سوات سانحہ…حادثہ نہیں قتل

09:59 AM, 6 Jul, 2025

دریاکے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کے بارے میں اگرخلیفہ وقت سے پوچھ ہوگی تو کیا دریاکے کنارے حکمرانوں کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث مرنے والے ایک نہیں سترہ قیمتی انسانوں کے بارے میں کسی سے پوچھ نہیں ہوگی۔؟انسان یہ تواشرف المخلوقات ہیں۔ایک انسان کے قتل کواللہ نے پوری انسانیت کاقتل قراردیاہے۔ایک کتے کے مرنے پراگرخلیفہ وقت سے سوال کاامکان ہے توکیاپوری انسانیت کے قتل پربادشاہ خیبرسے کوئی سوال اورکوئی پوچھ نہیں ہوگی۔؟سانحہ سوات یہ حادثہ نہیں بلکہ یہ سترہ افرادکاوہ قتل ہے جس کاجواب ریسکیوانچارج سے لیکراسسٹنٹ کمشنرتک ،کمشنر سے ڈپٹی کمشنر تک اور چیف سیکرٹری سے لیکر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم تک سب کو دینا ہو گا۔ دریائے سوات کی تیزلہروں اورموجوں میں بے بسی کی تصویربن کرپتوں کی طرح بہنے والے ڈسکہ کے بدقسمت اور غریب خاندان نے دنیاسے جاتے جاتے خیبرپختونخوا حکومت کی انسانیت سے محبت کے جھوٹے دعوؤں اوروعدوں کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دیگرحصوں اورعلاقوں میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی محنت اور کوششوں سے بننے والی شاہراہوں،پل اور موٹرویز سے غصہ کھا کر تحریک انصاف کے بڑے کہاکرتے تھے کہ ہم پلوں اورشاہراہوں پرنہیں انسانوں پرپیسہ لگائیں گے۔ کیا انسانوں پرپیسہ لگانایہ ہے کہ اٹھارہ افراد دریا کے درمیان گھنٹے تک چیختے ،چلاتے رہے اور انسانوں پرپیسہ لگانے والوں کاکوئی بندہ ان کے پاس نہیں آیا۔ خیبرپختونخوامیں تیرہ سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ان تیرہ سالوں میں یہاں کے حکمرانوں نے انسانوں پرجوپیسہ لگایاہے وہ پوری دنیاکے سامنے ہے۔سوات سانحے کے بعدتواب یہ یقین پختہ ہوگیاہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا انسان اورانسانیت سے کوئی لینادینانہیں۔دریاکے درمیان پھنسنے والے اٹھارہ انسانوں کی چیخوں، آہوں اورسسکیوں کاجن پرذرہ بھی اثرنہ ہوان کے بارے میں کیسے کہاجاسکتاہے کہ انہیں انسانیت سے کوئی پیاریاکوئی لینادیناہے۔انسانیت سے محبت کرنے والے توایک انسان کی پکارپربھی پھرمشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک پہنچ جاتے ہیں اوریہ سوات تک نہیں پہنچے ۔سوات میں ہونے والے اس ظلم کوحادثے کانام دے کرحکمران اپنے گناہوں کودھونہیں سکتے۔یہ حادثہ نہیں سترہ قیمتی انسانوں کاوہ اجتماعی قتل ہے جس کاجواب یہاں نہیں تواس جہان کے اندرہرحال میں ہمارے ان حکمرانوں کودیناہوگا۔سننے میں آرہاہے کہ دریامیں پھنسنے والے وہ لوگ ایک گھنٹے تک بچاؤ،بچاؤکی دہائیاں دیتے رہے اگرایساہی ہے توایک گھنٹہ یہ کوئی کم ٹائم نہیں۔