دی کوئین

09:33 AM, 6 Jun, 2025

دنیا بھر کے ناول نگاروں اور نقادوں کی بیٹھکوں میں آج کل "دی کوئین" پر خاصی بات چیت ہو رہی ہے۔ ہمارے ناول نگار اور نقاد بھی اس ناول کے منفر بیانیے اور تکنیک پر بحث کرتے نظرآتے ہیں۔کسی بھی تخلیق کی انفرادیت کیسے اس کی پزیرائی کا سبب بن سکتی ہے، یہ ناول اس بات کی عمدہ مثال ہے۔ یاسمین کا پہلا ناول دی کوائن سرخیوں سے بھرپور اور اصناف سے آزاد بیانیہ ہے جو شناخت، بے وطنی، جنون، اور طبقاتی صارفیت کی بے معنویت جیسے موضوعات میں گہرائی سے اترتا ہے۔ کہانی نیویارک میں مقیم ایک بے نام فلسطینی عورت کے گرد گھومتی ہے، جو ایک مالدار، یتیم کردار ہے۔ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ذریعے حاصل کردہ نوکری میں ایک غریب بچوں کے اسکول میں پڑھاتی ہے۔ اس کا غیر روایتی اور اکثر لاپرواہ تدریسی انداز اس کی داخلی اجنبیت کا صرف ایک اظہار ہے۔ خارجی سطح پر وہ ڈائر، گوچی اور کوچنیلی جیسے مہنگے برانڈز سے مزین ہے، لیکن اس شاندار ظاہری حسن کے نیچے ایک بکھرتا ہوا ذہن چھپا ہے۔ یہ ذہنی بوجھ ایک سکے کی شکل میں مجسم ہوتا ہے جسے وہ بچپن میں نگلنے کا تصور کرتی ہے اور اب اسے اپنی پیٹھ میں پھنسا ہوا محسوس کرتی ہے۔ یہ سکہ اس کی فلسطینی شناخت کی علامت ہے۔ ایک ایسا ماضی جو چھپا ہوا، اذیت ناک، مگر ہمہ وقت موجود ہے۔
ناول نگار ایک ایسا کردار تراشتی ہیں جو بیک وقت مضبوط اور بے زمین ہے۔ناول نگار جان بوجھ کر فلسطینی خواتین کے روایتی بیانیوں سے گریز کرتی ہیں، اور ایک ایسی عورت پیش کرتی ہیں جو غیر روایتی، بے باک، اور مکمل خودمختار ہے۔ جیسا کہ وہ خود بیان کرتی ہیں، ان کا مقصد ایک ایسی فلسطینی عورت کی عکاسی کرنا تھا جو مظلومیت یا سیاسی علامت سے بالاتر ہو اور جو اپنی خودی کا اظہار خود ساختہ جنون یا داخلی شکست و ریخت کے ذریعے بھی کر سکے۔
نقادوں نے دی کوائن کو اس کی ادبی طاقت اور ذہنی جرات مندی کے لیے خوب سراہا ہے۔ سلاوی ژیژک نے اسے "شاہکار" قرار دیا، جب کہ مصنفہ ریون لیلانی نے اسے ایک " شائستہ" ناول کہا جو جسمانی جنون اور ذہنی بگاڑ کو بھرپور انداز میں پیش کرتا ہے۔ یاسمین کی نثر شاعرانہ بھی ہے اور غیر متوازن بھی، جو مرکزی کردار کے ذہنی انتشار کو ایک پْراثر اور مبہوت کن ردھم میں قید کرتی ہے۔ 2025 میں سوانسی یونیورسٹی ڈیلن تھامس پرائز جیتنے والا یہ ناول نہ صرف اپنی ادبی عظمت کے باعث منفرد ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ شناخت، جلاوطنی، اور عورت ہونے کے بارے میں روایتی بیانیوں کو چیلنج کرتا ہے۔ دی کوائن کے ذریعے، یاسمین ایک ایسی بے خوف نئی آواز کے طور پر سامنے آتی ہیں جو جدید دنیا کے تضادات کو ایک فکری اور گہرے ذاتی زاویے سے سامنے لاتی ہے۔اس ناول کو شہرت کئی وجوہات کی بنا پر ملی، جن میں ادبی جرات، منفرد اسلوب، اور غیر متوقع مرکزی کردار نمایاں ہیں۔
اس کی ادبی انفرادیت بھی اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ناول ایک ایسی فلسطینی عورت کے نقطہ نظر سے لکھا گیا ہے جو نہ روایتی ہے، نہ مظلوم، نہ ہی کسی سیاسی ایجنڈے کی علامت۔ وہ ایک خود مختار، پر تعیش زندگی گزارنے والی عورت ہے جو اپنے ذہنی جنون اور داخلی انتشار کے ساتھ جیتی ہے۔ ناول نگار نے ایک ایسا کردار تخلیق کیا جو قاری کو حیران، بے چین اور متاثر کرتا ہے۔ یہ فلسطینی خواتین کے بارے میں عام تصور سے بالکل مختلف ہے، اور یہی اختلافی نقطہ اس ناول کو نمایاں بناتا ہے۔ زبان اور اسلوب بھی اس ناول میں نادر نظر آتے ہیں۔ یاسمین کی نثر شاعرانہ، طنزیہ اور کہیں کہیں ناہموار ہے لیکن یہی اس کی طاقت ہے، کیونکہ یہ کردار کی ذہنی حالت اور کہانی کی بے ترتیبی کو پوری طرح مجسم کرتی ہے۔یہ ناول پڑھنے کا تجربہ ایک نفسیاتی سفر کی مانند ہے، جو روایتی بیانیہ ڈھانچوں سے باہر نکلتا ہے۔
اس ناول کی شہرت کی ایک اور وجہ اس کی تازگی اور جرأت مندی ہے۔ یہ ناول صاف صفائی کے جنون، فیشن کی دنیا کی فضولیات، طبقاتی تضادات اور بے وطنی جیسے موضوعات کو غیر روایتی انداز میں چھوتا ہے۔ اس کے حصے میں بین الاقوامی پذیرائی ہے آئی ہے۔ ناول کو 2025 میں Swansea University Dylan Thomas Prize سے نوازا گیا، جو کہ دنیا کے نمایاں ادبی اعزازات میں سے ایک ہے۔ اس انعام نے خاص طور پر اس ناول کو عالمی سطح پر پذیرائی دلائی اور مختلف ملکوں کے قارئین تک اس کی رسائی ممکن بنائی۔
آخری لیکن اہم بات یہ کہ "دی کوئین" نے فلسطینی شناخت کے بیانیے کو نئی جہت دی۔ یہ مظلومیت کے روایتی سانچوں سے باہر نکل کر ایک داخلی، انفرادی، اور نفسیاتی فلسطینی تجربہ پیش کرتا ہے جو ایک نئی سوچ کو جنم دیتا ہے۔

مزیدخبریں