زیادہ پرانی بات نہیں مونیکا لیونسکی ایک امریکی خاتون ہیںجو 1995 اور 1996کے دوران وائٹ ہا¶س میں بطور انٹرن (Intern) کام کرتی تھیں اس دوران ان کے اور اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے درمیان تعلقات قائم ہوئے جب یہ معاملہ 1998ءمیں منظر عام پر آیا، تو اس نے امریکی سیاست میں ایک بڑا بحران پیدا کیا۔ بل کلنٹن پر جھوٹ بولنے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت مواخذہ (Impeachment) کی کارروائی چلائی گئی لیکن وہ اپنے عہدے پر برقرار رہے۔ مغربی معاشروں میں اس قسم کے تعلقات کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور بل کلنٹن اور مونیکا کے کیس میں بھی یہی ہوا تھا کیونکہ امریکن قوم کو بل کلنٹن سے یہ گلہ نہیں تھا کہ ان کے مونیکا کے ساتھ تعلقات کیوں ہیں بلکہ اصل شکایت یہ تھی کہ انھوں نے اس معاملے میںقوم سے جھوٹ کیوں بولا۔ جیسا کہ عرض کیا تھا کہ یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے بلکہ صرف 28 سال پہلے امریکن معاشرہ اور وہاں کی سیاسی قیادت کچھ اصولوں کی پابند تھی لیکن آج غور کریں کہ ایک وہ دور کہ صرف جھوٹ بولنے پر صدر کا مواخذہ اور ایک یہ دور کہ اسی ملک کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وہ روز جھوٹ بولتا ہے لیکن اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے وہ کہتا ہے کہ ہم نے جون 2025 میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا تھا اور پھر اسی سانس میں کہتا ہے کہ اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو وہ دو ہفتوں میں ایٹم بم بنا لیتا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان کوئی ایک بار نہیں دیا بلکہ درجنوں بار دے چکا ہے لیکن کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں ۔ ایک ہی سانس میں وہ کہتا ہے کہ ایران سے مذاکرات میں بڑی اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور اس بیان کے آدھے گھنٹے بعد ایران پر حملہ ہو جاتا ہے ۔ اب کہیں جا کر کہ جب اس جنگ کی تپش مہنگائی کی شکل میں امریکیوں تک پہنچی ہے تو ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کر دیا ہے ۔
ہم پاکستان میں اس بات کا رونا روتے ہیں کہ یہاں ستر 80 کی دہائی تک بڑی نظریاتی سیاست تھی لیکن اب وہ نظریاتی اور اصولوں کی سیاست نہیں رہی تو اس صورت حال کا سامنا صرف پاکستان کو ہی نہیں ہے بلکہ عصر حاضر کی واحد سپر پاور امریکہ کو بھی ہے بلکہ سچ پوچھیں تو پوری دنیا ہی اس وقت قحط الرجال کا شکار ہے اور یہ کسی ایک شعبہ میں نہیں ہے بلکہ کم و بیش ہر شعبہ میں ہی اس کی جھلک نظر آتی ہے ۔ اگر کسی کو ہم سے اختلاف ہے تو باکسنگ کے کھیل میں ورلڈ ہیوی ویٹ چمپئن تو اب بھی ہیں لیکن کوئی ایک محمد علی دکھا دیں ۔ چلیں باکسنگ کے شعبہ میں محمد علی نہیں دکھا سکتے تو رہنے دیں ہم اصرار نہیں کریں گے اداکاری کے شعبہ میں کوئی محمد علی دکھا دیں کوئی وحید مراد کوئی ندیم دکھا دیں ۔ کوئی دلیپ کمار کوئی راج کپور کوئی راج کمار دکھا دیں ۔ کوئی لتا دکھا دیں کوئی نور جہاں دکھا دیں ۔ کوئی مہدی حسن کوئی احمد رشدی کوئی مسعود رانا دکھا دیں ۔ کوئی رفیع کوئی مکیش کوئی کشور کمار دکھا دیں ۔کوئی نیئرسلطانہ کوئی زیبا کوئی مسرت نذیر دکھا دیں ۔ کرکٹ میں کوئی فضل محمود کوئی حنیف محمد کوئی ظہیر عباس دکھا دیں ۔ ہاکی میں کوئی رشید جونیئر کوئی صلاح الدین کوئی سمیع اللہ دکھا دیں ۔ اسکواش میں جہانگیر خان ، جان شیر کوئی ہاشم خان دکھا دیں ۔ شاعری میں علامہ اقبال ، غالب ، میر تقی میر ، میر درد اور حکیم مومن خان مومن ، فیض احمد فیض ، حبیب جالب اور احمد فراز جیسے شاعروں کو تو ایک طرف رکھ دیں اس میدان میں جاتی بہاروں کی ٹھنڈی ہوا کے آخری جھونکے امجد اسلام امجد اور پروین شاکر جیسا ہی کوئی دکھا دیں ۔ مذہبی اختلاف اپنی جگہ لیکن عصر حاظر میں کوئی احمد رضا بریلوی کوئی اشرف علی تھانوی کوئی رشید ترابی جیسا عالم دین دکھا دیں ۔ بات اگر سیاسی میدان کی کریں تو قائد اعظم تو شاعری میں علامہ اقبال کی طرح اپنی مثال آپ ہیں لیکن کوئی نہرو ، گاندھی اور مولانا ابو الکلام آزاد دکھا دیں کوئی لیاقت علی خان ، کوئی ذوالفقار علی بھٹو اور کوئی مولانا مودودی ، مولانا مفتی محمود اور نواب زادہ نصراللہ خان دکھا دیں ۔ کوئی لینن ، اسٹالن ، چرچل ، چیئر مین ماﺅ دکھا دیں ۔
خیر بات ہو رہی تھی دور حاضر کی سیاسی قیادت کی کہ جس نے اصولوں کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر پس پشت ڈال دیا ہے ۔ ہمیںتاریخ کا جو تھوڑا بہت علم ہے اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے قول و فعل میں جو تضاد ہے اس کی مثال یقین کریں کہ چنگیز خان اور اس کے پوتے ہلاکو خان سے ہی ملتی ہیں ۔ وہ بھی اسی طرح مذاکرات کرتے تھے اور فریق مخالف جب ان کی باتوں میں آ کر بغیر لڑے شکست تسلیم کر لیتے تو شہر پر قبضہ کے بعد انھیں قتل کر دیتے ۔ یہی حال ٹرمپ اور ان کے ہونہار شاگرد نیتن یاہو کا ہے کہ ایک طرف میڈیا میں ڈھول پیٹے جاتے ہیں کہ لبنان پر جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا اور دوسری جانب بغیر رکے تسلسل کے ساتھ لبنان پر گولہ باری بھی کی جاتی ہے اور امدادی کارکن تک اس سے محفوظ نہیں رہتے۔ یہ سب کچھ ڈونلڈ ٹرمپ کی جھاڑ کھانے کے بعد ہوتا ہے جس کا اعتراف خود ٹرمپ کرتے ہیں کہ ان کی ٹیلیفون پر نیتن یاہو سے تلخ کلامی ہوئی ۔ آخر میں صرف اتنا کہیں گے کہ جس سیاسی قیادت کے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہو اس سے کسی بھی قسم کی بھلائی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔
قحط الرجال کی صورت حال
09:07 AM, 6 Jun, 2026