جن حکمرانوں کورعایاکااحساس اور خیال ہو۔جن کے دلوں میں انسانیت کی قدر اور درد ہو۔ وہ لوگ پھرگھنٹہ نہیں پانچ دس منٹ میں بھی زمین وآسمان اوپرنیچے کرلیتے ہیں۔ہمارے ان حکمرانوں کی طرح جن کوانسانیت اوررعایاکی کوئی فکر،خبراورکوئی پرواہ نہ ہوان کے سامنے ایک گھنٹہ نہیں ایک سال بھی کوئی آہیں اورسسکیاں بھر کر چیختا وچلاتارہے ان پراس کاکوئی اثرنہیں پڑتا۔سانحہ سوات خداکرے کہ یہ آخری غم ہولیکن یہ کوئی پہلا واقعہ بھی نہیں اس سے پہلے کوہستان کے اندربھی اسی طرح کئی لوگ پانی کے درمیان پھنس گئے تھے وہ بھی کافی ٹائم تک امداداوربچاؤکے لئے چیختے وچلاتے رہے لیکن آخرمیں وہ بھی صوبائی حکومت کی غفلت، لاپرواہی اوربے حسی پرآنسوبہاتے ہوئے اس دنیاسے رخصت ہوئے۔ باہر کے حکمران اپنی رعایاکے لئے جان کی بازی تک لگادیتے ہیں مگرہمارے حکمرانوں کو جھوٹے دعوے کرنے، بڑھکیں مارنے اورایک دوسرے کو گالیاں دینے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ سترہ افرادکااس طرح آنکھوں کے سامنے دریامیں بہہ کرموت کے منہ میں چلا جانایہ کوئی چھوٹی اورمعمولی بات نہیں۔ ایسا واقعہ اگرباہرکے کسی ملک میں ہوتاتووہاں پوری ریاست حرکت میں آتی۔ہیلی کاپٹرکیا۔؟وہاں پھرسارے وسائل ان لوگوں کوبچانے پرلگادیئے جاتے پرافسوس یہاں اٹھارہ افرادایک گھنٹے تک دہائیاں دیتے رہے۔حکمرانوں کوپکارتے اور بلاتے رہے مگرافسوس ان کی یہ دہائیاں اورآوازیں نہ تخت پشاورسے ٹکراسکیں اورنہ ہی اسلام آبادتک پہنچ سکیں۔جولوگ سترہ افرادکوپانی سے بچا نہیں سکے وہ ہزاروں ولاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کو سیلاب، مہنگائی، غربت اوربیروزگاری سے کیا خاک بچائیں گے۔؟ خیبرپختونخواکوپیرس بنانے کے دعوے کرنے والوں کے پاس کیااتنے بھی وسائل نہیں کہ یہ ناگہانی آفات، حادثات اوراس طرح کے واقعات میں پندرہ بیس انسانوں کو بچا سکیں۔ حکومتی وزیروں اورمشیروں کے لئے توہیلی کاپٹر تیار کھڑے ہوتے ہیں کیاصوبے میں ایساکوئی ہیلی کاپٹرنہیں جواس طرح کے حالات میں عوام کے زخموں پرمرہم رکھنے کے لئے ہوامیں ایک اڑان ہی بھرلے۔عوام کی جان ومال کی حفاظت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ریاست کوویسے ماں کا نام نہیں دیا جاتا۔ ریاست کا کام ہی ماں والا ہے۔ ماں توایک بچے کوبچانے کے لئے بھی آسمان سر پر اٹھالیتی ہے۔پھریہ کیسی حکومت اورکیسی ماں ہے کہ جواپنے سترہ بچوں کے لئے بھی حرکت میں نہیں آئی۔سانحہ سوات یہ حادثہ نہیں یہ ہمارے منہ پروہ طمانچہ ہے جس کی چھاپ وداغ اب ہم اپنے ماتھے سے کبھی دھو نہیں سکیں گے۔ دریامیں بہنے والے ان سترہ افراد کا خون ہمارے سر پر ہے۔ اس دنیامیں ہو یا اگلے جہان میں اس ناحق اوربے گناہ خون کاجواب ہرحال میں ہمیں دیناہوگا۔

مزیدخبریں