یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی

09:14 AM, 6 Jul, 2026


رہبر معظم ایران جناب آیت اللہ خامنہ ای کا سفر آخرت اور انہیں الوداع کہنے کے لئے کروڑوں افراد کا سیل رواں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے۔ آج دنیا بھر میں جتنے بھی مذاہب ہیں، ان کے ماننے والے اور مذہبی رہنما تہران میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ایک شخصیت کو سپرد خاک کرنے کے انتظامات ہیں لیکن درحقیقت یہ سوچوں کے سو دریچے کھولنے کی سعی بھی ہے۔ ایرانی انقلاب اسلامی کے رہنما جناب آیت اللہ خمینی نے جب ایران کی زمین پر قدم رکھا تو ان کا استقبال اسی شان سے کیا گیا جس شان سے آج آیت اللہ خامنہ ای کو رخصت کیا جا رہا ہے۔
ایران میں بادشاہت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بعد اور امریکہ اور اس کے حواریوں کا طرزعمل دیکھنے کے بعد جناب خمینی نے ایک فقرے میں اپنی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ قریباً نصف صدی میں ایران میں متعدد حکومتیں آئیں لیکن نظریہ ضرورت کے تحت ان کی خارجہ پالیسی میں سرمو بھی تبدیلی نہ آئی۔ جناب آیت اللہ خمینی نے کہا تھا ہم اسلام دشمن، ایران دشمن اور شیطان بزرگ امریکہ سے ہاتھ نہیں ملائیں گے بلکہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ ایران اپنے موقف پر ڈٹا رہا، وہ اس طویل جنگ میں تنہا تھا۔ دنیا ایک فاصلے پر کھڑے ہو کر اس جنگ کے ختم ہونے کی منتظر رہی۔ آج جب سب نے دیکھا کہ جو حق پر کھڑے تھے وہ سرخرو ہوئے، باطل دنیا میں رسوا ہو گیا تو آج سب جوق در جوق اسی مردِحُر کے دیدار کیلئے اُمڈے چلے آتے ہیں، جس نے امریکہ اسرائیل اور ان کے گماشتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔
دنیا بھر میں کل ممالک کی تعداد 195ہے۔ آج سو سے زیادہ ملکوں کے سربراہ یا ان کے وفود تہران میں ہیں، گویا نصف سے زائد دنیا نے ایرانی قائدین، ایرانی افواج اور ایرانی قوم کی عظیم جدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ریفرنڈم ہے، جس میں دونوں استعماری ریاستوں کے سربراہوں کا منہ کالا ہو چکا ہے۔ امریکی مکاریوں کا اندازہ اس بات سے لگا ہے کہ امریکی زیراثر متعدد اسلامی و غیر اسلامی ممالک سے کہا گیا کہ وہ اس موقعہ پر تہران نہ جائیں، ایسا کرنے کی صورت میں امریکہ کے ان سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں، نصف دنیا نے اس امریکی دھمکی کی کوئی پرواہ نہ کی۔ امریکی سیکرٹری خارجہ اس مہم کے انچارج تھے، انہوں نے دنیا بھر میں اپنے سفارتخانوں کے مدد سے تہران جانے والے راستوں میں کانٹے بچھانے کی بھرپور کوششیں کی لیکن دنیا ”پتھروں پر چل کر“ وہاں پہنچتی رہی۔
دنیا نے سوا سو روزہ جنگ میں ایرانی جنگی صلاحیتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دو ایٹمی قوتوں کو ناکوں چنے چبوانے پر اسے خوب داد دی۔ آج دنیا ایران کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھ کر حیران ہو رہی ہے کہ ایران میں بارود کی باس ختم نہیں ہوئی لیکن وہ دنیا بھر سے آئے لاکھوں افراد اور سو سے زیادہ سربراہان مملکت اور وفود کی میزبانی کس خندہ پیشانی سے کر رہا ہے۔ ایرانی ہوٹلوں گیسٹ ہاﺅسز سرکاری اور غیرسرکاری عمارتوں میں مہمانوں کے قیام و طعام کا بندوبست تو کیا ہی گیا ہے لیکن ایرانی عوام نے غیرملکی اور خصوصاً مسلمان مہمانوں کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ آج ایران میں وہی مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جو ہم ہر برس ”سفر اولین “ میں دیکھتے ہیں جہاں زائرین کے لئے لاکھوں مسلمان بھائی بلامعاوضہ خدمات انجام دیتے نظر آتے ہیں۔
