جنگ بندی عارضی ہے، مکمل حل کے لیے اسرائیل کا انخلا ضروری: قطری وزیراعظم

07:31 PM, 6 Dec, 2025

دوحہ : قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی فوج فلسطینی علاقے سے مکمل طور پر انخلا نہیں کرتی، اور اس کے بعد ہی پائیدار امن قائم ہو سکے گا۔

دوحہ فورم میں اپنے خطاب کے دوران شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا کہ فی الحال ہم ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں اور جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہ ہو جائے اور غزہ میں سیاسی استحکام بحال نہ ہو۔

یہ جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر سے امریکہ، مصر اور قطر کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں نافذ ہوا تھا۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل کو غزہ میں اپنے تمام فوجی اسٹرکچر سے دستبردار ہونا ہے، عبوری حکومت کو اختیارات سونپے جانے ہیں اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کی تعیناتی بھی لازمی ہے۔

عرب اور مسلم ممالک اس فورس میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ فورس فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتی ہے۔ ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے بھی اس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فورس کی قیادت اور اس میں شمولیت کے حوالے سے ابھی تک کئی اہم فیصلے باقی ہیں، اور ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے علیحدہ کرنا ہونا چاہیے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اس بات پر زور دیا کہ قطر، ترکی، مصر اور امریکہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں کامیابی کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حل محض عارضی ہے اور اس سے زیادہ اہم ہے کہ دونوں قوموں کے لیے انصاف پر مبنی پائیدار حل تلاش کیا جائے۔

قطری وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ اگر صرف گزشتہ دو سالوں کی مشکلات کا حل نکالنے پر توجہ دی گئی تو یہ ناکافی ہوگا۔ دونوں قوموں کے لیے طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے ایک جامع اور انصاف پر مبنی حل کی ضرورت ہے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، فورم کے دوران مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے قطری وزیرِاعظم سے ملاقات کی جس میں غزہ کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے شرم الشیخ امن معاہدے کی تکمیل کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

مصر نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کی تربیت کرے گا اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو استحکام فورس میں اپنے دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
 
 

مزیدخبریں