دیکھا جنہیں پلٹ کے....!

09:06 AM, 6 Jun, 2026

محبی مکرم و محترم ڈاکٹر فاروق عادل کی شخصی خاکوں پر مشتمل تصنیف ”دیکھا جنہیں پلٹ کے“ کا ذکر ہو رہا تھا۔ انتہائی مضبوط اور پائیدار جلد اور خوبصورت اور پُر کشش سر ورق اور گیٹ اَپ کے ساتھ 350صفحات پر مشتمل اس کتاب کو قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل لاہور نے شائع کیا ہے۔ ”دیکھا جنہیں پلٹ کے “ کے دوسرے حصے میں”جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے“ کے بارے میں جیسے پہلے لکھا گیا ہے پچیس شخصیات کے قلمی خاکے شامل ہیں۔ یہ تمام شخصیات سوائے دو شخصیات ، بال ٹھاکرے (بدزبان محبوب ) اور حسینہ واجد (کہانی ایک حسینہ کی) کو چھوڑ کر قومی سیاسی شخصیات سمجھی جا سکتی ہیں۔ ان میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے بارے میں ”درد مند“ کے عنوان سے سات صفحات پر پھیلا ہوا قلمی خاکہ موجود ہے۔ اس میں وہ میاں محمد نواز شریف کے بارے میں لکھتے ہیں "نواز شریف کے ناقدین اور مخالفین بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ایٹمی دھماکے کے وقت انہوں نے نتائج سے بے پرواہ ہو کر جو فیصلہ کیا وہ بے مثال ہے۔ ان کی سیاسی زندگی میں بہادری کا یہ واقعہ پہلا اور آخری نہیں ہے، بے شمار واقعات ہیں جو ان کی بہاردی کا اعتراف کرتے ہیں جیسے اکتوبر ۱۹۹۹ء کا دن۔ اقتدار پر قبضے کے بعد وہ مسلح مخالفین کے نرغے میں تھے۔ اس موقع پر ان سے سیاست سے لا تعلقی اور ملک چھوڑنے کی شرط پر جان بخشی کے عوض استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ نواز شریف نے تمام تر نتائج کو سمجھتے ہوئے بھی "over my dead body"کہہ کر اسے مسترد کر دیا"۔ کتاب کے اسی حصے میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے بارے میں "بلند حوصلہ " کے عنوان سے خاکہ موجود ہے۔ اس میںوہ ان کے بارے میں جب وہ جیل میں بند تھے لکھتے ہیں "زرداری صاحب کی جیل میں دلچسپیاں بڑی مزے کی ہوتیں۔ کراچی سینٹرل جیل میں انہوں نے کبوتر پال رکھے تھے۔ شروع میں تو تین چار ہی جوڑے تھے جو بڑھتے بڑھتے ستر، اسی کبوتروں پر مشتمل پور ی ڈار میں بدل گئے"۔ 
کتاب کے اسی حصے میں ”صاحبِ دل “ کے عنوان سے سابق صدرِ مملکت ممنون حسین اور ”پرچھائیں“ کے عنوان سے تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بارے میں سات، سات صفحات پر مشتمل قلمی خاکے یا مضامین بھی موجود ہیں۔ سابق صدرِ مملکت ممنون حسین مرحوم کے حوالے سے مصنف وضاحت کرتے ہیں کہ وہ صدرِ مملکت کیسے بنے ۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں ”مسلم لیگ کی حکومت میں جب مختلف مناصب پر لوگوں کے انتخاب کی بات ہوتی تو وہ ہمیشہ اپنی جگہ کسی دوسرے کا نام پیش کردیتے ۔ ایک بار سینیٹ کی نشست خالی ہوئی تو انہوں نے خواجہ قطب الدین کا نام پیش کر دیا ۔ ۔۔۔۔ میاں صاحب کے تیسری بار وزیرِ اعظم بننے کے بعد جب منصب صدارت کے لئے نامزدگی کا وقت آیا تو اس بارانہیں اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔ یوں اُن کا نام فائنل ہو گیا۔ وہ اجلاس میں ہوتے تو ممکن ہے کے اس بار بھی وہ اپنے کسی دوسرے ساتھی کا نام پیش کر دیتے“۔ عمران خان کے بارے میں مصنف نے جنرل حمید گل مرحوم اور معراج محمد خان مرحوم اور اکبر ایس بابر کے خیالات کا حوالہ دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ شخص برخود Self Righteousاور شدت پسند ہے۔ اس ضمن میں وہ عمران خان کے ایک سابقہ سیاسی رفیق کار مرحوم نوید خان کے ایک بیان کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں ”یہ شاید میانوالی کے سفر کی بات تھی، دورانِ گفتگو میر شکیل الرحمن کا ذکر ہوا۔ عمران خان نے اُن کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ۔ میں نے پوچھا آپ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟ عمران نے کہا کہ چھوڑو یار فضول آدمی ہے۔ نوید خان کے مطابق یہ بات ناقابل فہم تھی لہٰذا انہوں نے عمران خان سے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے اخبار (روزنامہ جنگ) کے مالک کے بارے میں اُن کا رویہ مناسب نہیں۔ ایسے لوگوں کی تحقیر کرنے کی بجائے اُن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہییں ۔ اس پر عمران خان نے بتایا کے تعلقات بہتر کیسے ہو سکتے ہیں ۔ زمانہ طالبعلمی میں ہم دونوں ایک جگہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے ۔ مجھے یہ شخص پسند نہیں تھا لہٰذا کھیل کے دوران میں نے اُسے ایک بار بلا مار دیا تھا ۔ گویا عمران خان دل میں جو بات رکھ لیتے ہیں وہ کبھی جاتی نہیں“۔ 
کتاب کے چوتھے حصے "اہلِ جنوں" میں 13 شخصیات کے بارے میں مضامین یا شخصی خاکے شامل ہیں ۔ ان میں" لکھاڑ " کے عنوان سے ایک خاکہ ہم دم دیرینہ ، برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی جو اب ہم میں موجود نہیں ہیں کے بارے میں ہے اس میں وہ لکھتے ہیں”بھئی یہ شخص تو لکھاڑ ہے“ صلاح الدین صاحب (مدیرِ تکبیر) نے پڑھتے پڑھتے سر اُٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اہلِ محفل نے صدرِ محفل کی زبان سے یہ کلمہ تحسین سُنا تو حیرت سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور کندھے اُچکا کر خاموش ہو گئے۔۔۔۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے ، ایک صاحب کی تحریر موصول ہوئی ۔ روشنائی والے قلم سے لکھی، نشست و برخاست سے درست اور جلی و خفی سُر خیوں سے مرصع۔ خیر بات دور جانکلی یہ جس شخص کے سوادِ تحریر اور اسلوبِ تحریر کا تذکرہ وہ عرفان صدیقی تھے۔ “
کتاب کے چھٹے حصے کا عنوان ”میں جاگتا ہوں تیرے خواب دیکھنے کے لئے “ اس میں 16 علمی و ادبی شخصیات کے خاکے دئیے گئے ہیں جن میں ”مسافر گرد ہوتی مسافتوں کا“ کے عنوان سے امجد اسلام امجد مرحوم کا ، ”عالی دماغ“ کے عنوان سے مرحوم سراج منیر کا، ”محنتی“ کے عنوان سے ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا ، ”داستان گو“ کے عنوان سے عظیم سرور اور ”دیوی “کے عنوان سے نیرہ نور مرحومہ کے خاکے بطورِ خاص پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کالم میں گنجائش نہیں ورنہ میں ان خاکوں کے اقتباسات پیش کرتا۔ آخر میں کتاب کے ساتویں حصے ”دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات“ میں دئیے گئے حصے میں مصنف کے والدِ گرامی حکیم غلام حسین عادل مرحوم کے بارے میں ”ابا جی“ کے عنوان سے لکھے قلمی خاکے کا تذکرہ کر لیتے ہیں۔ اس میں وہ اپنے والدِ گرامی کے بارے میں لکھتے ہیں ”انسان کئی قسم کے ہوتے ہیں، کچھ سوچنے والے اور کچھ دوسروں کے خیالات میں رنگ بھرنے والے ۔ کچھ محض پیرو کار ہوتے ہیں۔ ابا جی نے اپنا راستہ ہمیشہ خود بنایا، وہ آدرشی تو تھے ہی اپنے خوابوں کو تعبیر دینے اور اس کے لئے جدوجہد کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو اور انہیں اپنے قرب میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے“۔ 

مزیدخبریں