تربیتی پروگرام کے دوسرے روز ہم سب پاکستان ائیر فورس کے لاہور میں قائم ائیر بیس پہنچے ۔ یہاں سے ہمیں پاکستان نیوی کے اے۔ ٹی۔ آر طیارے کے ذریعے راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس کیلئے روانہ ہونا تھا۔ لاہور ائیر بیس کے لاونج میں ہم سب کو ایک حلف نامہ دیا گیا۔ لب لباب اس دستاویز کا یہ تھا کہ طیارے میں سفر کے دوران ہمیں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان نیوی پر قطعا عائد نہیں ہو گی۔ کچھ دیر اس حلف نامے کے بارے میں ہم نے کچھ ہلکا پھلکا مذاق کیا۔ اس کے بعد سب نے اس پر سائن کر دئیے۔ یہ یقینا ایک رسمی کاروائی تھی۔ سفر نہایت خوشگوار رہا۔ گپ شپ کرتے، وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔وقت مقررہ پر ہم راولپنڈی کے نور خان ائیر بیس پر جا اترے۔ وہاں سے اپنے ہوٹل پہنچے۔ اسلام آباد میں ہمارا قیام صرف ایک رات کا تھا۔ اگلا دن بے حد مصروف تھا۔علی الصبح ہمیں نیما یعنی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئر ز پہنچنا تھا۔ یہ ایک اہم تھنک ٹینک ہے۔ پاکستان کے بحری شعبے سے متعلق تحقیق، آگاہی اور پالیسی سازی اس کے بنیادی مقاصد ہیں۔ یہ ادارہ بحری شعبے سے متعلق تحقیق ، سفارشات اور حکمت عملی وغیرہ سے متعلق حکومت اور متعلقہ اداروں کو مشاورت اور معاونت فراہم کرتا ہے۔اس کے علاوہ بحری تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی مختلف نشستوں اور پروگراموں کا انعقاد کرتا ہے۔ نیما میں ہمیں ایک نہایت معلوماتی اور فکر انگیز بریفنگ دی گئی۔ پتہ یہ چلا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی جو بحیرہ عرب تک پھیلی ہوئی ہے، اس کا ہمارے ملک کی معاشی، تجارتی، ماحولیاتی اور سٹریٹجک ترقی میں مرکزی کردار ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مچھلی اور سمندری خوراک ملکی غذائی ضروریات پورا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے لئے بہت اہم ہے۔ بلیو اکانومی کے مختلف پہلووں ، مچھلی کی فارمنگ، سمندری توانائی، سیاحت ، پورٹس اور شپنگ وغیرہ کی اہمیت پر تفصیلی بات ہوئی۔ گوادر پورٹ اور کراچی پورٹس کی عالمی تجارت میں اہمیت کا تذکرہ ہوا۔ پتہ چلا کہ پاکستانی سمندر دراصل معیشت کا ایک وسیع سمندر ہے۔ تاہم اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ کئی شعبے ایسے ہیں جنہیں ہم نے ابھی مکمل طور پر استعمال نہیں کیا۔ یا ان سے پوری طرح مستفید نہیں ہوئے۔ یہ دراصل سمندر کی غیر دریافت شدہ صلاحیتیں ہیں جن سے ابھی ہم نے ٹھیک سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ یہ جان کر بھی بے حد دکھ ہوا کہ ہمارے بہت سے سمندری وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ اگر ہم بلیو اکانومی اور سمندری وسائل کو ٹھیک سے استعمال کر سکیں تو اربوںڈالر کما سکتے ہیں۔اور اس طرح اپنے ملک اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔
یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بحری علوم کی تعلیم اور تربیت پر اتنی توجہ نہیں جاتی ، جتنی درکار ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان آئے روز مختلف کورسز کو نصاب میں شامل کرنے کیلئے جامعات کو خط جاری کرتا رہتا ہے۔تجویز دی کہ بحری شعبہ اس قدر اہم ہے تو کمیشن کے ذریعے بحری علوم کو نصاب تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔ اسی طرح فنی تعلیم کے وفاقی اور صوبائی اداروں ( مثلانیوٹیک ، ٹیوٹا وغیرہ ) میں بحری شعبے سے جڑی مہارتوں کی تربیت دی جانی چاہیے۔ بلوچستان کی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ درانی بھی اس تربیتی پروگرام کا حصہ تھیں۔ وہ اس معاملے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ انہوں نے پیش کش کی کہ بلوچستان میں پاکستان نیوی یا متعلقہ ادارے اس ضمن میں ڈگری پروگرام شروع کرنا چاہیں یا فنی تربیت سے متعلق ادارے بنانا چاہیں تو وزارت تعلیم جگہ بھی فراہم کرئے گی اور ہر طرح کی معاونت کیلئے بھی تیار ہے۔ اس عمدہ پیش کش کا بہت خیر مقدم کیا گیا۔
