تہران : تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے بعد پہلی بار محرم الحرام کی مناسبت سے عوامی تقریب میں شرکت کی ہے۔ سرکاری ٹی وی پر جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خامنہ ای امام خمینی مسجد میں درجنوں افراد کے درمیان داخل ہوتے ہوئے ہاتھ ہلا کر لوگوں کو سلام کر رہے ہیں۔ شرکاء نے ان کا استقبال کھڑے ہو کر کیا۔
اسرائیل کے حملوں کے بعد خامنہ ای عوامی اجتماعات میں نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ان کی تقریریں عام طور پر ریکارڈ شدہ ہوتی تھیں۔ 22 جون کو اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ ان کی جگہ جانتے ہیں لیکن ابھی ان کے قتل کا ارادہ نہیں رکھتے۔
26 جون کو ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ خطاب میں خامنہ ای نے امریکی صدر کی ایران کو ہتھیار ڈالنے کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے قطر میں امریکی ائیر بیس پر حملہ کر کے سخت جواب دیا ہے۔
ایران نے تسلیم کیا ہے کہ جنگ میں 900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی جوابی حملوں میں 28 افراد مارے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 24 جون کو جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ تاہم، ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی تصدیق کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی ایجنسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