ڈوبنے والے کو ڈوبنے دیں

09:06 AM, 6 Feb, 2026

بھیڑیا، بھیڑ کی کھال اوڑھ کر امن کی باتیں کرتا رہا۔ بھیڑیں اس پر یقین کئے بیٹھی تھیں، اسی مغالطے میں اسے دوسری مرتبہ منتخب کر لیا گیا تو اس نے بھیڑ کی کھال اتار دی کیونکہ اب اسے اس بہروپ کی ضرورت نہ رہی تھی۔ امریکی آئین میں صدر کو تیسری باری نہیں ملتی پس اس نے پس پردہ طاقت کا کھیل شروع کر دیا، جن کی خوشنودی کے بغیر کوئی شخص امریکہ کا صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔ اب تو وہ اسی طاقت کے ہاتھوں کھولنا بن کے رہ گیا ہے۔ وہ ڈگڈگی پر ناچ رہا ہے۔ گلے میں پڑی رسی جدھر کھینچی جاتی ہے ادھر مڑ جاتا ہے۔ اسے قدم قدم پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ دنیا کے قریباً تیس چھوٹے موٹے اور کمزور ممالک کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ ملا لیا گیا ہے جو نمائشی اور عددی طاقت تو ضرور ہیں لیکن دنیا کی نو نیوکلیئر طاقتوں میں پانچ کا تعلق ایشیا سے ہے جو امریکہ کے خلاف ہیں۔ ان میں روس، چین، بھارت، پاکستان شامل ہیں۔ کوریا کو بھی انہی ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو نیوکلیئر اسلحہ رکھتے ہیں۔ فرانس، امریکہ سے فاصلے پر نظر آرہا ہے، کچھ ایسی ہی سوچ اب برطانیہ میں نظر آتی ہے۔ فرانس اور برطانیہ چین سے تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کرنے کے بعد اب ہر بات میں امریکہ کی حمایت کرنے کی بجائے ہر بین الاقوامی معاملے پر امریکہ سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔ یوں نیوکلیئر طاقتوں میں امریکہ کے ساتھ تن من دھن سے اگر کوئی ملک کھڑا ہے تو وہ صرف اسرائیل ہے۔ نیوکلیئر کلب میں شامل ملکوں میں سوچ کی تبدیلی کے ساتھ امریکہ کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آتی ہے۔ پینٹاگون اور سی آئی اے کبھی نہیں چاہیں گے کہ نصف سے زائد نیوکلیئر ممالک اختلافات کے باعث امریکہ مخالف گروپ بنا لیں۔ آئندہ ماہ و سال میں کسی بھی وقت اگر ایران ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اس گروپ میں شامل ہوتا ہے تو وہ صد فی صد امریکہ مخالف دھڑے کے ساتھ جائے گا۔ ایران کب ایٹمی دھماکہ کرے گا ، دنیا کی نظریں ادھر لگی ہیں بالخصوص ایٹمی کلب کا ہر ملک اس کی سن گن لینے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کسی کے پاس اس حوالے سے کوئی خبر نہیں ۔ ایٹمی کلب میں امریکہ مخالف دھڑے تک ایسی معلومات پہنچیں بھی تو وقت اور حالات کا تقاضا ہے اس خبر کو ہضم کیا جائے۔ اس راز کو افشا کرنے کا نقصان ہی نقصان ہے۔ فائدہ تو کچھ نظر نہیں آتا۔ اس بات کا فیصلہ ایران پر چھوڑ دیا جائے۔ وہ یہ اعلان کب کرتا ہے۔ ایٹمی معاملات کی نزاکتوں کا احساس رکھنے والے منہ بند رکھتے ہیں۔ پاکستانی ایٹم بم بھی بہت پہلے بن چکا تھا لیکن اس کا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب اس کی ضرورت محسوس کی گئی۔ لیبیا میں نیوکلیئر پیش رفت کی خبر لیگ ہو گئی تو لیبیا کو ٹارگٹ کر دیا گیا۔ بعض ممالک آج امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ’’نیم درو  نیم بروں‘‘ کی کیفیت میں ہیں، انہیں اب یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اگر مڈٹرم الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کا پتہ صاف ہو گیا تو ان کا کیا بنے گا۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ امریکہ میں ایک پارٹی کی حکومت جانے کے بعد جب دوسری پارٹی کی حکومت آتی ہے تو نسبتاً کمزور اقتصادی طاقت رکھنے والے ممالک میں بھی حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ کچھ گر جاتی ہیں کچھ کو گرا دیا جاتا ہے۔ نئی امریکی حکومت نئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کام کرنے میں سہولت محسوس کرتی ہے۔ امریکی حکومتوں کے بدلنے میں ان کی ترجیحات بدلنے کے بعد اگر کسی ایک ملک نے اس کا اثر قبول نہیں کیا تو وہ ملک صرف ایران ہے یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکومت اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی کیونکہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ وہ امریکی مفادات کو سامنے رکھنے کی بجائے ایران کا مفاد ہمیشہ سامنے رکھتے ہیں۔ آج ہم جنہیں نظرانداز کر رہے ہیں، وہ کل اقتدار میں آگئے یا آج جو ہمیں نظرانداز کیے بیٹھے ہیں مسند اقتدار پر چہروں کی تبدیلی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اس کا تصور کرنا اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کرنا اہم ہے۔ 1988ء میں پاکستان ائیرفورس نے ایک روسی طیارہ مار گرایا جو وزیرستان کے علاقے میں پرواز کرتے ہوئے اپنا ہدف ڈھونڈ رہا تھا۔ طیارہ گرنے سے پہلے اس کے پائلٹ نے باہر چھلانگ لگا دی اور پیرا شوٹ کے ذریعے با حفاظت زمین پر اتر آیا جسے فوراً ہی گرفتار کر لیا گیا۔ دشمن کے فوجیوں سے اچھا سلوک کرنے کی پاکستانی روایت بہت پرانی ہے۔ روسی جہاز کے پائلٹ الیگزینڈر رٹسکوو کے ساتھ بھی بہت اچھا سلوک کیا گیا۔ اسے کچھ عرصہ بعد روسی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ الیگزینڈر کی زندگی میں ایک حیرت انگیز موڑ آیا۔ وہ ائیرفورس سے ریٹائر ہونے کے بعد روسی صدر یلسن کا نائب صدر بنایا گیا، اس نے اپنے عہد میں پاکستانیوں کی مہربانیوں کو یاد رکھا۔ وہ شاید اپنے زمانے میں پاکستان کو کوئی بہت بڑا فائدہ تو نہ دے سکا لیکن اس نے متعدد موقعوں پر پاکستان کو پہنچنے والے بڑے نقصان سے محفوظ رکھا۔ اس معاملے میں ہمارے ’’محکمہ زراعت‘‘ کو بھی کریڈٹ دیا جا سکتا ہے جو اس سے رابطے استوار کرنے میں کامیاب رہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنی ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر آیا ہے لیکن کہانی یہ گھڑی گئی ہے کہ یہ مذاکرات ایران کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا انجام کیا ہو گا اور اس کے کتنے دور ہوں گے، اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ان مذاکرات میں ترکی کا اہم کردار ہے جبکہ اسے قطر کا ساتھ بھی میسر ہے بعض دیگر اسلامی ممالک بھی پس پردہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایران کے پاس امریکہ کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے جو کچھ دینا ہے وہ ہٹ دھرم امریکہ نے ہی دینا ہے کیونکہ ایران گزشتہ نصف صدی سے پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس موقعہ پر ایک نئی امریکی فرمائش سامنے آتی ہے کہ ایران 408کلوگرام افزودہ کیا گیا یورینیم اس کے حوالے کر دے جسے اس نے گزشتہ بیس برس میں نوے فیصد افزودہ کیا ہے۔ کیا ایران یہ یورینیم اس لئے امریکہ کے حوالے کر دے تاکہ وہ مزید نیوکلیئر ہتھیار بنا کر ایران ہی کے خلاف استعمال کرے۔ ایران یقینا ایسا نہیں کرے گا۔
امریکہ کا منہ جب ایک مرتبہ کھل جائے تو اس کی فرمائش بڑھتی چلی جاتی ہیں، اس کی اگلی فرمائش ہو گی کہ ایرانی میزائل پروگرام بھی امریکہ کی دسترس میں دے دیا جائے کیونکہ امریکی میزائل ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ ایران خوب جانتا ہے یہ باتیں مان لی جائیں تو پھر امریکہ وہ حشر کرے گا جو اس نے یوکرین سے ایٹمی ہتھیار ضائع کرانے کے بعد اس کا ہونے دیا بعض سیاسی بدبخت ایران کو ایک نئی پٹی پڑھا رہے ہیں کہ جس طرح انہوں نے ماضی میں امریکہ کے ساتھ ایک ’’نورا‘‘ پروگرام کے تحت سے فیس سیونگ مہیا کی، ایران بھی اسی طرح امریکہ کو فیس سیونگ پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دے۔ بے غیرت ایسے منصوبے پیش کرتے رہتے ہیں، باغیرت ایرانی قیادت اور عوام اسے تسلیم نہیں کریں گے، وہ چاہیں گے ٹرمپ ڈوب رہا ہے اسے ڈوبنے دیں ، دنیا کا مفاد اسی میں ہے۔

مزیدخبریں