ہمارا اگلا ٹھکانہ نیول ہیڈ کوارٹر تھا۔ یہاں ہمیں نیول چیف سے ملاقات کرنا تھی۔نیول ہیڈ کوارٹر پاکستان نیوی کا مرکزی کمانڈ اور پالیسی ادارہ ہے۔ نیوی کی حکمت عملی، آپریشنز اور دفاعی منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی اس مرکزپر ہوتی ہے۔ نیول ہیڈ کوارٹر پہنچے تو ایک افسر نے مختصر پریذنٹیشن دی۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ نیوی کے ہر پروگرام کا آغاز نبی پاک ﷺ پر درود شریف پڑھ کر ہوتا ہے۔لاہور، کرچی، اسلام آباد، گوادر ، ہر جگہ یہی روایت ہے۔ کچھ دیر بعد اعلان ہوا کہ نیول چیف تشریف لا رہے ہیں۔ حاضرین کو ہدایت کی گئی کہ چیف کی آمد پر کوئی اپنی سیٹ پر کھڑا نہیں ہو گا یعنی سب نشستوں پر براجمان رہیں۔ نیول چیف بیک سٹیج کے بجائے ،ہال کے عقبی (اور عوامی) دروازے سے داخل ہوئے ۔ ہال کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے سٹیج پر آئے اور ڈائس پر کھڑے ہو گئے۔ سچ یہ ہے کہ میں اس موقع پر بھاری بھرکم پروٹوکول کی توقع کر رہی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نیول چیف کی شخصیت، انداز و اطوار اور گفتگو میں سادگی کی جھلک تھی۔ انہوں نے شرکاء کو خوش آمدید کہا ۔ اس کے بعد سوالات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب نے کھل کر سوالات کئے۔ پاکستان کا بحری مستقبل، قومی سلامتی، بلیو اکانومی، غیر دریافت شدہ بحری وسائل، میڈیا اور نئی نسل کی ذمہ داریوں وغیرہ پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ پاکستان کا بحر عرب سے جڑا سمندری علاقہ ایک اہم اسٹریٹیجک اثاثہ ہے۔اس تناظر میں، دفاعی نکتہ نظر سے پاکستان نیوی کے کردار پر بات ہوئی۔ اس کی صلاحیتوں کا ذکر ہوا۔ یہ گفتگو ہوئی کہ ہم دنیا کی نیوی فورسز کے مقابلے میں عالمی درجہ بندی میں کہاں کھڑے ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے مقابلے میں پاکستان نیوی کی جنگی صلاحیت پر بات ہوئی۔ جواب کافی تسلی بخش تھے۔
اس نشست میں بھی یہ گفتگو ہوئی کہ دنیا تیزی سے بحری شعبے کا استعمال کر رہی ہے۔ عالمی تجارت، توانائی کے وسائل، ماحولیات، غذائی ضروریات ، سیاحت وغیرہ کا مرکز اب سمندر بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لئے لازمی امر ہے کہ اس کی اہمیت کو سمجھے۔ وسائل کو محفوظ کرئے اور استعمال میں لائے۔ اس نشست میں یہ حقیقت مزید واضح ہوئی کہ ہمارامعاشی اور دفاعی مستقبل صرف زمین اور خشکی کی حدود میں نہیں بلکہ سمندر کی وسعتوں میں پوشیدہ ہے۔ اس میں امکانات کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔ کچھ کاروباری حضرات نے تجارتی اور کاروباری امکانات پر اپنے تعاون کی پیشکش کی۔ تاہم نیول چیف کا ردعمل کچھ ایسا تھا کہ یہ معاملات ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، جن کا کام ہے ان سے رجوع کریں۔ میں نے سوال کیا کہ نیوی میں خواتین کی تعداد انسبتا کم ہے۔ کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ ہم یہاں خواتین کو وائس ایڈمرل کے عہدے پر دیکھ سکیں گے۔ پتہ یہ چلا کہ ڈیوٹی کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ سیلرز کو ہفتوں مہینوں سمندر میں ایک چھوٹی سی جگہ پر گزارنا پڑتے ہیں۔اس تناظر میں خواتین کی صنف کی وجہ سے اس صورتحال میں خواتین کی گنجائش نسبتاً کم نکلتی ہے۔ تاہم تعلیم، میڈیکل اور نیوی کے دوسرے شعبوں میں خواتین کافی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ محض رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک عمدہ فکری مکالمہ تھا۔تمام گفتگو نہایت پیشہ وارانہ، بامعنی اور معلوماتی انداز میں ہوئی۔نیول چیف کی توجہ دلائی گئی کہ ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے، تاہم وہ تب تک ڈائس پر کھڑے رہے جب تک سوالات کا سلسلہ رک نہیں گیا۔
یہاں ہمارے لئے ظہرانے کا اہتمام تھا۔ کھانے کے بعد ہم موما یعنی وزارت بحری امور روانہ ہو گئے۔ وہاں وزارت کے سیکرٹری نے ہمیں بریف کیا اور حاضرین کے سوالات کے جوابات دئیے۔ نیوی کے اس پروگرام میں بہت سوں پر کھلا کہ اس سے پہلے ہم sea blindness کا شکار تھے۔ یعنی سمندر کی موجودگی کے باوجود ہم اس کی صلاحیتوں اور امکانات سے ناواقف تھے۔مختلف نشستوں میں ہونے والی بے حد معلوماتی اور چشم کشا گفتگو سننے کے بعد میں سوچتی رہی کہ میں واقعتا اندھے پن کی حد تک سمندر کی اہمیت سے ناواقف تھی۔ برسوں شعبہ صحافت اور بعد ازاں شعبہ اعلیٰ تعلیم سے منسلک ہونے کے باوجود میں نے آج تک سمندر کے بارے میں لکھنے بولنے یا پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس تربیتی سفر کا فائدہ یہ ہوا کہ میری sea blindness یعنی سمندر سے لاعلمی میں کافی کمی واقع ہوئی۔ (جاری ہے)
پاکستان نیوی کیساتھ چند دن !!… (دوسری قسط)
09:09 AM, 6 Feb, 2026