تھرپارکر سندھ، پاکستان کے سب سے بڑے اور منفرد اضلاع میں شمار ہوتا ہے جو 19,637 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور صحرائے تھر کے وسیع حصے پر محیط ہے۔ اس ضلع کا صدر مقام مٹھی ہے جو انتظامی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق تھرپارکر کی مجموعی آبادی 17 لاکھ 78 ہزار 407 نفوس پر مشتمل ہے، جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں منتشر چھوٹی بستیوں میں زندگی بسر کرتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے یہ ضلع سات تحصیلوں، مٹھی، ڈپلو، اسلام کوٹ، چھاچھرو، ڈاہلی، نگرپارکر اور کالوئی پر مشتمل ہے، جو اس وسیع اور دشوار گزار صحرائی خطے میں نظم و نسق اور عوامی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
قدرتی حسن اور ثقافتی تنوع کے باوجود تھرپارکر کو صحت کے شدید اور دیرینہ مسائل کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر بیکا رام دیورا جانی، سابق وائس چانسلر لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمز) جامشورو اور تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے سینئر طبی ماہر کے مطابق ضلع میں مناسب جراحی سہولیات، مستند کنسلٹنٹس اور ماہر ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیشتر طبی ماہرین بنیادی سہولیات، رہائش اور پیشہ ورانہ ماحول کے فقدان کے باعث یہاں خدمات انجام دینے سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی پیچیدہ بیماریوں کے علاج سے محروم رہ جاتی ہے۔
ڈاکٹر دیوراجانی کے مطابق صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے باعث معدے اور آنتوں کی بیماریاں عام ہیں، جبکہ مؤثر ایمبولینس نیٹ ورک اور مناسب سڑکوں کی کمی ایمرجنسی طبی امداد کو مزید دشوار بنا دیتی ہے۔ انہوں نے تھرپارکر میں میڈیکل کالج کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مستقل طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی بلکہ مقامی نوجوانوں کو طب کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ ان کے مطابق بارشوں کے موسم میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں، ذہنی امراض عام ہیں اور بالخصوص کم عمر لڑکیوں میں خودکشی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں، جن کی بنیادی وجوہات معاشی بدحالی اور سماجی دباؤ ہیں۔ اس کے علاوہ آئرن اور فولک ایسڈ کی کمی، اسکریننگ سہولیات کا فقدان اور نوے فیصد سے زائد زچگیاں روایتی طریقوں سے ہونا ماں اور بچے کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں فری میڈیکل کیمپس تھرپارکر جیسے علاقوں کے لیے امید کی ایک مضبوط کرن ثابت ہوتے ہیں۔ حال ہی میں اسلامی تعاون تنظیم کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (او آئی سی-کامسٹیک)، یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز (یو ایم ایس)، ٹنڈو محمد خان، گورمے فوڈز، ضلعی انتظامیہ تھرپارکر اور محکمہ صحت، حکومتِ سندھ کے باہمی اشتراک سے چھاچھرو، تھرپارکر میں دو روزہ مفت طبی کیمپ منعقد کیا گیا۔
یہ دو روزہ مفت طبی کیمپ کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی-کامسٹیک، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کے فلاحی وعن کے عین مطابق منعقد کیا گیا، جنہوں نے اس انسانی خدمت کے لیے تھرپارکر جیسے دور افتادہ اور پسماندہ صحرائی علاقے کا انتخاب کیا تاکہ وہاں بسنے والی محروم آبادی کو براہِ راست بنیادی اور تشخیصی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اس طبی کیمپ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پہلے روز 2,162 مریضوں کا معائنہ اور علاج کیا گیا جبکہ دوسرے روز 3,550 مریضوں نے طبی سہولیات سے استفادہ کیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 5,712 افراد اس انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام سے مستفید ہوئے۔ دوسرے روز مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مقامی کمیونٹی کے اعتماد اور اس منصوبے کی افادیت کو واضح طور پر ظاہر کیا۔
کیمپ میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹروں نے خدمات انجام دیں جن میں آنکھوں، ناک کان گلا (ENT)، جلد، امراضِ قلب، معدہ و جگر، امراضِ نسواں، جنرل سرجری اور جنرل میڈیسن شامل تھے۔ مریضوں کو موقع پر تشخیصی سہولیات بھی فراہم کی گئیں، جس سے بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ممکن ہوا۔ کیمپ کے دوران دو کامیاب زچگیاں بھی کرائی گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مناسب سہولیات کی فراہمی سے دور دراز علاقوں میں بھی محفوظ زچگی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
طبی خدمات کے ساتھ ساتھ منتظمین کی جانب سے مریضوں اور ان کے ہمراہ آنے والوں میں منرل واٹر، جوس، کپڑے، جوتے اور دیگر ضروری اشیاء بھی تقسیم کی گئیں تاکہ مستحق خاندانوں کو بہترین علاج معالجے کے ساتھ ساتھ معاشی ریلیف بھی فراہم کیا جا سکے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد اقبال میمن، چانسلر یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز اور سی ای او انڈس میڈیکل کالج کی جانب سے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے انتظام میں فراہم کیا گیا بھرپور تعاون بھی قابلِ تحسین رہا۔
اختتامی تقریب کے موقع پر او آئی سی-کامسٹیک کے حکام کی جانب سے سول ہسپتال چھاچھرو، تھرپارکر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو اضافی ادویات بھی فراہم کی گئیں تاکہ کیمپ کے بعد بھی مریضوں کی دیکھ بھال کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ مقامی عوام اور ضلعی حکام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کے فقدان کو کم کرنے کی جانب ایک عملی اور مؤثر قدم قرار دیا۔
بلاشبہ تھرپارکر کے صحت کے مسائل مستقل، سنجیدہ اور ہمہ جہت توجہ کے متقاضی ہیں، تاہم اس نوعیت کے فری میڈیکل کیمپس نہ صرف فوری ریلیف فراہم کرتے ہیں بلکہ بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، صحت سے متعلق آگاہی اور مقامی آبادی میں اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایسے اقدامات کو تسلسل اور پائیدار منصوبہ بندی کیساتھ جاری رکھا جائے تو تھرپارکر کے عوام کیلئے ایک صحت مند، محفوظ اور باوقار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسانی جان کی قدر سرحدوں، زبانوں یا قومیتوں سے مشروط نہیں ہوتی۔
تھرپارکر: صحت کے چیلنجز اور انسانی خدمت کی امید
09:10 AM, 6 Feb, 2026