تین ہجری کا میدان اُحد .... (2)

09:04 AM, 6 Jan, 2026


لاو¿ڈ سپیکر پر جاری اعلانات کو توجہ سے سنا تو وہ سرکاری پیغام تھا۔ سپیکر پر بتایا جا رہا تھا کہ اُحد کی یادگار پر تاریخی دورہ یا سیاحت کے لیے آئے ہو تو درست ہے اور اگر یہاں پر عقیدت لیے آئے ہو تو جان لو یہاں پر نہ کوئی دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہی یہ عقیدت گاہ ہے۔ میں ذاتی طور پر اعلان سے متفق نہیں تھا کیونکہ مجھے اس زمین سے عقیدت سے بھی کچھ بڑھ کر احساس تھا کہ یہاں میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم لگے تھے، کہیں ان کی ہدایات دیتی آواز کی مٹھاس تھی، کہیں آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے اللہ سے مکالمہ ثبت تھا، کہیں تیر اندازوں کو ڈٹے رہنے کی صدا بلند ہوتی تھی اور مال غنیمت کی طرف بھاگتے جنگجوو¿ں کو روکنے کا بلاوا تھا۔ عتبہ بن ابو وقاص اور ابن قیمہ دونوں نے رسول برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (نعوذ بااللہ) قتل کرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اسی مقام پر عتبہ کے پتھر سے سرکار دو عالمﷺ کا ہونٹ کٹ گیا اور دائیں طرف کا نیچے والا دانت ٹوٹ گیا۔ ابن قیمہ کے وار سے خود کی کڑیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار میں دھنس گئیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی کو عبداللہ بن شہاب نے زخمی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گڑھے میں گر گئے۔ یہ گڑھے ابو عامر نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لیے کھودے تھے۔ جہاں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب زخمی ہو کر گرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ حضرت علیؓ نے پکڑا اور سہارا دیا۔ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما بھی ساتھ تھے۔ حضرت علی علیہ السلام نے پانی سے 
خون صاف کیا اور مالک بن سنانؓ نے چہرے پر پھیلا خون چوس کر نگل لیا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت شہید ہوئے تھے اور رخسار میں دب جانے والی خود کو ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کھینچ کر نکالا تو ایک کڑی کے نکلنے سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اگلا دانت شہید ہو گیا اور دوسری کڑی کھینچنے سے دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔ زخموں سے ٹپکتا مقدس لہو بھی اسی میدان میں گرا تھا۔ میرے لیے اُحد کی زمین ہی نہیں، پہاڑوں سے گرتے پتھر بھی عقیدت کا محور تھے۔ یہاں پر سورج کی روشنی کا وہ حصہ جو ان نقش کف پا کو حدت میں نہلا رہا تھا، وہ بھی مبارک و مقدس تھا۔ اس لئے لاو¿ڈ سپیکر سے جاری وارننگ ہمارے لیے فقط ایک منافق و ریاکار کی اقامت کی طرح تھی کہ جس کی امامت میں کھڑی ہونے والی نماز قیامت کے روز منہ پر ماری جانا تھی۔ میں عینین پہاڑی پر چڑھ کر بہت دیر تک مدینہ کی طرف دیکھتا رہا اور پوری دنیا کو اپنے کردار اور عزم سے بدل دینے والے پیغمبر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارے سوچتا رہا کہ بے شمار منافقین اور حکم عدولی کرنے والے ساتھیوں کے باوجود وفاداروں اور جانثاروں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ مجھے اس کم بلندی والی پہاڑی کے پتھروں سے وہ مقدس لمس کی خوشبو آ رہی تھی جسے عرش سے فرش تک آشنائی کا شرف حاصل تھا۔
مدینہ سے نکل کر مسلمان لشکر کا پہلا پڑاو¿ جس جگہ تھا وہاں اب مسجد شیخین بن چکی ہے۔ تمام یادگاروں کو بدعت کا بہانہ بنا کر اس لیے مسمار کر دیا گیا ہے کہ آل سعود دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے عقیدہ کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ یہ جگہ بنی نجار کے گھرانوں کے پاس تھی۔ زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عین اسی جگہ ایک یہودی مرد اور عورت کے دو چوبارے تھے۔ اس جگہ پر کھڑے ہو کر میں نے معاذ اور دانش علی سے چند ایسی باتیں کیں جو قابل تعزیر بھی ہو سکتی تھیں کیونکہ اس جنگ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لہولہان کرنے والے بعد میں معتبر ٹھہرے اور ان کی شان میں ایسے واقعات گھڑے گئے جیسے اسلام ان کی وجہ سے پھیلا۔ ہم اس وقت کے ان لوگوں پر افسوس کرتے رہے جن کی جلد بازی نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صدمے سے دو چار کیا۔ اسی جگہ پر مسجد مستراح یعنی بنو حارثہ کی مسجد بھی تعمیر ہو چکی ہے۔ مسجد شہدا بھی حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ کی جائے شہادت پر تعمیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب اور ان کی خوشبو سے معطر ہر مقام کو مختلف مساجد اور عمارتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک عقیدت بھی بدعت ہے اس لیے وہ تمام نشانیاں مٹا دی گئیں۔
مجھے ہر صورت اس گڑھے تک پہنچنا تھا جہاں زخمی حالت میں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرے تھے اور ان پتھروں پر مقدس ترین خون کے چھینٹے تھے مگر وہاں پہنچ کر بہت دکھ ہوا کہ وہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لمس سے مالا مال گڑھا کنکریٹ سے بھر کر بند کر دیا گیا تھا۔ آل سعود کا عقیدہ امت کی عقیدت کو بدعت سمجھ کر ہر اس نشانی کو ختم کر چکا تھا جس سے ہمارے ہادی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو روح کو معطر کرتی تھی۔ ہم نے ابھی اُحد کی دوسری جانب اپنی سانسوں کو اس درے کی فضا سے عقیدت کا غسل دینا تھا مگر دانش علی تھک کر ڈرنک کارنر پر بیٹھ گیا۔ قہوہ پیتے ہوئے آسمان پر نگاہ ڈالی تو اس کا وہ حصہ جو اُحد پہاڑ کے اوپر تھا، بہت مختلف لگا۔

مزیدخبریں