جا بجا کوچہ و بازار میں اجتماعی قربانی کے بینرز دیکھ کر اب ذہن میں عید ِ قرباں پر اللہ کی راہ میں قربان ہونے والے جانوروں کا کوئی تصور نہیں ابھرتا بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کسی بے رحم حاکم نے قوم کی اجتماعی قربانی کا اعلان کروایا ہو۔اس احساس کے ساتھ ہی جسم میں ایک ناگوار سی ٹھنڈک کی لہر دوڑ جاتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ عید ِ قرباں کی مقدس ساعت اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ سر پر آن پہنچی ہے۔بچپن میں کبھی میں بکروں کو بڑی رحم دلی سے دیکھتا تھا اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ بکرے مجھے دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہوں کہ ہم تو ایک ہی دن چند لمحوں کا درد سہ کر فارغ ہو جائیں گے لیکن تم اپنی خیر مناؤجنہوں نے ابھی نہ جانے کتنی عیدوں تک قربان ہوتے رہنا ہے۔مجھے بکروں کے قربان ہونے پر کوئی اعتراض نہیں سو اعتراض بکروں کو ہماری قربانی پر بھی نہیں ہونا چاہیے۔بازار میں ملنے والی چنے کی دال آپ بکرے کی کھرلی میں ڈال دیں یا ہنڈیا میں پکا لیں ایک ہی بات ہے۔ہم نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ذرعی معاشرے کی سرخیلیں ہونے کے باوجود ہمیں بکرے کی اور اپنی خوراک ایک ہی قیمت ادا کرکے خریدنی پڑرہی ہے گویا ہم انسان کے درجے سے بکرے کے رتبے پر فائز ہو چکے ہیں۔ لیکن بکرے اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں عید کے بعد آنے والے بجلی کے منحوس بل ادا نہیں کرنا پڑیں گے۔ اس کیلئے نئے اسلامی سال کے آنے سے پہلے ہی ہمیں قربانی کیلئے تیار کر لیا جائے گا۔ویسے بھی اسلامی کیلنڈر قربانی سے شروع ہوتا ہے اور قربانی پر ختم سو سارا سال قربانی ہی چلتی رہتی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ بکروں کی کوئی سپریم کورٹ یا نیپرا نہیں ورنہ انہیں بھی موت سے پہلے اس کرب سے نہ جانے کتنی بار گزرنا پڑتاکہ اْن کے بعد اْن کے بقایا جات کون ادا کرے گا؟اب یہ کوئی اچھا شگون تو نہیں کہ قربان ہونے سے پہلے آپ اپنے تمام غیر اہم اورغیر ضروری ٹیکس بھی ادا کر کے جائیں۔ بکرے چونکہ مذہبی خیالات نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ اْن کی کوئی مسلک نہیں ہوتی البتہ تمام
مسلکوں سے تعلق رکھنے والوں کیلئے اْن کی اوقات ایک چلتے پھرتے مقتول سے زیادہ نہیں ہوتی۔اس حوالے سے تمام مسالک متفق ہیں کہ بکرے حلا ل ہیں اور انہیں کھا لینا چاہیے۔سو جو بکرا ہو گا وہ کھایا بھی جائے گا۔اور جو چاہتا ہے کہ وہ نہ کھایا جائے اْس بکرا نہیں رہنا چاہیے۔
بکروں کے منڈ ی تک پہنچنے کے ٹیکسوں پر غور کیا تو خوشگوار حیرت یہ ہوئی کہ جس طرح ہم ہر شے پر ضروری اورغیر ضروری ٹیکس دیتے ہیں اسی طرح بکرے کا روٹ پرمٹ بھی ہم تک پہنچنے سے پہلے کئی افسران کی جیبوں سے ہوتے ہوئے ہم تک پہنچتا ہے۔کبھی لوگ بکرے کے گوشت سے عزیز و اقارب کی دعوت کیا کرتے تھے اب بقرہ عید پر بھی بکرے کا گوشت کم خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے گائے کی قربانی کا رواج عام ہو گیا ہے اس کی وجہ بکروں کی ساتویں آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ہیں اور اگر مہنگا بکرا خریدبھی لیا جائے تو اْس کا گوشت خویش، درویش اور ہمیش کیلئے ناکافی ہوتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اب بکروں پر گائے کو فضیلت دینے کا قیاس کر لیا ہے۔ ویسے بقرہ عربی زبان میں گائے کو کہتے ہیں میرا خیال ہے لوگوں کو بقرہ اور ’’بکرا‘‘ کے فرق کا پتہ آخر کار چل ہی گیا ہے۔
