بچی کی ہلاکت اور بیان بدلیاں

09:09 AM, 6 Jun, 2026


ماڈل ٹاو¿ن لاہور میں ایک بچی کی ہلاکت کے حقائق کا منظر ابھی تک دُھندلا ہے، ہمارے بیشمار گھروں میں بیشمار بچیاں کام کرتی ہیں، کچھ لوگ ان بچیوں کو اولاد کی طرح رکھتے ہیں، کچھ اُن کے ساتھ ایسی درندگیوں کے مظاہرے کرتے ہیں انسانیت ہل کر رہ جاتی ہے، بچی کی ہلاکت کے اصل حقائق کُھل کر منظر عام پر نہیں آ رہے، ہمارا میڈیا، سوشل میڈیا اور متعلقہ افسران مختلف کہانیاں بیان کر رہے ہیں، اس ہلاکت کی پہلی ایف آئی آر تھانہ ماڈل ٹاو¿ن لاہور میں اُنتیس اپریل دو ہزار چھبیس کو صبح آٹھ بجے درج ہوئی تھی، بچی کے بیان کے مطابق وہ نومبر دو ہزار پچیس سے اس گھر میں بطور ملازمہ کام کر رہی تھی، اس دوران اُس گھر کی مالکہ کے بیٹے اور ڈرائیور نے کئی بار اُس سے زیادتی کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی، گھر کی مالکہ کو جب پتہ چلا اُس نے اُس کا ابارشن کرا دیا۔ ایف آئی آر لمبی چوڑی ہے میں نے اس کا مختصر متن پیش کیا ہے، اس ایف آئی آر کے بعد بچی کا مجسٹریٹ کو دیا ہوا ایک بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں وہ کہہ رہی ہے ”اُس کے ساتھ زیادتی اُس گھر کے صرف ڈرائیور نے کی ہے“۔ تہہ تک پہنچنے والی بات یہ ہے لڑکی نے بیان کیوں بدلا؟ ہمارے ہاں بیان بدلوانے اور بدلنے کی گندی روایت بہت پُرانی ہے، حتیٰ کہ کرائے کے کچھ گھٹیا لوگ عدالتوں کے باہر قرآن لے کر جھوٹی گواہی دینے یا بیان بدلنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، ہمارے اپنے ساتھ ایک واردات حال ہی میں ہوئی ہے، میرے بھتیجے احمد جاوید کے قتل کے فوراً بعد اسی واردات میں شدید زخمی ایک شخص نے ہسپتال پہنچتے ہی پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا اور اصل قاتل کا نام بتایا، اُس وقت شاید اُسے اپنے بچنے کی کوئی اُمید نہیں تھی، جب موت سامنے کھڑی ہو جھوٹ بولنے کا تصور بھی کوئی نہیں کرتا، اُس کے بعد اصل قاتل کے وارثوں نے موقع کے اُس زخمی گواہ کو مینج کیا اور جہلم کی کسی عدالت میں لیجا کر اُس سے بیان بدلوا دیا، ظاہر ہے یہ سودا مفت میں نہیں ہوا ہو گا؟ اللہ جانے لوگوں کے دل اتنے پتھر کے کیسے ہو جاتے ہیں؟ روایتی قاتلوں، قبضہ مافیا یا سیاسی ڈاکوو¿ں کے دل عموماً پتھر کے ہی ہوتے ہیں،کسی کے مرنے جینے سے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر جو شخص قبر میں اُتر کر واپس آیا ہو، جسے اللہ نے نئی زندگی دی ہو، وہ اللہ کے اس انعام کا بدلہ ظالموں کا ساتھ دے کر کیسے چُکا سکتا ہے؟ وہ اتنا سنگدل کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ موت کے منہ سے نکلنے کے بعد اپنا ضمیر کیسے بیچ سکتا ہے؟ اور اس سے بھی بڑھ کر ہماری کوئی عدالت حقائق جانتے ہوئے اُس کے پہلے بیان سے مکمل چشم پوشی کر کے اُس کے دوسرے بیان کو بنیاد بنا کر ملزم کی ضمانت کیسے لے سکتی ہیں؟ پر کیا کریں یہ پاکستان ہے یہاں سب ممکن ہے، ”پاکستان کا مطلب کیا؟ پیسے ساہڈے ہتھ پھڑا، جیڑا مرضی کام کرا“۔ پاکستان کی تباہی کی سب سے بڑی ذمہ دار ہماری عدلیہ ہے، ہمارے کچھ ججوں کو احساس ہی نہیں ہے اللہ نے کتنے بڑے منصب پر اُنہیں بٹھایا ہے، اس منصب پر بیٹھا کوئی بھیڑیا اپنے کسی ذاتی و مالی مفاد کے لیے انصاف کی جب دھجیاں اُڑاتا ہے وہ اللہ کے قہر سے نہیں بچ سکتا، احمد جاوید کا صابر شاکر باپ عادل رشید، احمد جاوید کی بوڑھی دادی، احمد جاوید کے قتل سے لے کر اب تک شدید بیمار اُس کی ماں، اُس کی بیوہ اُس کا چار سالہ معصوم بچہ قاتلوں اور اُن کے سہولت کاروں کو جو بدعائیں دیتے ہیں وہ کبھی رد نہیں ہوں گی، جہاں تک ماڈل ٹاو¿ن کے ایک گھر میں زیادتی کے بعد بچی کی ہلاکت کا معاملہ یا معمہ ہے اُمید ہے لاہور کے شعبہ انویسٹی گیشن کے وہ افسران اسے جلد از جلد حل کر لیں گے جن کی شہرت اس سے پہلے ان سیٹوں پر بیٹھے کچھ گھٹیا پولیس افسروں سے بہت اچھی ہے، پہلے والے بے ایمانی کے بلند ترین مقام پر تھے، یہ اُس مقام پر نہیں ہیں، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کو جتنا میں جانتا ہوں اُمید ہے وہ اس کیس میں کسی کی طرفداری نہیں کریں گے، مقتول احمد جاوید قتل کیس میں بھی وہ کسی پریشر کو خاطر میں نہیں لائے تھے، البتہ یہ درست ہے بعض اوقات ہمارے کچھ حکمران یا افسران سوشل میڈیا کا اس قدر پریشر یا اثر قبول کر لیتے ہیں کسی واقعے یا واردات کے اصل حقائق سامنے لانے میں اُنہیں شدید دشواری ہوتی ہے، کچھ دوست پولیس افسروں نے اس کیس میں آف دی ریکارڈ جو مجھے بتایا وہ تفصیلات انتہائی تکلیف دہ ہیں، اس کیس میں بچی کے والدین کو کسی طرح بے قصور قرار نہیں دیا جا سکتا، رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے وہ پتھروں میں کیڑوں کو بھی ملتا ہے، پھر اللہ جانے کیوں چند ٹکوں کی خاطر کچھ لوگ اپنی بچیوں کو دو دو ٹکے کے دولت مندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بعد میں پتہ ہی نہیں کرتے وہ کس حال میں ہیں؟ اُنہیں صرف ان بچیوں کو ملنے والی تنخواہ سے غرض ہوتی ہے، یہ بچیاں جس طرح اپنے والدین کو پالتی ہیں اس کا درد وہی جانتی ہیں، میں ہمیشہ کہتا ہوں۔ دُنیا میں صرف دو رشتے یک طرفہ ہوتے ہیں ، ایک اللہ کا اپنے بندوں سے دوسرا والدین کا اولاد سے، انسان اللہ کے احکامات مانے نہ مانے اپنے دینی فرائض مکمل طور پر پورے کرے نہ کرے، اللہ کسی نہ کسی طرح انسانوں کو نوازتا رہتا ہے، کم از کم رزق کے دروازے اُن پر بند نہیں کرتا، اسی طرح انسان اپنے والدین کی عزت کریں نہ کریں اُن سے محبت کریں نہ کریں اُن کی خدمت کریں نہ کریں والدین اپنی اولاد سے دُوری یا نفرت کا تصور بھی نہیں کرتے، اب جا کر مجھے احساس ہوا ہے بعض اوقات اولاد کا رشتہ بھی والدین سے یک طرفہ ہوتا ہے، والدین اپنی اولاد کی کیئر کریں نہ کریں، اُس سے محبت کریں نہ کریں، دو ٹکوں کی خاطر چاہے بھیڑیوں کے سُپرد اُسے کر دیں، اُسے محض مال بنانے کی مشین بنائے رکھیں، اولاد اپنے والدین کی خدمت خود پر بیشمار مظالم سہہ کر بھی کرتی رہتی ہے، ماڈل ٹاو¿ن لاہور میں بچی کی ہلاکت میں یہی کچھ ہوا ہے، والدین کو پالتے پالتے ایک بچی موت کے منہ میں چلی گئی، اس واقعے کے جو بھی ذمہ داران ہیں اُنہیں عبرتناک سزا ملنی چاہیے، دولت یا طاقت کے بل بوتے پر ظالم کب تک اپنے انجام سے بچتے رہیں گے؟

مزیدخبریں