چومکھی لڑائی، آزاد کشمیر الیکشن، اپوزیشن ناکام

09:14 AM, 6 Jul, 2026


حالات، واقعات، حادثات، سب ٹھیک نہیں یا بونگیاں مارنے والے مفاد پرست حالات سنبھلنے نہیں دے رہے۔ وطنِ عزیز امریکہ ایران ثالثی میں نام کمانے کے بعد کفار اور منافقین کے نرغے میں گھر گیا۔ پریشان کر دینے والے حالات، دل دہلانے والے واقعات اور رلانے والے حادثات، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی ہمت چومکھی لڑ رہی ہے۔ ناقابل تردید حقیقت ملکی معیشت سیاسی استحکام سے جڑی ہے۔ ملکی معیشت ترقی کر گئی۔ عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا مل گیا تو بیرونی ایجنٹوں، مفاد اور موقع پرستوں کو کون پوچھے گا، مگر یہ سب کیسے ہوگا؟ ملکی سرحدوں پر تناو¿، کشیدگی، دہشتگردی کا آسیب ملک کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے، ہمارے بیٹے، ہمارے بھائی، دہشتگرد حملوں میں شہید ہو رہے ہیں۔ 2640 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد ہمارے لیے عذاب تمام سرحدی راستے بند، ہر 20 کلومیٹر پر پاکستانی چوکی قائم، فوجی جوان چوکس، ہمہ وقت الرٹ، سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانے اور چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔ اتنے دہشتگرد مارے گئے کہ ان سے جہنم کا ایک حصہ بھر گیا ہوگا، اتنی سخت نگرانی کے باوجود خیبر پختونخوا کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں خودکش دھماکے، دہشتگرد کارروائیاں، سرحد سے ہزاروں کلومیٹر دور کراچی بھی ان بدبختوں کے گھناو¿نے عزائم سے محفوظ نہ رہا، کون لوگ ہیں؟ غیروں سے کیا گلہ اپنے ہی پالے ہوئے آستین کے سانپ، دودھ پلانے والوں کو ڈس رہے ہیں۔ خانوں کے خان نے اپنے دور میں 40 ہزار طالبان کو پاکستان میں بسا لیا تھا وہی سہولت کار بن کر دہشتگردوں کی مدد کر رہے ہیں۔ نام کے مسلمان زبان پر کلمہ لیکن دلوں پر قفل، آنکھوں اور کانوں پر مہریں۔ قرآنی حکم ہدایت یافتہ نہیں اصلاً نسلاً جاہل، سفارتی زبان نہیں سمجھتے، امن کا تحریری معاہدہ کرنے سے انکاری، ذرائع کے مطابق طالبان رجیم نے اپنی ڈیڑھ لاکھ فوج میں 30 ہزار دہشتگردوں کو بھی شامل کر لیا، جتنا بڑا دہشتگرد اتنا بڑا فوجی افسر، ملک کے طول و عرض میں ہونے والے بیشتر حادثات و واقعات میں ان ہی دہشتگردوں کا ہاتھ، حالیہ واقعات میں پاک فوج نے 40 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا، اپنے بھی دو چار فرزند شہید ہوئے (انہیں مردہ نہ کہو انہیں رزق دیا جاتا ہے) لاکھوں سہولت کار ملک سے نکالے گئے پھر آجاتے ہیں۔ بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے دہشتگردی میں سرگرم، ایران نے نکال دیا تو افغانستان چلے گئے اور فتنة الخوارج سے مل گئے ”کند ہم جنس باہم جنس پرواز“ پیچھے کون؟ بھارت، لاکھوں ڈالر کی امداد، ڈرونز اور میزائلوں کی فراہمی، اسرائیلی ماہرینِ موجود ”یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود“ بھارت کی سرپرستی، مفاد پرست سرداروں کی حمایت حاصل، مقصد گوادر پورٹ کو فنکشنل ہونے اور معدنیات کی تلاش کے لیے مقامی اور عالمی ٹیموں کو بلوچستان آنے سے روکنا، امریکہ سعودی عرب ایران اور علاقہ کے دیگر ممالک اربوںکی سرمایہ کاری کے لیے تیار مگر دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک صرف تحریری وعدے، اور اب آزاد کشمیر میں نام نہاد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے راولا کوٹ کے باہر دو چار مقامات پر مختصر سے دھرنے، سردار امان، خواجہ مہران اور عمر نذیر کشمیری کا الحاقِ پاکستان کے موقف سے انحراف، پاکستان مخالف تقریریں، ملک دشمن نعرے، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کمیٹی کو آغاز ہی میں کالعدم قرار دلوا کر مذاکرات سے انکار کر دیا لیکن بعد ازاں اپنی قیادت کی جانب سے مذاکرات کے موقف کی تائید کر دی۔ کالعدم تنظیم سے جس کے اب تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلقات، امداد اور بھارتی جاسوسوں کی موجودگی کے واضح ثبوت مل چکے ہیں محض 27 جولائی کے انتخابات میں ووٹوں کے حصول کے لیے مذاکرات کرنے کی باتیں ناقابلِ فہم ہیں، مذاکرات کس بات پر ہونگے کیا آزاد کشمیر حکومت الحاق پاکستان سے انحراف، خود مختار کشمیر جس کا ذکر اقوام متحدہ کی قرارداد میں بھی موجود نہیں اس میں صرف پاکستان یا بھارت سے الحاق کے لیے استصوابِ رائے کا ذکر ہے) کے مطالبات تسلیم کر کے ہمیشہ کے لیے کشمیر سے دستبردار ہونا گوارہ کرے گی۔ جی بی میں عوام کو مکانات کی لیز کی بجائے ملکیت کے حقوق کے وعدے، آزاد کشمیر میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں کم یا ختم کرنے کے اشارے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے مترادف ہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے بعد بھی کشمیری مہاجرین کی 24 نشستیں موجود ہیں، کالعدم کمیٹی کے روپوش سرغنہ شوکت نواز میر کی گرفتاری کی غیر مصدقہ خبروں کے بعد دھرنا دینے والوں کی ہمت جواب دے گئی لیکن بھارت نے اپنے کام کے مخبروں کو بچانے کے لیے پاکستان پر حملہ کی دھمکی دے دی اور پٹھان کوٹ میں فوج جمع کردی، پاک فوج کا عزم بھرکس نکال دیں گے۔ گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود اچکزئی، راجہ ناصر عباس نقوی، شاہد خاقان عباسی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ہمراہ کمیٹی والوں سے مذاکرات کے لیے راولا کوٹ کی جانب روانہ ہوئے مگر روک لیے گئے، پولیس نے با عزت طریقے سے روکا تو دھرنا دینے کی دھمکی لیکن قیدیوں کی وین دیکھ کر گاڑیوں میں بیٹھ کر واپس آ گئے، محمود اچکزئی کس منہ سے ثالثی کرنے چلے تھے، گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ان کی تقریر موضوعِ بحث بنی رہی جس میں انہوں نے سپیکر سردار ایاز صادق کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے، سپیکر نے واضح کیا کہ تقریر کرتے ہی ایوان سے باہر نکل جانے سے قبل سنتے جائیں کہ میں پاکستان، آئین، فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، محمود اچکزئی کو خانوں کے خان نے اپوزیشن لیڈر تجویز کیا تھا لیکن وہ اس عرصہ میں خان کی رہائی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر مطالبات منوانے کے لیے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکے، مبینہ طور پر ان کی ہمدردیاں آج بھی پڑوسی ملک کے ساتھ ہیں۔
بحرانوں سے قطع نظر ملکی سیاست میں نئے کرداروں کو پذیرائی مل رہی ہے، ن لیگ سے بظاہر ناراضی کے کوئی آثار نہیں باہمی احترام کے رشتے برقرار ہیں موجودہ حکومت کے اقتدار کے دو سال رہ گئے، عوام مہنگائی اور سیاسی حالات سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے، پی پی اور مسلم لیگ کی میٹھی میٹھی چپقلش سے بھی ذمہ دار نالاں ہیں، سروے کے نتائج پانچویں بجٹ کے بعد بھی دل خوش کن نہیں خان ابھی تک مائنس ہیں اس لیے جی بی اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران آزادوں کو نئے مفلر پہنائے جا رہے ہیں۔ دو مسلم لیگی رہنما بھی گڈ بکس میں آ گئے ہیں، نئی صف بندی چہرے بھی وہی بندے بھی وہی مفلر بدل گئے، کمپنی یہی چلے گی۔

مزیدخبریں