ایران غیور اور طاقتور ہے، بالاخر اسے معاہدہ کرنا ہی پڑے گا:ٹرمپ کا اعتراف

09:49 AM, 6 Jun, 2026

نیویارک / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ فوجی کشیدگی پر اپنے گہرے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی قومی غیرت اور عسکری طاقت کا اعتراف کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی غیور اور طاقتور فطرت کے باعث اب تک جنگ بندی کے معاہدے کو قبول نہیں کیا، لیکن موجودہ حالات میں تہران کے پاس ایک نئی سفارتی ڈیل کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا"آبنائے ہرمز میں جیسے ہی سیکیورٹی کی صورتحال معمول پر آئے گی، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ امریکہ عالمی تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔
یہ اہم ترین سیاسی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی پانیوں میں دونوں ممالک کے درمیان شدید فوجی تناؤ دیکھا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، ایران کی جانب سے داغے گئے 4 خودکش ڈرونز کو مار گرانے کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے اپنے دفاع میں ایران کے ساحلی شہر گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع حساس ریڈار تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
اس کے برعکس ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایران نے کوئی حملہ نہیں کیا بلکہ خطے میں امریکی بحری جہازوں کی مشکوک موجودگی پر انہیں پیچھے ہٹانے کے لیے صرف "انتباہی فائر" (وارننگ فائر) کیے تھے۔دفاعی ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں فوجی طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایران کو معاشی اور سفارتی سطح پر گھٹنے ٹیکنے اور نئی شرائط پر ڈیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

مزیدخبریں