شہید خامنہ ای کے دیدار اور تعزیت کیلئے ان ممالک سے بھی وفود آئے ہیں جو ابتداءمیں امریکہ کے ساتھ کھڑے تھے اور ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے بھی موجود تھے لیکن امریکہ کو جارحیت سے باز رکھنے کیلئے انہوں نے اپنی سی کوششیں ضرور کیں۔
عقل و دانش پر مبنی فیصلہ کرنے والوں میں سعودی عرب، قطر اور بحرین شامل ہیں۔ ان کے وفود ایران پہنچے ہیں، دنیا ان کے اس فیصلے کو سراہ رہی ہے، ان کے اس فیصلے سے خطے کی تاریخ اور جغرافیہ بدل سکتا ہے۔ یہ فیصلہ قیام فلسطین میں معاون ثابت ہو گا۔
فوجِ یزید سے نکل کر جب کوئی حق کے ساتھ آن کھڑا ہوتا ہے تو وہ حُر سے ”حضرت حُر“ بن جاتا ہے۔ ابھی ایسے کئی منظر ہمیں دیکھنے کو ملیں گے۔ امریکہ دنیا پر زور دے رہا تھا کہ ایران سے کنارا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی آج دنیا کے بیشتر ملک امریکہ سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ تہران پہنچنے والے مختلف ممالک کے سربراہان کو شہید خامنہ ای کے دیدار کیلئے جس طرح لے جایا گیا وہ بھی دنیا کو ہمیشہ یاد رہے گا۔
سعودی عرب سے آنے والے وفد کو شہید کے جسد خاکی کے قریب لے جایا گیا تو دعا سے قبل تلاوت کلام پاک کی گئی۔ سورة آل عمران کی آیت نمبر 13 کا ترجمہ ہے۔ ”بے شک تمہارے لئے ان دو گروہوں میں بڑی نشانی ہے جنہوں نے آپس میں جنگ کی ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا دوسرا گروہ کافروں کا تھا جو کھلی آنکھوں سے ان میں مسلمانوں کو خود سے دوگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے تائید فرماتا ہے۔ بے شک اس میں عقل مندوں کیلئے بڑی عبرت ہے“۔ پاکستان کی طرف سے ایک وفد وزیراعظم کی قیادت میں دوسرا چیئرمین سینٹ کی قیادت میں اور تیسرے میں علمائے کرام اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ پاکستانی پارلیمانی وفد کے پہنچنے پر سورة آل عمران کی آخری آیت کی تلاوت کی گئی اس کا ترجمہ یہ ہے ”اے ایمان والو صبر کرو ثابت قدم رہو ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کروہر وقت تیار رہو دین کی حفاظت اور ذمہ داری کیلئے اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاﺅ۔
مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے وفود کے ارکان اپنے قومی لباس میں نظر آئے لیکن تلاش بسیار کے باوجود شیروانی اور شلوار قمیض نظر نہ آئی جس کا افسوس رہے گا۔ لاتعداد اچھی باتوں کے ساتھ ہمارا قومی لباس بھی کہیں دفن ہو چکا ہے۔ قومی تہواروں اور خصوصاً یوم دفاع پر ہم ملی نغمے پڑھتے اور سنتے جوان ہوئے ہیں۔ ان میں ایک ہے ”رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو“ یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی۔ آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر ایرانی شہدا کا لہو رنگ لے آیا ہے۔ یہ لہو اسلامی دنیا کا رنگ بدل دے گا۔

مزیدخبریں