امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تصادم: ایران کے 4 ڈرونز مار گرائے گئے، گوروک اور قشم میں ریڈار تنصیبات تباہ

09:15 AM, 6 Jun, 2026

واشنگٹن : آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کی افواج ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے اندر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایران نے امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے ایران کے ساحلی علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم پر بمباری کر کے وہاں موجود اہم ریڈار تنصیبات کو ناکارہ بنا دیا ہے۔
امریکہ کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایران نے امریکی بحری جہازوں کی طرف 4 خودکش ڈرونز روانہ کیے۔ امریکی دفاعی نظام نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاروں ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور اس کے فوراً بعد اپنے دفاع میں ایران کی ریڈار پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔
تہران سے ایرانی خبر رساں ایجنسی نے امریکی دعوؤں کے برعکس صورتحال کو مختلف رنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز کے حساس پانیوں میں امریکی بحری جہازوں کی جارحانہ موجودگی کو چیلنج کیا تھا۔
    امریکی بحری جہاز خطے میں کشیدگی پھیلا رہے تھے۔
    ایرانی فورسز نے حملے کی نیت سے نہیں، بلکہ امریکی بیڑے کو دور رکھنے کے لیے انتباہی فائر (Warning Fires) کیے۔
    ایران اپنی سمندری حدود کی نگرانی اور دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔یہ فوجی ٹکراؤ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت چل رہی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو امریکی افواج کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں اس تازہ ترین جھڑپ کے بعد بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں پر سیکیورٹی کے خطرات انتہائی سنگین ہو گئے ہیں۔

مزیدخبریں