تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آزاد، خود مختار اور زندہ قوم کے لیے اس کا ریاستی بیانیہ نظریاتی اور فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ریاستی بیانیے سے مراد وہ قومی فکر، بیانیہ یا فلسفہ ہے جو کوئی ملک اپنے داخلی استحکام، قومی تشخص، اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے وضع کرتا ہے۔ یہ بیانیہ کسی بھی ملک کے آئین، ثقافت، تاریخ اور مستقبل کے اہداف کا عکاس ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ وہ حقیقت یا سچائی ہے جو ایک ریاست اپنے شہریوں اور بیرونی دنیا کو اپنے بارے میں بتاتی ہے۔ موجودہ دور میں، جہاں جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ نظریاتی سرحدوں پر حملے ہو رہے ہیں، ایک مضبوط اور واضح ریاستی بیانیہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں دنیا کے نقشے پر اپنا وجود برقرار رکھ پاتی ہیں جن کا قومی نظریہ اور بیانیہ واضح ہوتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد ”دو قومی نظریے“ پر رکھی گئی، جو اپنے وقت کا ایک مضبوط ترین ریاستی بیانیہ تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد مختلف دہائیوں میں اندرونی سیاسی عدم استحکام، لسانی و علاقائی تعصبات، اور بیرونی مداخلت کے باعث اس بیانیے میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ اس کا نتیجہ ہم نے 1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں دیکھا، جہاں دشمن نے ہمارے کمزور بیانیے اور اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھا کر ملک کو دولخت کیا۔ اس وقت پاکستان کا دشمن وقت کے جدید تقاضوں اور آلات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر سے پاکستان کو اندرونی طور پر خلفشار اور انتشار کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ پاکستان کو عسکری میدان میں شکست دینا یقینا نا ممکن اور ناقابلِ یقین ہے۔ چنانچہ وہ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نوجوان نسل کو نظریاتی طور پر توڑنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ دشمن اس میدان میں یقینا کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے اور جامع حکمتِ عملی کے تحت روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور نظریاتی سرحدوں کو توڑنے کیلئے مختلف اسباب استعمال کر رہا ہے۔ آج کے جدید دور میں جنگوں کے روایتی طریقے بدل چکے ہیں۔ اب کسی ملک کو فتح کرنے کے لیے توپوں اور ٹینکوں کی ضرورت بعد میں پڑتی ہے، پہلے اس کے شہریوں کے ذہنوں کو مفتوح کیا جاتا ہے۔ اسے ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وارفیئر کہا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کا منفی استعمال، فیس بک، ایکس (ٹویٹر) اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی خبروں (Fake News) اور گمنام اکاو¿نٹس کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ دشمن کا وہ ہتھیار ہے جو گھر گھر میں گھس کر نوجوان نسل کو نظریاتی طور پر کمزور اور ریاست سے مایوس کر رہا ہے۔ دشمن کی جانب سے نوجوان نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، تاکہ وہ مایوس ہو کر ملکی ترقی میں حصہ لینے
کے بجائے ملک چھوڑنے یا بغاوت پر آمادہ ہو جائیں۔ نظریاتی انتشار پیدا کرنے کیلئے ملک کے اندر موجود لسانی، صوبائی اور مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر داخلی انتشار پیدا کیا جاتا ہے۔ ان تمام چیلنجز کا مقابلہ روایتی ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف ایک مضبوط اور متبادل ریاستی بیانیے سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان ایک کثیر الثقافتی اور کثیر اللسانی ملک ہے۔ یہاں ایک ایسا بیانیہ درکار ہے جو پنجابی، سندھی، بلوچ، پٹھان سمیت تمام اکائیوں کو یہ احساس دلائے کہ ان کا تحفظ اور ترقی صرف اور صرف ایک مضبوط پاکستان سے وابستہ ہے۔ حکومت وقت اس کیلئے کوشاں ضرور ہے تاہم ابھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنا تو درکنار دشمن کو روکنا ہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ایک منظم کمپین یا دوسرے لفظوں میں تحریک پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے جو ملک کو ایک بیانیہ پر اکٹھا کرے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔ ماضی میں ریاستی مشینری اور کثیر سرمایہ خرچ کر کے جنرل آصف غفور اور فیض حمید نے نوجوانوں کو ففتھ جنریشن وار کے نام پر اکٹھا کیا تھا اس کیلئے تمام ریاستی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سے ریاست کی بجائے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے بیانیہ کو فروغ دیا گیا۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور نفرتوں کو ہوا دینے کیلئے اسے استعمال کیا گیا۔ ملک کے اندر آصف غفور اور فیض حمید فورس نے تہذیب و تمدن رکھ رکھا، برداشت اور تحمل مزاجی کو برباد کر کے رکھ دیا اور یہ صرف اور صرف پراجیکٹ عمران خان کے فروغ اور اپنی انا کی تسکین کیلئے کیا گیا۔ ریاستی بیانیے کی ترویج اور فروغ کی بجائے پراجیکٹ عمران خان کو مضبوط کرنے کے لیے اس ملک کے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کیا گیا جابرانہ ٹیکس بے دریغ استعمال کیا گیا جس کے بعد ایسے بھیانک نتائج سامنے آئے کہ ملک کی ہیئت ہی تبدیل ہو کر رہ گئی۔ نفرتوں کو ایسا فروغ ملا کہ ایک گھر میں بیٹا باپ، بیٹی ماں کی دشمن بن گئی دراصل یہ بھارتی اور اسرائیلی ایجنڈا تھا جسے پراجیکٹ عمران خان کے ذریعے نافذ العمل کرنا تھا۔ اس کا واحد مقصد قومی تشخص کو ختم کرنا اور ملی وحدانیت کی پاش پاش کرنا تھا۔ کیونکہ فیض حمید اینڈ کمپنی انتہائی بزدل تھی وہ عسکری میدان میں بھی دشمن کا سامنا کرنے سے کتراتی تھی اسی لیے فلور آف دی ہاو¿س پر عمران خان نے کہا تھا ”اب کیا میں بھارت سے جنگ شروع کر دوں“ اور اس وقت کی عسکری قیادت باجوہ صاحب کہتے پھرتے تھے کہ ہمارے پاس تو ٹینکوں کے لیے تیل تک دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کو اس ملک پر عوامی سوچ اور منشا کے برعکس اقتدار میں لایا گیا۔ اور یوں ملک میں سیاسی اور نظریاتی طور پر اختلاف شدت اختیار کر گیا۔ جب ریاست اپنی پالیسیوں، معاشی منصوبوں اور ملکی دفاع کے اقدامات کو شفاف طریقے سے عوام کے سامنے رکھتی ہے، تو عوام اور ریاستی اداروں مثلاً عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ کے درمیان خلیج ختم ہوتی ہے۔ یہاں معاملہ الٹ تھا کیونکہ ریاستی بیانیہ کی بجائے ایک مخصوص پراجیکٹ کو تشکیل دینا تھا چنانچہ ریاستی ادارے اور ریاست بہت پیچھے رہ گئی نتیجتاً 9 مئی جیسے افسوناک واقعات ہوئے، ملک میں مذہبی منافرت پیدا ہوئی، ملی یکجہتی پاش پاش ہو گئی، دہشت گردی کو فروغ ملا کیونکہ پراجیکٹ عمران خان میں دہشتگرد طالبان کو بھی پاکستان میں لا بسایا گیا تھا کیونکہ خیبرپختونخوا کو پراجیکٹ عمران خان کا مرکز بنا مقصود تھا۔ اس کی جغرافیائی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں تو بھارت کے لئے وہاں سے اپنے لوگوں ٹی ٹی پی اور براہ راست طالبان رجیم کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانا آسان اور فنڈنگ وغیرہ ممکن تھا۔ کیونکہ پی ٹی آئی دور میں افغانستان کے ساتھ راہداریوں پر کوئی ممانعت، روک ٹوک اور دیگر سفارتی اصول نہیں تھے۔ پراجیکٹ عمران خان اس کے کرتا دھرتاو¿ں، بھارت اور اسرائیل کے مذموم عزائم کو شکست دینی ہے تو اس کیلئے ایک مقبول اور مضبوط ریاستی بیانیہ تشکیل دینا ہو گا۔ ایک کامیاب اور دیرپا ریاستی بیانیہ ہوا میں تشکیل نہیں پا سکتا اس کے لیے ریاستی اداروں اور اکائیوں کو متحرک کرنا ہو گا۔ ہمارا تعلیمی نظام نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہ دے، بلکہ انہیں ایک ذمہ دار شہری بنائے، نصاب میں قومی ہیروز کی قربانیوں، آئین کی اہمیت اور ڈیجیٹل خواندگی یعنی سوشل میڈیا کا درست استعمال کو شامل کیا جانا چاہیے۔ میڈیا کو سنسنی خیزی اور ریٹنگ کی دوڑ سے نکل کر قومی مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ڈراموں، فلموں اور دستاویزی فلموں کے ذریعے ملک کے مثبت تشخص، سیاحت اور ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے جب ملکی سلامتی اور ریاستی بیانیے کی بات آئے، تو تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی رہنماو¿ں کو اپنے فروعی اور ذاتی مفادات پسِ پشت ڈال کر ایک پیج پر آنا ہو گا، جیسا کہ ”نیشنل ایکشن پلان“ کے وقت دیکھا گیا تھا۔ ایک کمزور معیشت کے ساتھ مضبوط بیانیہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔ جب ملک معاشی طور پر مستحکم ہو گا، تو ریاستی بیانیے کو اندرون اور بیرونِ ملک زیادہ اہمیت اور پذیرائی ملے گی۔ مضبوط ریاستی بیانیہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔ جس طرح کسی عمارت کو قائم رکھنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح کسی ریاست کو قائم رکھنے کے لیے ایک متفقہ اور طاقتور قومی بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم نے وقت کی اس پکار کو نہ سنا اور اپنے نظریاتی محاذ کو کمزور چھوڑ دیا، تو بیرونی قوتیں ہمارے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست، حکومت، میڈیا اور عوام مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیں جو امن، قانون کی بالادستی، معاشی ترقی اور روشن مستقبل کی امید ہو۔ ورنہ طالبان، کالعدم جوائنٹ کمیٹی، بی ایل اے اور سیاسی انتشاری ٹولہ پاکستان کو زخمی کرتے رہیں گے۔
مضبوط ریاستی بیانیہ، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔
09:13 AM, 6 Jul, 2026