چند روز قبل قبلہ جناب محمد صادق صاحب، جو کسٹمز کے ایک سینئر افسر ہونے کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے شیدائی بھی ہیں، کی مجلس میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس نشست میں معروف قانون دان جناب عمر ارشد حکیم صاحب بھی موجود تھے۔ محمد صادق صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی، مجھے ہمیشہ یوں محسوس ہوا جیسے کسی علمی خزانے کا دروازہ کھل گیا ہو۔ فارسی، عربی، اردو، انگریزی اور عبرانی زبان و ادب پر ان کی گہری نظر ہے۔ ان کی گفتگو میں تاریخ بھی ہوتی ہے، فلسفہ بھی، ادب بھی اور قرآن و سنت کی روشنی بھی۔ ان کی مجلس سے ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق علم کے موتی سمیٹ کر اٹھتا ہے۔ اس روز بھی گفتگو کے دوران انہوں نے فارسی کا ایک شعر پڑھا اور فرمایا: اگر قوموں کی تاریخ کو صرف دو مصرعوں میں بیان کرنا ہو تو شاید اس سے بہتر شعر ملنا مشکل ہو۔ پھر انہوں نے شعر پڑھا:
نرفتم کہ خار از پا کشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد
پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنے پاو¿ں سے کانٹا نکالنے کے لیے جھکا، لیکن جب سر اٹھایا تو قافلہ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ صرف ایک لمحے کی غفلت نے مجھے سو برس کی مسافت سے دور کر دیا۔ یہ تشریح سنتے ہی محسوس ہوا کہ شاعر صرف ایک مسافر کی داستان نہیں سنا رہا بلکہ قوموں کی پوری تاریخ کو ایک استعارے میں بیان کر رہا ہے۔ محمد صادق صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا: قومیں ہمیشہ دشمنوں سے شکست نہیں کھاتیں، اکثر وہ اپنے پاو¿ں کے کانٹوں میں الجھ کر قافلہ کھو دیتی ہیں۔ یہ ایک جملہ نہیں تھا بلکہ تاریخ کا نچوڑ تھا۔ قرآنِ مجید بھی انسان اور قوموں دونوں کو غفلت سے خبردار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاو¿ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ کو بھی بھلا دیا (الحشر۔19) (مفہوم)۔
محمد صادق صاحب نے فرمایا کہ جب قومیں اپنے مقصد، اپنے اصول اور اپنی شناخت سے غافل ہو جاتی ہیں تو پھر وہ صرف راستہ نہیں بھولتیں بلکہ اپنی پہچان کھو دیتی ہیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے سورة العصر کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ اگر کسی ایک سورت میں قوموں کے عروج و زوال کا منشور تلاش کرنا ہو تو وہ سورة عصر ہے: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔ (مفہوم)۔
انہوں نے فرمایا: یہ صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے لائحہ عمل ہے۔ جب ایمان کمزور پڑ جائے، عمل کی جگہ دعوے لے لیں، حق گوئی مصلحتوں کی نذر ہو جائے اور صبر کی جگہ جلد بازی لے لے تو خسارہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بات آگے بڑھی تو انہوں نے شیخ سعدی کا شہر آفاق شعر پڑھا:
ترجمہ: تمام بنی آدم ایک دوسرے کے اعضا ہیں، کیونکہ ان سب کی تخلیق ایک ہی اصل سے ہوئی ہے۔ پھر فرمایا: جسم کا ایک عضو بیمار ہو تو پورا جسم بے چین رہتا ہے۔ ریاستیں بھی اسی اصول پر قائم رہتی ہیں۔ جب ادارے ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے لگیں تو پورا نظام بیمار ہو جاتا ہے۔ بات پاکستان کی طرف مڑ گئی۔ محمد صادق صاحب نے نہایت متوازن انداز میں کہا: پاکستان ایک غیر معمولی جدوجہد، لاکھوں قربانیوں اور عظیم خواب کا نتیجہ تھا۔ لیکن قوموں کی زندگی میں آزادی منزل نہیں ہوتی، اصل امتحان تو آزادی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یہ جملہ سنتے ہی وہ فارسی شعر ایک بار پھر ذہن میں گونجنے لگا۔ کیا واقعی ہم نے بھی کہیں نہ کہیں اپنے کانٹے نکالتے نکالتے قافلے کو نظروں سے اوجھل تو نہیں ہونے دیا؟ ہم نے کئی شعبوں میں قابلِ فخر کامیابیاں حاصل کیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تعلیم، تحقیق، انصاف، معیشت، میرٹ، قانون کی حکمرانی اور ادارہ سازی جیسے بنیادی شعبے مسلسل ہماری توجہ کے متقاضی رہے۔ جب قومیں اپنی اصل ترجیحات سے ہٹ جاتی ہیں تو وقت ان کا انتظار نہیں کرتا۔ اسی موقع پر محمد صادق صاحب نے ایک مشہور عربی مقولہ سنایا، ترجمہ: وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم اسے درست استعمال نہ کرو تو وہ تمہیں کاٹ ڈالے گا۔ پھر انہوں نے فرمایا: وقت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی قوم کے لیے نہیں رُکتا۔ بعد ازاں انہوں نے علامہ اقبالؒ کا شعر پڑھا:
