ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
یہ ادب، یہ صبر ایسا دھیما پن، اس قدر درگزر اور احتجاج سے گریز کرنا کہتے ہیں یہ سب کام صوفی یا پرسکون زندگی بسر کرنے والے لوگ ہی گزارتے ہیں عمران مسعود کے ساتھ میرا تعلق کم ازکم تین عشروں سے جڑاہوا ہے پہلی ملاقات کا وسیلہ سابق سیکرٹری پنجاب جناب شعیب بن عزیز بنے پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب اور عمران مسعود ان کی کابینہ کے وزیر تعلیم تھے انٹرویو کے لئے یہ ملاقات پھرکئی طویل ملاقاتوں پر محیط ہوگئی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں پاکستان کی سیاست میں گھر بدلنے کی روایات جوبڑی وزراتوں کے چکراور پارٹی بدلنے کے رواج میں کسی نے ضمیر توکسی نے اپنی خاندانی روایت میں خود کو فروخت کردیا اگر میدان میںڈٹا رہے تو گجرات کی دھرتی کے اس سپوت نے بہت سی سیاسی رشتوں وزراتوں کے لالچ ، عہدوں کی آفرزکو نہ صرف ٹھکرایا بلکہ وہ ہمیشہ ق لیگ کی لیڈر شپ کے ساتھ کھڑے نظر آئے یہی نہیں انہوں نے اپنی سیاست اپنے سیاسی گھرانے اور اپنے حلقے کوآج بھی بڑی مضبوطی کے ساتھ تھام رکھا ہے یوں تو گجرات دھرتی نے بڑے نامور سپوت جنم دیئے اور کوئی ایسا میدان میں جہاں نشان حیدر سے لے کر اقتدا رکے ایوانوں تک اس کی جھلک نظر نہ آتی ہو
خوبصورت گفتار ،کردار محبتیں تقسیم کرتے عمران مسعود کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہم نے ان جیسے ذہین اور تمام تر صلاحیتوں سے بھرپور لوگوں کی قدر نہ کرکے پاکستان کو ان سے محروم کررکھا ہے حضرت علیؓ کا قول ہے … وہ خواہش کرو پیر ہن کی…وہ امید رکھ کم ترین نتائج کی …ان بدترین نتائج کیلئے تیار رہو…میرے نزدیک یہ تینوں اقوال عمران مسعود کی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنی قائدانہ ،سیاسی اور علمی شخصیت کے طور پر ثابت کیااور کئی مواقع پر ناممکنات کو ممکنات میں بدلا… ان کی گزری زندگی اور ان کے ارادوں کی پختگی نے آج عمران مسعود کے قد کو اور بڑا کررکھا ہے نئی سے نئی جہتوں تلاش کرنا ان کا فطری عمل ہے سیاست اور علم علمی گھر میں وہ مکمل فٹ نظر آتے ہیں ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جب کسی سے ملتے ہیں تو دل سے، مسکراہٹوں کے ساتھ اپنی بانہوں میں دوسروں کو سمیٹ لینااور ہر زیر بحث موضوع کے اندر رہتے ہوئے خودکو منوانا اور پھر جب ان سے کوئی جداہوتا ہے تو دل میں یہ تشنگی ضرور رکھتا ہے کہ شاید یہ ملاقات ادھوری ہے ۔
یہ ملاقات ایک بہانہ ہے یہ سلسلہ تو پرانا ہے
گزشتہ دنوں مجھے ان کی طرف سے ایک دعوت نامہ ملا…’’تھیس ڈسپلے‘‘ کے عنوان سے ایک ایسی تقریب کا انعقاد جس میں فیکلٹی آف آرٹ اینڈ فیشن ڈیزائننگ… یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء 2025ء اس دعوت نامے کی مجھے اس قدر خوشی نہ ہوئی جتنی خوشی ان کے ساتھ ایک اور ملاقات کی تھی الحمرا میں ہونے والی اس رنگا رنگ تین روزہ تقریب کو دیکھ کر اندازہ ہوا بلکہ وہ کہتے ہیں ناں کہ …
سجناں اے محفل اساں تیرے لئی سجائی اے
