاڑ کر لے گئے۔ عربوں کو حفاظت کے نام پر جس طرح امریکہ نے لوٹا ہے، اب ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ امریکہ کے چنگل سے نکلنے کا یہ ان کے لئے آخری موقع ہے۔ مسلمان ممالک متحد ہو جائیں، اسلامی نیٹو بنائیں اور اپنے اندر ایٹم بم چلانے، بنانے اور فروخت کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کریں۔ قبل اس کے کہ ان پر کوئی اور ایٹم بم چلا دے۔
امریکی صدر سے ایک طے شدہ سوال پوچھا گیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا نیوکلیئر آپشن موجود ہے، اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی ائیرکرافٹ کیریئر ابراہام لنکن پہنچا دیئے گئے تھے۔ زمین فضا اور سمندر میں ایران کی طرف سے سخت جواب ملنے کے بعد امریکی سپاہ کے حوصلے ٹوٹ چکے ہیں۔ اب انہیں آمادہ جنگ رکھنے کے لئے مذہب کارڈ استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جنگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم پر شروع کی ہے لہٰذا اسے مذہبی فریضہ سمجھ کر میدان جنگ میں اتریں۔ امریکیوں کو فلسفہ شہادت سمجھ میں نہیں آئے گا لیکن ملٹری یونٹوں اور فضائی اڈوں کے کمانڈروں کو حکم دیا گیا ہے کہ اس گھڑے گھڑائے تصور کے پرچار اور امریکی سپاہیوں کی زمین سازی کے لئے ہر چند روز بعد ایسی تقریب کا انتظام کیا جائے جہاں انہیں اس فلسفے کا اسیر بنانے کے لئے مختلف شخصیات کے لیکچر رکھے جائیں۔
مختلف مسلمان ممالک میں امریکی اسرائیلی اور نیٹو یلغار کے نتیجے میں زخموں سے چور مرد ، خواتین اور کمسن بچوں نے جس صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ دنیا کو ہمیشہ یاد رہے گا پھر بھوک پیاس سے نڈھال اور زخموں سے چور کمسن شامی بچی کسی کوکیسے بھول سکتی ہے جس نے ایک صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گی اور اپنے اوپر ظلم کرنے والے درندوں کی شکایت لگائے گی۔ شامی بچی دیگر بچوں کے ساتھ خدا کے حضور پہنچ گئی، اس نے اپنی شکایت بھی پیش کر دی، اب اس شکایت کے ازالے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ایرانی قیادت ایرانی سپاہ اور ایرانی عوام کو مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے دنیاوی شیطانوں کو عبرتناک سزا دینے کے لئے ان کا انتخاب کیا ہے۔ شیطانوں کو سزا دینے کے بعد شیطان کے چیلوں پر توجہ دینا ہو گی۔
اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

مزیدخبریں