بابر اعظم کی واپسی، قومی ٹیم کے لیے نئی امید

09:15 AM, 6 Jul, 2026

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے قومی ٹیسٹ سکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے بابر اعظم کو دوبارہ قومی ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کرکٹ حلقوں میں مثبت انداز میں لیا گیا ہے بلکہ شائقین کرکٹ بھی اسے قومی ٹیم میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں قومی ٹیم بار بار قیادت کی تبدیلی، غیر مستقل پالیسیوں اور غیر متوقع فیصلوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ ایسے میں ایک تجربہ کار، باصلاحیت اور عالمی معیار کے بلے باز کو دوبارہ قیادت سونپنا ایک دانشمندانہ فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔
اعلان کردہ ٹیسٹ سکواڈ میں کپتان بابر اعظم کے علاوہ محمد رضوان، شان مسعود، امام الحق، اذان اویس، عبداللہ فضل، سلمان علی آغا، عامر جمال، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، ساجد خان، علی عثمان، محمد اویس ظفر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر) اور عبید شاہ شامل ہیں، جبکہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے سعود شکیل کو بھی فٹنس کلیئرنس سے مشروط طور پر سکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک متوازن ٹیم دکھائی دیتی ہے جس میں تجربے اور نوجوان صلاحیتوں کا امتزاج موجود ہے۔
بابر اعظم کی کپتانی پر اگر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے ماضی میں متعدد مواقع پر پاکستان کو اہم کامیابیاں دلائی ہیں۔ اگرچہ ہر کپتان کے دور میں کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں آتی ہیں، لیکن کسی بھی ٹیم کی ترقی کے لیے قیادت میں تسلسل ناگزیر ہوتا ہے۔ بار بار کپتان تبدیل کرنے سے نہ صرف ٹیم کا ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ کھلاڑیوں کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔ اس لیے بابر اعظم کو دوبارہ قیادت دینا مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم سکواڈ کے انتخاب پر چند سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ میری رائے میں ٹیسٹ کرکٹ کے مستند اوپنر عبداللہ شفیق کو ضرور موقع ملنا چاہیے تھا۔ اگرچہ ان کی حالیہ فارم توقعات کے مطابق نہیں رہی، لیکن ان کی تکنیک، صبر اور طویل اننگز کھیلنے کی صلاحیت انہیں اب بھی پاکستان کے بہترین ٹیسٹ بلے بازوں میں شمار کرتی ہے۔
اسی طرح کامران غلام بھی قومی ٹیم میں شمولیت کے مضبوط امیدوار تھے۔ انہوں نے مسلسل ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور رنز کے انبار لگا کر اپنی صلاحیت کا بھرپور ثبوت دیا۔ اگر ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو بھی قومی ٹیم میں موقع نہ ملے تو اس سے میرٹ کا تصور کمزور پڑتا ہے اور نوجوان کرکٹرز کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
نوجوان فاسٹ بولر علی رضا کو بھی اس دورے کے لیے سکواڈ میں شامل کیا جا سکتا تھا۔ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی پچز عموماً فاسٹ بولرز کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہیں، جہاں نوجوان گیند باز تجربہ حاصل کر کے مستقبل میں پاکستان کی طاقت بن سکتے ہیں۔ قومی ٹیم کو صرف موجودہ سیریز نہیں بلکہ آئندہ کئی برسوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کرکٹ اس وقت ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگر سلیکشن میرٹ پر ہو، کپتان کو اعتماد اور مکمل اختیار دیا جائے، نوجوان کھلاڑیوں کی مناسب انداز میں حوصلہ افزائی کی جائے اور ڈومیسٹک کارکردگی کو حقیقی اہمیت دی جائے تو پاکستان دوبارہ عالمی کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی شان واپس حاصل کر سکتا ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ بابر اعظم کی قیادت میں قومی ٹیم نہ صرف ویسٹ انڈیز بلکہ انگلینڈ کے مشکل دورے میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور شائقین کرکٹ کو کامیابیوں کی نئی خوشیاں نصیب ہوں گی۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں ٹیم کے انتخاب میں عبداللہ شفیق، کامران غلام اور علی رضا جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں بھی قومی مفاد میں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں، کیونکہ مضبوط بنچ اسٹرینتھ ہی کسی بھی کامیاب ٹیم کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

مزیدخبریں