پاکستان میں انگنت لوگ ایسے ہیں جن کو بکرے کا گوشت عید کے عید نصیب ہوتا ہوگا اور لاتعداد ایسے بھی ہوں گے جو اس دن بھی گوشت جیسی نعمت سے محروم رہیں گے۔آخر یہ پاکستانی بکرے کہاں چلے گئے؟ اگر انہیں موت کا خوف ہوتا تو بہت پہلے ہی جا چکے ہوتے سو ایسی کوئی بات نہیں۔میرا خیال ہے کہ کسی نے بکروں کو اغوا کر رکھا ہے اور صرف عید ِ قبرباں پر خیر سگالی کے طور پر کچھ بکروں کورہائی نصیب ہوتی ہے۔(جیسے حال ہی میں ہم نے کچھ بکروں کو رہا کیا ہے کہ وہ جا کر قربان ہو سکیں اور اْن کی قربانی لے سکیں جو ابھی قربان ہونے کیلئے تیار نہیں)۔ورنہ سال بھر قصائی کی دکان پر لٹکے جانور کو بکرا نما تو کہا جا سکتا ہے واللہ وہ بکرے ہر گز نہیں ہوتے۔پاکستانی عوام اور بکروں میں بہت سی قدریں مشترک ہیں مثلا بکرے اور قصائی کا رشتہ ازلی اور ابدی ہے جیسے عوام اور سیاستدانوں کا ہے۔آج تک کسی بکرے نے قصائی کو شکست نہیں دی اور یہی حالت عوام کی بھی ہے۔میں نے بکروں کے احتجاج بارے آج تک کوئی رپورٹ یا خبر نہ تو سنی ہے اور نہ ہی میرے دیکھنے میں آئی ہے اسی سے ملتی جلتی حالت پاکستانی عوام کی ہے ہر روز قربان ہوتی ہے لیکن احتجاج نہیں کرتی۔
سرگودھا سے لاہو ر آنے والا دنبہ یہ ہرگز نہیں جانتا کہ لاہور میں اْس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے وہ تو صرف لاہور دیکھنے کے شوق میں ٹرک پر سوار ہوجاتا ہے بالکل پاکستان میں موجود سیاسی ورکروں کی طرح جن کو ہر گز یہ معلوم نہیں کہ اْن کی سیاسی جماعت کا منشور کیا ہے لیکن وہ خاموشی سے سالہا سال سے اْن کے ٹرک پر سوار ہیں اورہر بار ذبح ہو جاتے ہیں۔ یہ دنبے لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتے یہی وجہ ہے کہ کسی نے آج تک اپنے قبیلے کو کوئی خط یا پیغام نہیں بھیجا کہ بھئی ادھر کا رخ نہ کرنا ورنہ جان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔نسل در نسل قربانی کا یہ سلسلہ دنبوں کے ہاں جاری و ساری ہے لیکن یہی حالت اپنے لوگوں کی بھی ہے کہ یہاں ولادت، قیادت، وکالت، سعادت، شرافت، شجاعت اور خدمت موروثی شعبے ہیں۔ہمارے ہاں صرف قصائی اور بکرے بدلتے ہیں لیکن کبھی کسی نے اس عمل یا اس رشتے کو بدلنے کی کوشش نہیں کی جو ان کے درمیان ہے۔ چلیں ہمیں کیا، نہ بدلیں، جو بکرے ہیں ایک دن ذبح ہو جائیں گے۔ قصائی یا تو اپنی طبعی زندگی پوری کریں گے یا پھر کسی دوسرے قصائی سے معاصرانہ چشمک کی وجہ سے بکروں کی طرح ذبح ہوجائیں گے۔تحریک انصاف نے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے جو صرف محرم کے سیکورٹی کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے امید ہے کہ حکومت محرم میں ایسے کسی احتجاج کی اجازت نہیں دے گی اور اِن دنبوں کی قربانی محرم سے پہلے ہو جائے گی۔ویسے تو اسے روکنے کیلئے محترمہ علیمہ بی بی ہی کافی ہیں۔
کچھ بکروں کے بارے میں
09:32 AM, 6 Jun, 2025