عرفان صدیقی صاحب یادیں اور باتیں.... !

09:04 AM, 6 Jan, 2026

اس میں کوئی مبالغہ آرائی یا تعلّی کا پہلو نہیں بلکہ حقیقتِ حال کا اظہار اور ایک طرح کی گواہی ہے کہ اللہ کریم نے برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کو بہت سی خوبیوں اور شائستہ اطوار سے نواز رکھا تھا۔ اُن میں ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ وہ دیرینہ تعلق تعلقات، شناسائی اور دوستی کے رشتوں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ وہ لوگ جن کا اُن کے ساتھ کبھی تعلق یا واسطہ رہا ، جن کے ساتھ وہ پڑھتے یا پڑھاتے رہے ، جو ان کے رفیق ِ کار رہے یا کسی اور حیثیت سے اُن سے ان کی وابستگی رہی ، خواہ وہ کسی درجے سے تعلق رکھتے تھے یا کسی اُونچی یا نیچی حیثیت کے مالک تھے ، عرفان صاحب اُن کی قدر افزائی کرنے یا اُن سے دیرینہ تعلقات کا تذکرہ کرنے میں کبھی بُخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ پچھلے تقریباً تین عشروں سے اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں عرفان صاحب کا عمل دخل ہی نہیں تھا بلکہ وہ اس کا قابلِ ذکر حصہ بھی تھے۔ ایسے میں وہ اپنے پرانے دوستوں ، شناساﺅں یا ہم جولیوں کو بھول جاتے تو یہ کوئی ایسی اَن ہونی بات نہیں سمجھی جا سکتی تھی لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ میں بطورِ خاص اگر اپنا ذکر کرنا چاہوں تو کہوں گا کہ جب وہ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی یا مشیر بدرجہ وفاقی وزیر تھے تو میں اُن کے دفتر میں ملنے جاتا اور حالیہ برسوں میں جب وہ سینیٹر بنے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ تھے تو سینیٹ سیکریٹریٹ میں اُن سے ملنے جاتا یا کسی اور مقام یا دعوت میں اُن سے ملاقات ہوتی تو عرفان صاحب کی طرف سے کبھی میری عزت افزائی اور قدر افزائی میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ وہ وہاں موجود افراد جن میں بعض اوقات اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی ہوتے تھے سے میرا تعارف کرواتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کرتے کہ لگتا جیسے اُن کے نزدیک مجھ سے بڑھ کر کوئی زیادہ اہم یا قابلِ قدر نہیں ہے۔ یہ صرف میرے ساتھ ہی معاملہ نہیں تھا بلکہ دیگر بھی پُرانے ساتھی ، رفقائے کار یا شناسا اُن سے ملنے جاتے تو اُن کا ذکر یا تعارف بھی اِسی انداز میں کراتے۔
یہ درست ہے کہ برادرِ مکرم ومحترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور سے میرا دیرینہ خصوصی تعلق، گہری قربت اور دوستی کا رشتہ تھا ہی لیکن میرے علاوہ بھی کچھ اور مہربان بھی تھے جن سے عرفان صاحب کی دیرینہ دوستی اور شناسائی تھی۔ بلکہ ان سے بعض کے ساتھ عر فان صاحب کی وساطت سے ہی میرا تعلق اور دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔ انہیں ہم مشترکہ دوست بھی کہہ سکتے ہیں ۔ایک زمانے میں ہمارے آپس میں باہم روابط اور میل ملاقاتیں 
معمول کی باتیں تھی ۔ پھر اپنی اپنی مصروفیات اور اپنے اپنے معاملات و مسائل کی بنا پر ان میل ملاقاتوں میں کمی آ گئی یا یہ قصہ پارینہ بن گئیں۔ تاہم عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی شخصیت کا یہ متاثر کن پہلو تھا کہ میں اُن سے ملنے جاتا یا کہیں اور ملاقات ہوتی تب بھی وہ بطورِ خاص کسی پُرانے ساتھی یا ساتھیوں کے بارے میں ضرور پوچھ لیتے کہ آیا اُن سے کوئی رابطہ ہے یا کوئی ملاقات وغیرہ ہوئی ہے ۔ میں اپنی معذوری کا اظہار کرتا یا بتاتا کہ کوشش کے باوجود اُن سے کچھ رابطہ نہیں ہو سکا تو پھر ہم کچھ وقت کے لئے اُن کے حوالے سے کچھ پُرانی یادوں کو تازہ کر لیتے اور ساتھ ہی کچھ دُکھ اور تاسف کے پیرائے میں یہ اظہا ر بھی ہوتا کہ اللہ جانے وہ اب اس دُنیا میں ہیں بھی یا نہیں۔ اس ضمن میں ہمارے ایک پُرانے دوست اور ہمدمِ دیرینہ لالہ سرور جن کا میں نے اس سے قبل بھی کہیں حوالہ دیا کا ذکر ضرور ہوتا تو کبھی کبھار شیخ طارق الہٰی مرحوم و مغفور ، راجہ اشتیاق مرحوم و مغفور اور راجہ عنایت الرحمن آف دیوی کو بھی یاد کر لیا جاتا۔ ان کے علاوہ سرسید سکول و کالج کے سٹاف ممبران ، کبھی ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسرز ، پروگرام منیجرز اور مختلف اوقات میں عرفان صاحب کے لکھے ہوئے ڈراموں اور دیگر پروگراموں میں حصہ لینے والے مرد و خواتین اداکاروں کا ذکر بھی ہوتا۔ ڈاکٹر شاہد رفیق جو سرسید کالج میں عرفان صاحب کے بڑے عزیز اور قریبی شاگرد رہے اور واہ سے تعلق رکھنے کی بنا پر اُنہیں ”طوطئی واہ“ بھی کہا جاتا تھا اور کسی اور وجہ سے ہم انہیں ”حسرتِ کلاس“ کا شکار بھی کہا کرتے تھے ، اب عرصے سے امریکہ میں ایک انتہائی کامیاب اور متموّل فزیشن کی حیثیت سے مقیم ہیں کا ذکر بھی ضرور ہوتا کہ ان کی میزبانی اور قدردانی میں واہ سے ہماری بالخصوص عرفان صاحب کی بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ تھیں۔
سچی بات ہے کہ عرفان صاحب کی یادوں اور باتوں کے ضمن میں پُرانے احباب کا میں تذکرہ کرتا ہوں یا کر رہا ہوں تو یہ ایک طرح سے میری طرف سے عرفان صاحب مرحوم و مغفور کے ساتھ اُن احباب کو جن میں سے اکثر اللہ کریم کو پیارے ہو چکے ہیں سپاسِ تشکر پیش کرنا ہے۔ لالہ سرور جن کا اُوپر میں نے حوالہ دیا عرفان صاحب کے اور میرے بڑے قریبی دوست تھے۔ یہ جی ٹی روڈ پر روات اور مندرہ کے درمیان قصبہ بانٹھ کے بالمقابل گاﺅں سنگھوری جو پاکستانی فوج کے سب سے پہلے سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن سرور شہید کا مولد و مسکن تھا کے رہنے والے تھے۔ میں اور عرفان صاحب ایک سے زائد بار لالہ سرور کے گاﺅں گئے ہونگے ۔ لالہ سرور نے ہم سے ایک دو سال قبل بی اے کا امتحان پاس کیا اور سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں داخلہ لے کر بی ایڈ بھی ہم سے پہلے کر لیا۔ وہ گھر ، گرہستی کے معاملات کے بڑے ماہر تھے اور ہم جب بھی اُن سے ملنے جاتے تو وہ پُر تکلف کھانے کھلانے کے ساتھ بڑی مزے مزے کی باتیں اور اپنے ساتھ بیتے دلچسپ اور یادگار واقعات کا بھی ذکر کرتے۔ وہ بہت عرصہ ایف جی پبلک ہائی سکول گوالمنڈی راولپنڈی میں بطور سینئر انگلش ٹیچر پڑھاتے رہے تو اس کے بعد ایف جی بوائز ہائی سکول اٹک میں بطور پرنسپل تعینات ہوئے۔ 
میں نے اُوپر شیخ طارق الہٰی مرحوم ومغفور کا ذکر کیا ہے ۔ شیخ طارق الہٰی کا تعلق لالکڑتی راولپنڈی میں گُڈ لک بیکرز کے نام سے معروف مشہور بیکری کے مالک گھرانے سے تھا۔ یہ سرسید سکول میں میرے اور عرفان صاحب کے اور بعد میں سرسید کالج میں عرفان صاحب کے شاگرد رہے۔ اس طرح ان کے ہم سے نیازمندانہ تعلقات قائم ہوئے جو بعد میں بے تکلف دوستانہ تعلقات میں تبدیل ہو گئے۔ عرفان صاحب اپنے محترم والدین کے ساتھ 1978 ءمیں حج کے لئے تشریف لے گئے تو شیخ طارق الہٰی مرحوم جن کی کچھ ہی عرصہ قبل شادی ہوئی تھی انہوں نے بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اُسی سال عرفان صاحب کے ہمراہ حج کیا ،اس طرح اُن کے عرفان صاحب کے ساتھ تعلقات میں مزید قربت آئی تو میرے ساتھ بھی ان کا زیادہ اُٹھنا بیٹھنا شروع ہوا۔ گُڈ لک بیکرز اور جنرل سٹور کا کاروبار انہیں اپنے لئے محدود لگا تو انہوں نے لیور برادرز کی ڈالڈا، لپٹن چائے اور دیگر مصنوعات کی ڈسٹری بیوشن لے لی ۔ کاروبار میں وسعت ضرور آئی لیکن وہ اپنے آپ کو اتنے بڑے کاروبار کو پوری طرح سنبھالنے اور اسکے تقاضے پورے کرنے کے اہل ثابت نہ کر سکے ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دس، بارہ سال کے اندر وہ ایک طرح کے دیوالیہ پن کا شکار ہو گئے۔ اگلے ڈیڑھ دو عشروں میں انہوں نے جو اُونچ نیچ دیکھی اور اُن کے گھرانے کو جن کا مشکلات کا سامنا رہا اُس کا اُن کے والدِ گرامی شیخ رحمت الہٰی مرحوم اور اُن کے بھائی شیخ تنویر الہٰی جو چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہونے کے ناتے واہ آرڈیننس فیکٹری میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں نے بڑی ہمت و حوصلے اور پامردی سے سامنا کیا اور انہیں دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم شیخ طارق الہٰی، اللہ کریم اُن کی مغفرت فرمائے اس دوران گردوں کے عارضے شکار ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔  (جاری ہے)

مزیدخبریں