تاریخ میں بعض واقعات محض خبریں نہیں ہوتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک علامت بن جاتے ہیں۔ کچھ جنازے ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک شخصیت کی تدفین تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ قوموں کے جذبات، نظریات اور عالمی سیاست کے بارے میں بہت سے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ تہران میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تعزیتی اجتماعات بھی انہی تاریخی لمحات میں شمار کیے جا رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔
تہران کی سڑکوں پر اُمڈنے والے عوامی ہجوم نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ قوموں کے دلوں میں موجود وابستگی کو صرف سیاسی بیانات، اقتصادی پابندیوں یا عسکری دباو سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لاکھوں افراد کی شرکت نے یہ تاثر دیا کہ ایرانی معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اپنے سیاسی اور مذہبی نظام کے ساتھ مضبوط جذباتی تعلق رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اس اجتماع کو غیر معمولی اہمیت دی۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سرکاری وفود، مذہبی شخصیات، سفارتی نمائندوں اور سیاسی رہنماو¿ں نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی خصوصی طور پر قابلِ توجہ رہی۔ وزیرِاعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کے اعلیٰ سطح وفد کی موجودگی کو صرف ایک سفارتی شرکت نہیں بلکہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا گیا۔ ایسے ماحول میں، جب خطے میں کشیدگی عروج پر تھی اور بعض مبصرین ممکنہ سکیورٹی خطرات کے خدشات ظاہر کر رہے تھے، پاکستانی قیادت کی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان مشکل حالات میں بھی اپنے سفارتی فرائض اور علاقائی روابط کو اہمیت دیتا ہے۔
ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل دباو¿ کا سامنا کر رہا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، اسرائیل کے ساتھ شدید کشیدگی اور امریکہ کے ساتھ طویل سیاسی اختلافات اس کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ اس کے باوجود تہران میں نظر آنے والا یہ اجتماع اس تاثر سے مختلف تھا جو اکثر مغربی تجزیوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر نے یہ سوال ضرور اٹھایا کہ کیا کسی قوم کی طاقت کا اندازہ صرف اس کی معیشت، فوج یا بین الاقوامی تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے، یا پھر عوامی وابستگی بھی طاقت کا ایک اہم پیمانہ ہے؟اس اجتماع نے دنیا کو یہ بھی یاد دلایا کہ نظریات کو صرف طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں بیرونی دباو¿ نے قوموں کو تقسیم کرنے کے بجائے مزید متحد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پابندیوں اور عسکری دباوکے باوجود ایران اپنی سیاسی اور علاقائی اہمیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگیں وقتی کامیابیاں تو لا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن پیدا نہیں۔ عراق، افغانستان، شام، لبنان، غزہ اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہر جنگ کے بعد امن کے دعوے کیے گئے، مگر نتیجہ مزید خونریزی، نقل مکانی اور عدم استحکام کی صورت میں سامنے آیا۔ اس پس منظر میں تہران کا یہ منظر عالمی طاقتوں کے لیے ایک نئی سوچ کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ اسرائیل اور امریکہ کو اپنی سلامتی کے حوالے سے اپنے تحفظات حاصل ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی خطے میں دیرپا امن صرف عسکری طاقت سے قائم نہیں ہوتا۔ امن انصاف، احترام، سفارت کاری اور مکالمے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب قوموں کے مذہبی، تاریخی اور قومی جذبات کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج اکثر توقعات کے برعکس نکلتے ہیں۔
پاکستان کی موجودگی نے بھی ایک مثبت سفارتی پیغام دیا۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مو¿قف اختیار کیا ہے کہ امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد، علاقائی استحکام اور مذاکرات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ ایسے حساس وقت میں اعلیٰ پاکستانی قیادت کی شرکت اس بات کی علامت تھی کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ آج دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف جنگوں کا سلسلہ ہے، دوسری طرف معاشی بحران، مہنگائی اور عالمی سیاسی تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتیں طاقت کے بجائے انصاف اور مکالمے کی زبان اختیار کریں۔ طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے، لیکن اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔ اعتماد صرف انصاف اور احترام سے پیدا ہوتا ہے۔ تہران میں ہونے والا یہ اجتماع صرف ایک مذہبی تقریب نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور سفارتی پیغام بھی تھا۔ اس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ قوموں کی اصل طاقت صرف ان کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے عوام کے اعتماد، ان کے نظریات اور ان کی اجتماعی یادداشت میں بھی ہوتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ ٹینکوں، میزائلوں اور جنگی طیاروں کو یاد نہیں رکھتی، لیکن وہ قوموں کے جذبات اور ان کے اجتماعی شعور کو ضرور محفوظ رکھتی ہے۔ بعض جنازے قبرستان میں ختم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے صفحات پر ایک مستقل سوال بن جاتے ہیں۔ تہران کا یہ منظر بھی شاید انہی واقعات میں شمار ہو گا۔ آج اگر امریکہ، اسرائیل اور دیگر عالمی طاقتیں واقعی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن چاہتی ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دباو، دھمکی اور جنگ مسائل کا مستقل حل نہیں۔ قوموں کے دل جیتنے کے لیے انصاف، احترام، سفارت کاری اور مکالمہ ناگزیر ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو تہران کے اس تاریخی منظر نے دنیا کو دیا، اور یہی وہ پیغام ہے جسے نظرانداز کرنا مستقبل میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
تہران کی گلیوں سے اُٹھتی صدا
09:22 AM, 7 Jul, 2026