آج یوم عاشور ہے،حضور اکرم ﷺ کے نواسے نوجوانوں کے سردارحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی، کربلا میں شہادت کادن۔دنیا وی بھوک،پیاس ،کمزوری،ظاہری مفلوک الحالی اور کسمپرسی کے حالات تاکہ ہمیں کوئی سبق ملے۔لیکن حقیقت میں حسین بادشاہ اور یزید مفلوک الحال،کمزوراوربھوکا پیاسا۔ کربلا صرف حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور یزید کے درمیان ایک معرکہ ہی نہیں بلکہ رہتی دنیا تک حق اور باطل میں فرق کا استعارہ ہے۔قربانی کی مہکتی زندہ و جاوید مثال ہے حضرت حسینؓ ہرجگہ،ہرمقام اورہر موقع پرہدایت کا مینار۔ہرطوفان میں محفوظ پناہ گاہ۔سمندرکی بے رحم موجوں میں نجات کی کشتی۔ظلمت اورتاریکی میں روشنی کا چمکتامینار۔ہرمظلوم اور محروم کا سہارا۔ہر ظالم و جابر کے لیے انصاف کی تلوار۔حسینیت اور یزیدیت دوالگ الگ راستے ہیں،دوالگ الگ سوچ کے عکاس ہیں۔دو الگ الگ اسکول آف تھاٹ ہیں۔یزیدیت کفر،نفاق،فساد،ظلم، جبر،بے انصافی،دھونس،دھاندلی،جھوٹ،فریب،طاقت کا نشہ،گمراہی ،اقتدار کا لالچ،بے ایمانی،حق تلفی،برائی ہی برائی ،جاہلیت اورہربری چیز کادوسرانام جبکہ دوسری طرف حسینیت ان تمام گھٹیا صفات کے برعکس اچھائی،نیکی اور خیروخوبی کا نام ۔
یزید نے کربلا میں ظلم اور بربریت کی ہی انتہا نہیں کی تھی بلکہ اپنی گھٹیا سوچ اورگمراہی بھی آشکار کی تھی آج ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں اس معاشرے میں بھی حسینی اوصاف انتہائی کم اوریزیدی مکاریوں کی بھرمارہے۔آج حالات دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ گھڑی کربلا کی ہے اور ہم کربلا میں ہیں۔کربلا حق اورباطل میں فرق کرنے۔باطل کو پہچان کر حق کی صف میں کھڑے ہونے کا نام ہے۔کربلا سچ اور جھوٹ میں فرق کرکے سچائی کاساتھ دینے کا نام ہے۔کربلا انسانیت اور غیرانسانی رویوں میں فرق کرکے انسانیت کا ساتھ دینے کا نام ہے۔کربلا آمریت اورجمہوریت میں فرق کرکے جمہور کے ساتھ جانے کانام ہے۔ لیکن آج ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں اس معاشرے میں حسینی اوصاف انتہائی کم اور یزیدی مکاریوں کی بھرمار ہے گویا یہ گھڑی کربلا کی ہے اور ہم کربلا میں ہیں۔آج ظلم صاحب اولاد جبکہ انصاف بانجھ ہے۔آج طاقت کی پوجا جبکہ کمزورکو دھکے ہیں۔آج چڑھتے سورج کوسلام جبکہ ڈوبتے کو تنکے کا بھی سہارا نہیں۔آج ظالم کو ’’یس سر‘‘اور مظلوم کودھتکار ہے۔کرپشن کرنے والے معزز،رشوت خور اونچے منصب پرجبکہ ایمانداروں کی قسمت میں دھکے اور طعنے۔ یہاں حکومت بنانے والے کمزور اورحکومتیں طاقتور۔ ووٹ دینے والے بے خبر اور ووٹ لینے والے شاطر۔
اپنی عیاشیوں اورغریب کو مارنے کی روش۔ قربانیاں دینے سے خود کوسوں دور جبکہ عوام کو ہر وقت قربانی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت۔ اس ملک،قوم اورریاست کی جڑیں کھوکھلی کرتے دیمک۔ ہر حال میں اقتدار سے چمٹے رہنے والے ابن الوقت۔ کربلا میں بھی یہی سب کچھ تھا اس لیے آج ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں اس معاشرے میں حسینی اوصاف انتہائی کم اور یزیدی مکاریوں کی بھرمار ہے گویا یہ گھڑی بھی کربلا کی ہے اور ہم کربلا میں ہیں۔
