یمن بحران: ایک جنگ کے اندر کئی جنگیں

09:05 AM, 6 Jan, 2026

یمن کا بحران بظاہر حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے درمیان ایک سادہ اور دوطرفہ جنگ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تہہ در تہہ ہے۔ یہ تنازع محض اقتدار کی کشمکش یا حکومت کی بحالی تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ یہ یمن کی داخلی کمزوریوں، علاقائی طاقتوں کی رقابت اور عالمی سٹرٹیجک مفادات کا مرکب بن چکا ہے۔ 2015 میں شروع ہونے والی فوجی مداخلت نے نہ صرف یمن کی سیاسی وحدت کو مزید کمزور کیا بلکہ پورے خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
یمن پہلے ہی عشروں سے سیاسی عدم استحکام، قبائلی تقسیم اور کمزور ریاستی ڈھانچے کا شکار رہا ہے۔ عرب سپرنگ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی افراتفری نے حالات کو مزید بگاڑ دیا جس کا فائدہ حوثیوں نے اٹھایا اور شمالی یمن میں اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے اس پیش رفت کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے مداخلت کی، مگر یہ مداخلت جلد ہی اپنے ابتدائی مقاصد سے ہٹتی چلی گئی۔
آج یمن عملی طور پر تین بڑے حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ شمال میں دارالحکومت صنعا سمیت وسیع علاقوں پر حوثیوں کا کنٹرول قائم ہے جہاں وہ ایک متوازی نظامِ حکومت چلا رہے ہیں۔ وسطی اور مشرقی یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز موجود ہیں، جنہیں سعودی عرب کی عسکری اور مالی حمایت حاصل ہے۔ اس کے برعکس جنوبی یمن، خصوصاً عدن اور اس کے نواحی علاقوں میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی ) کا اثر و رسوخ نمایاں ہے، جسے متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس تقسیم نے یمن کو ایک متحد ریاست کے بجائے طاقت کے مختلف مراکز میں بانٹ دیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ابتدا میں ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے اور ان کا مشترکہ ہدف حوثیوں کو اقتدار سے ہٹانا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے سٹرٹیجک مفادات واضح طور پر مختلف ہوتے چلے گئے۔ سعودی عرب کی اولین ترجیح اپنی جنوبی سرحد کی سلامتی ہے۔ سعودی عرب حوثیوں کو ایران کے اثر و رسوخ کا توسیعی ہتھیار سمجھتا ہے اور اس خدشے میں مبتلا ہے کہ اگر حوثی مضبوط رہے تو یہ اس کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب ایک متحد یمن کا حامی ہے جہاں مرکزی حکومت اس کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔
اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات نے یمن کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا۔ اس کی توجہ جنوبی یمن کی بندرگاہوں، ساحلی علاقوں اور بحیرہ عرب و بحیرہ احمر سے جڑی سمندری گزرگاہوں پر مرکوز رہی۔ یو اے ای نے مقامی ملیشیاو¿ں اور سیاسی قوتوں کو مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل ایک طاقتور فریق کے طور پر ابھری۔ ایس ٹی سی نہ صرف جنوبی یمن کے لیے وسیع خودمختاری بلکہ بعض حلقوں میں مکمل علیحدگی کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات آمنے سامنے آ گئے۔
یہ اختلاف کسی وقتی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ دو مختلف سٹرٹیجک وژنز کا تصادم ہے۔ سعودی عرب خطے میں ریاستی وحدت اور سرحدی استحکام کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ یو اے ای بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور اثر و رسوخ کے دائرے کو وسعت دینے پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ یمن اس اختلاف کا سب سے نمایاں میدان بن چکا ہے، جہاں اتحادی قوتیں عملاً ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھائی دیتی ہیں، اگرچہ ظاہری طور پر اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
معلوم ہوتا ہے اسرائیل یمن بحران کے پیچھے کوئی منفی کردار ادا کر رہا ہے اور وہ سعودی عرب کے خلاف متحدہ عرب امارات کی حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودیہ کا دفاعی معاہدہ سبوتاژ کرنا اسرائیل کا اولین مقصد ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں جنہیں پاکستان کسی صورت داﺅ پر نہیں لگانا چاہتا اور یمن ایشو کا پر امن حل بھی تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم شہباز شریف, نائب وزیراعظم اسحق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر یمن جنگ میں اپنا مثبت اور مصالحانہ کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ یمن کی جنگ کی بنیادی وجوہات داخلی سیاسی انتشار، ریاستی کمزوری اور علاقائی طاقتوں کی رقابت میں بھی پوشیدہ ہیں اور اس میں اسرائیلی شرارت بھی کارفرما ہے۔ اسرائیل کے بحیرہ احمر اور باب المندب سے متعلق سٹرٹیجک مفادات ہیں۔ یمن کے میدانِ جنگ میں یو اے ای کی موجودگی اسرائیل کے مفادات کو براہِ راست تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یمن جنگ کے اثرات نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انسانی بحران اپنی بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جہاں لاکھوں افراد قحط، بیماری، بے روزگاری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ بچوں اور خواتین کی حالت خاص طور پر تشویشناک ہے، جبکہ بنیادی سہولیات کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ علاقائی سطح پر یہ جنگ خلیجی اتحاد کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نہ صرف خلیج تعاون کونسل کی وحدت کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر باب المندب کی غیر یقینی صورتحال بین الاقوامی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سمندری سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے یمن بحران ایک نازک سفارتی امتحان ثابت ہو رہا بے۔ پاکستان نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جنگ میں براہِ راست فوجی شمولیت سے گریز کیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ توازن پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے کی پالیسی اپنائی۔ اسرائیل نے یمن جنگ کے ذریعے متحدہ عرب امارات کا ساتھ دے کر پاکستان کو کسی حد تک مشکل میں ڈال دیا ہے ۔ تاہم پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خلیجی سیاست میں محتاط، اصولی اور غیر جانبدار سفارت کاری کو جاری رکھے۔
 یمن کی جنگ اب محض ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ پورے خطے میں پھیلتی ہوئی بدنظمی، طاقت کی سیاست اور مفادات کے تصادم کی علامت بن چکی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات ابتدا کسی خفیہ سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ متصادم قومی مفادات کا فطری اظہار ہیں۔ جب تک یمن کے اندرونی سیاسی مسائل کا جامع، قابلِ قبول اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا اور علاقائی طاقتیں تحمل و مفاہمت کا راستہ اختیار نہیں کرتیں یمن میں امن ایک خواب ہی رہے گا اور اس جنگ کے شعلے پورے خطے کو متاثر کرتے رہیں۔

مزیدخبریں