طلباء وطالبات کے ہاتھوں کے ڈیزائن کردہ مختلف تراشے دیکھنے کو ملے تو اندازہ ہوا کہ استاد اچھا ملے تو شاگرد کی زندگی سنور جاتی ہے ان کی شاندار صلاحیتوں کا انداز ہمیںاس وقت ہوا جب ان طلبا وطالبات نے خوبصورت ’’ڈریسز، خوبصورت پینٹنگز تراشے مجسمے اور فنون لطیفہ کے وہ تمام رنگ یہاں موجود تھے کہتے ہیں کہ آرٹ کسی بھی مکتب فکر کاہو اس کے وجود میں ایک بے ’’معنی‘‘ کی شمع روشن نہیں ہوتی، آرٹ کو سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ہررنگ کی اپنی ایک زبان اور مزاج ہوتے ہیں اور ان دونوں کے مزاج سے ہم آہنگ ہوکر ایک ایسی نئی صورت اختیار کرلیتے ہیں جو اصل سے مشابہہ ہوتے ہوئے بھی اس سے مختلف ہوتی ہے جس طرح ایک کہانی نگار یا ایک شاعر اپنے کہے لفظوں کو اپنے درد سے گزار کر ایک نیا اسلوب عطا کرتا ہے اس طرح رنگ تصور کے باطن سے وجود میں آتا ہے تو ایک نیاجہاں تشکیل ہوجاتا ہے الحمرا میں سجائی جانے والی اس آرٹ کی دنیا کے بارے اتنا ضرور کہوں گا یہ آج کل کے دور کے بچوں کی خوبصورت کاوشیں ہیں جو انہوں نے سالوں کی مدت کے ساتھ ساتھ ان کو مکمل کیا …تھیس آف آرٹ کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ پاکستان میں اگر اس شعبے کی طرف بھرپورتوجہ دی جائے اور دوسرے کورسزمیں آرٹ کو فروغ دینے کے ساتھ ان پر تھیس کرائے جائیں جیسا یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشا کے بچوں نے مکمل کیا اور پھر اس کو منظر عام پر لانا بھی ایک بہت بڑی بات اور دوسروں کیلئے نئے دروازے کھولنے کا آغاز بھی ہے ان طلبا وطالبات کی بنائی ہوے چیزوں نے ایک ایسا شعور تشکیل کیا اور یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم کسی سے کم نہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس عمر میں فن شناس ہونا بھی ان کے آنے والے اچھے کل کی نشاندہی کرتا ہے اور آنے والے بچوں میں ایک ایسی تحریک جنم لے گی جس سے پاکستان کا یہ آرٹ اور مضبوطی پکڑنا شروع ہوگا۔ میں نے وہاں موجود طلبا وطالبات سے بہت سے سوالات کیے تو سب نے جوبات میرے نزدیک بہت خوبصورت کی کہ ہم پہلے پاکستانی پھر ثقافت اور کلچر کے فروغ کیلئے ہرماحول میں پاکستان کے آرٹ اور فیشن کو پرموٹ کرنا ہے۔چاہتے ہیں اور حکومت ہماری بھرپور رہنما ئی کرے ۔
اور آخری بات …
عمران مسعود …ایک شخصیت بیک وقت دومیدانوں کے کھلاڑی سیاست اور علم کا پھیلاؤ اور یہ دونوں ایسے شعبے ہیں جن میں ثابت قدم رہنا بھی ان کے قد کو بلند کیے ہوئے ہے ان کا سیاست کے میدان میں سب سے بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کے اندر رہے وہ نہ تو جاوید ہاشمی نہ مفتاع اسماعیل اور نہ شاہد خاقان عباسی بنے اور نہ اپنے لیڈران کے خلاف کسی طرح کی بھی بیان بازی کی اس کوکہتے ہیںشرافتوں کی سیاست کے پیروکار جن کو اپنے ہی گھر میں جینا اور مرنا ہے …کہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں اپنے کئے کا پھل مل جانا بلا شبہ ایک نایاب نعمت ہے اور یہ نعمت کسی کسی کو ملتی ہے لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نہ تو کسی سرکاری عہدے ، نہ ایوارڈ کی ضرورت بس وہ اپنے عزم اصول اور فکر کے ساتھ خاموشی سے پورے وقار کے ساتھ اپنا راستہ طے کرتے ہیں عمران مسعود کا شمار بھی ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جنہوں نے خود کوسوائے خداکے کسی کے آگے خود کو جھکایا نہیں …اورکبھی اپنے پورے جاری وساری سفر میں غلط موڑنہیں لیا اورنہ پنجاب کی سیاست پر داغ لگنے دیا۔
عمران مسعود…صداقت کا سفیر
10:01 AM, 6 Jul, 2025