کربلا صرف ایک معرکہ نہیں، ایک واقعہ نہیں ایک سانحہ نہیں ایک جنگ نہیں ایک لڑائی نہیں بلکہ کربلا تو ایک سبق کا نام ہے۔ ایک فلسفے کا نام ہے ایک کردار کا نام ہے۔ یہ سبق ہے ہمت کا، جرأت کا، انکار کا، ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا۔ حق پر کھڑے رہنے کا۔ جان کی پرواہ کیے بغیراصولوں پر اڑجانے کا۔تخت و تاج کو جوتے کی نوک پررکھنے کا۔ کربلا سبق ہے سچائی کا۔دلیری کا۔کربلا نام ہے ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دینے کا۔ کربلا نام ہے اندھیرے کے مقابلے میں روشنی کی تلاش کا۔ کربلا نام ہے طاقت ور کے مقابلے میں کمزورکا ساتھ دینے کا۔ کربلا نام ہے ظلم۔ ناانصافی۔ جھوٹ۔ لالچ۔ دھونس اور دھاندلی کے خلاف آوازاٹھانے کا۔ کربلا کا معرکہ ختم نہیں ہوا ہم آج بھِی کربلا میں ہیں۔ آج کشمیربھی کربلا ہے۔ آج فلسطین بھِی کربلا ہے۔شام کربلا ہے یوکرین کربلا ہے۔ہم نے ابھی ابھی اس دنیا کے ایک یزید کو شکست دی ہے جوپاکستان کا وجود مٹانے کے درپے ہے لیکن ہندوستان کو یہ معلوم نہیں کہ ہم حسینی ہیں۔گنتی میں کم ہوسکتے ہیں لیکن حوصلے میں نہیں۔وسائل میں کم ہوسکتے ہیں لیکن ہمت میں نہیں۔یہی ہمت،حوصلہ ہندوستان کیخلاف معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کی بنیاد بنا ہے کیونکہ ہم حسینی اوصاف کے مالک اور’’ بنیان مرصوص‘‘ بن کر دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہم نے مقابلہ کرنا کربلا سے ہی تو سیکھا ہے۔
اپنی آزادی اور اصولوں کی جنگ لڑتا ہرشخص حسین ہے۔ نہتے کشمیری ہوں یا فلسطینی ان پرطاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے والاہر کوئی یزید ہے۔ ہر ظالم یزیدہے ہر مظلوم حسینؓ ہے۔باطل یزید ہے حق حسینؓ ہے۔ناانصافی یزید ہے انصاف حسینؓ ہے۔دھونس دھاندلی سے اقتدارکاطالب یزید ہے۔حکومت کو ٹھوکرمارتا حسینؓ ہے۔شر یزید ہے خیر حسینؓ۔ باطل یزید ہے اور حق حسینؓہے۔ بدی یزید ہے اور نیکی حسینؓ ہے۔اس یزید اورحسینؓ میں کشمکش نہ کل ختم ہوئی تھی نہ آج ختم ہوئی ہے۔
جب تک ظلم باقی ہے یہ لڑائی رہے گی۔ جب تک اندھیرنگری باقی ہے یہ لڑائی رہے گی۔ جب تک ناانصافی باقی ہے یہ لڑائی رہے گی ۔جب جب انصاف کا قتل ہوگا،منصف کیس کی بجائے فیس دیکھ کرفیصلے صادر کریں گے یہ لڑائی رہے گی۔جب تک اتحاد کے بجائے نفرت کی تبلیغ ہوگی، تقسیم کی تبلیغ ہوگی۔دھڑے اور گروہ بندی کا پرچار ہوگا یہ لڑائی رہے گی۔ جب تک اپنے ہی ملک کے لوگوں کو ذات برادری۔ سندھی پنجابی۔ بلوچی اور پٹھان کے ترازو میں تولا جائے گا یہ لڑائی رہے گی۔ہمارے درمیان حسینؓ بھِی ہے اور یزید بھی۔شہدا کے خون کو متنازع بنانایزید کی سوچ ہے اپنے وطن کے لیے جان قربان کرنا حسینیتؓ کا راستہ ہے۔اپنے دور کے یزیدوں کو پہچانویزیدیت تمہیں توڑنے کے لیے ہے اورحسینیتؓ جوڑنے کے لیے ہے۔یزیدیت ہمارے بچوں کو جاہل رکھنے اورحسینیتؓ علم کا نام ہے۔یزیدیت اندھیرے کی علامت اور حسینیتؓ روشنی کاستعارہ ہے۔یزیدیت نفرت اور حسینیتؓ محبت کا نام ہے۔اتحاد کا نام ہے اتفاق کانام ہے۔آج پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اسی اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔
ہم کربلا میں ہیں!!
09:58 AM, 6 Jul, 2025