اور کہا: ہم اکثر اپنی ناکامیوں کا بوجھ صرف حکمرانوں پر ڈال دیتے ہیں، حالانکہ قومیں صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتیں۔ قومیں عدالتوں میں بھی بنتی ہیں، یونیورسٹیوں میں بھی، بازاروں میں بھی، مسجدوں میں بھی اور گھروں میں ہونے والی تربیت سے بھی بنتی ہیں۔ پھر انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول سنایا، ترجمہ: ہر انسان کی قدر و قیمت اس کے کمال اور کردار کے مطابق ہوتی ہے۔ فرمایا: یہ اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کسی قوم کی عزت اس کے وسائل سے نہیں بلکہ اس کے علم، انصاف، دیانت اور کردار سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مختصر فارسی شعر پڑھا:
ترجمہ: قطرہ قطرہ جمع ہوتا ہے، تب جا کر دریا بنتا ہے۔ اور فرمایا: قومیں بھی ایک دن میں بنتی ہیں نہ بگڑتی ہیں۔ روزانہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلے، معمولی دیانتیں، معمولی ناانصافیاں، چھوٹی چھوٹی اصلاحات اور چھوٹی چھوٹی غفلتیں ہی مستقبل کا رُخ پھر گفتگو اپنے عروج پر پہنچی تو انہوں نے مولانا روم کا یہ شعر سنایا:
ترجمہ: ایک بزرگ چراغ لے کر شہر میں پھر رہا تھا۔ لوگوں نے پوچھا کیا تلاش کر رہے ہو؟ اس نے کہا: حیوان صفت لوگوں سے تنگ آ چکا ہوں، اب ایک سچا انسان تلاش کر رہا ہوں۔ محمد صادق صاحب نے فرمایا: پاکستان کو سب سے زیادہ وسائل نہیں، بلکہ کردار والے انسان درکار ہیں۔ جب انسان درست ہو گا تو ادارے بھی درست ہوں گے اور ریاست بھی۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو شاید پوری نشست کا خلاصہ تھا: تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ قومیں اپنی غلطیوں سے کم اور اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کرنے سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔ زندہ قومیں ہر روز اپنا محاسبہ کرتی ہیں۔ یہ سنتے ہی قرآنِ مجید کی یہ آیت ذہن میں گونجنے لگی: پس اے اہلِ بصیرت! عبرت حاصل کرو۔ (الحشر۔2) (مفہوم)۔ مجلس ختم ہوئی تو احساس ہوا کہ آج صرف ایک فارسی شعر کی تشریح نہیں سنی، بلکہ قوموں کے عروج و زوال کا پورا فلسفہ سمجھنے کا موقع ملا۔ اس شعر کا کانٹا صرف ایک جسمانی تکلیف نہیں بلکہ وہ تمام داخلی کمزوریاں ہیں جو قوموں کو ان کی منزل سے غافل کر دیتی ہیں، اور قافلہ صرف چند مسافروں کا نہیں بلکہ ترقی، علم، عدل، دیانت، اتحاد اور تہذیبی ارتقا کا استعارہ ہے۔ آج پاکستان کے لیے بھی یہی سب سے بڑا سبق ہے کہ ہمیں اپنے اختلافات سے زیادہ اپنی منزل کو دیکھنا ہو گا۔ ریاست، اداروں، سیاست، معیشت، تعلیم اور عدل کو ایک مشترکہ قومی مقصد کے تابع کرنا ہو گا۔ اگر ہم نے دوبارہ قافلے پر نگاہ جما لی تو کھویا ہوا راستہ بھی مل سکتا ہے اور منزل بھی۔ آخر میں قبلہ محمد صادق صاحب کا وہ جملہ بار بار ذہن میں گونجتا ہے جو شاید اس پوری گفتگو کا حاصل ہے: قافلے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں؛ سوال یہ نہیں کہ قافلہ کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ ہماری نگاہ آج بھی قافلے پر ہے یا ہم ابھی تک اپنے پاو¿ں کے کانٹے ہی نکال رہے ہیں؟ یہی سوال پاکستان کے لیے بھی ہے، امتِ مسلمہ کے لیے بھی، اور ہر اس فرد کے لیے بھی جو اپنی زندگی میں کسی عظیم مقصد کا مسافر ہے۔ یہی اس فارسی شعر کی دائمی حکمت ہے، اور شاید یہی ہمارے مستقبل کی امید بھی۔
لمحاتی غفلت اور کھویا ہوا قافلہ
09:18 AM, 7 Jul, 2026