امریکی صدر کے ایران پر باربار حملوں کے نتیجے میں ہونے والے بڑے نقصانات کے بعد حکومت میں اہم عہدیداروں اور مختلف جرنیلوں کو وضاحت کیلئے سینٹ کی کمیٹی میں طلب کیا گیا اسرائیل کے سب سے بڑے ہمدرد لینڈسے گراہم نے جنرل ڈین سے سخت سوالات کئے جن میں ایک الزام یہ لگایا کہ پاکستان نے ایران کو اپنے طیاروں کو محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان میں سہولت مہیا کی ہے جنرل ڈین کین جو اپنی صاف گوئی کے لئے شہرت رکھتے ہیں یہاں صاف گوئی سے کام لیتے نظر نہ آئے اور گول مول جواب دے کر جان چھڑانا چاہتے تھے لیکن لینڈسے گراہم انکی جان آسانی سے چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے جنرل ڈین کین کے بعد سیکرٹری سٹیٹ مارکو ربیوپیش ہوئے تو لنڈسے گراہم نے یہی الزام دہراتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ایران کیلئے نرم گوشتہ رکھتا ہے تو ایسے میں ہمیں پاکستان پر اعتماد کرنے کے بجائے امن مذاکرات کے لئے دیگر دوستوں پر انحصار کرنا ہو گا لنڈے گراہم اور مارکیو ربیو ایک جیسی سوچ رکھتے تھے دونوں ابرائیل کی زبان بولتے تھے اور اسی کا تحفظ ان کے لئے مقدم تھا سینٹ میں اسرائیل نواز لابی کا پریشر کام کر گیا اور امن مذاکرات میں کچھ اور ممالک پرانحصار کیا جانے لگا لیکن پاکستان نے اس معاہدے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں اسے اپنی ناک کا مسئلہ نہ بنایا لنڈسے گراہم اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے وہ اس دنیا میں نہیں رہا خدا نے اسے ایسے وقت میں انجام کو پہنچا دیا جب وہ بڑے کروفر سے اسرائیلی مفادات کا نگہبان بنا بیٹھا تھا اور پاکستان و ایران کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا یاد رہے لنڈسے گراہم ان چند افراد میں شامل تھا جو امریکی صدر کے انتہائی قریب تھے اور امریکی صدر کو ایران پر حملے کی ہلا شیری دیتے تھے امن مذاکرات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے اس حوالے سے پاکستان سعودی عرب مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس عمان میں ہوا انہیں ایام میں عمان اور ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے میکنزام کی تیاری میں مصروف تھے جس کی خدوخال اب کافی حد تک واضح ہو چکے ہیں امریکہ کو اس میں سے کچھ نہیں ملے گا لیکن اب وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ ایرانی پابندیوں سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی جانے والی رقم کو ”ٹال ٹیکس“ نہ کہا جائے بلکہ اسے کوئی نام دے دیا جائے تاکہ وہ اسے اپنی کامیابی سے تعبیر کر سکے۔
عمان میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطینی عوام کے حقوق‘ حق خودارادیت کے علاوہ 4 جون 1967ءکی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے اپنی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا یہ بات یقیناً امریکی اور اسرائیلی سربراہان حکومت کو پسند نہیں آئے گی لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ غزہ اور فلسطین کے معاملے میں ایک مرتبہ پھر تعطل نظر آئے کیونکہ اسرائیل اس ایک نکتے کو ماننے کے لئے تیار نہیں دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی خواہش ہے کہ تعمیر نو یا کسی بھی قسم کے سیاسی عمل سے قبل حماس کو غیرمسلح کیا جائے جبکہ حماس ایران اور آزاد فلسطین کے قیام میں دلچسپی رکھنے والے تمام ملک اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر حماس کو پہلے غیرمسلح کر دیا گیا تو پھر فلسطین کا قیام ”آن میرٹ“ نہ ہو سکے گا حماس لیڈر شپ بھی سمجھتی ہے کہ غیرمسلح ہونے کا مطلب اپنے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ کاٹ کر اسرائیل کے حوالے کرنا ہے جس پر وہ کسی صورت تیار نہیں۔
ایک طرف تو امریکی صدر کو اپنے تمام منصوبے سے خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں دوسری طرف انہیں اپنی جان کے لئے بڑھتے ہوئے خطرات نے مزید پریشان کر دیا ہے ناکامیوں سے جھنجھلائے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تمام شوخیاں شرارتیں بھول چکے ہیں انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کے قریبی ساتھی لنڈے گراہم اپنی طبعی موت نہیں مرے بلکہ انہیں راستے سے ہٹایا گیا ہے اور جنہوں نے لنڈے گراہم کو راستے سے ہٹایا ہے وہ انہیں راستے سے ہٹا سکتے ہیں قریباً دو ماہ قبل جی سیون کے اجلاس سے فارغ ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفر واپسی کیلئے قطر کی جانب سے بطور تحفہ ملنے والے بیش قیمت طیارے میں سفر کرنا چاہا وہ اس سفر کے لئے بہت پرجوش نظر آئے انہوں نے اس طیارے کی خوبیاں خوب گنوائیں لیکن عین وقت پر ان کی سکیورٹی ٹیم کے سربراہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے ٹرمپ کو اس طیارے میں سفر سے روک دیا ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا گیا اس طیارے کے الیکٹرانکس نظام پر سائبر حملہ ہونے کے آثار نظر آتے ہیں دوران پرواز کوکچھ بھی ہو سکتا ہے‘ یہ تفصیلات جاننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا منہ لٹک گیا تمام خوشی ہرن ہو گئی انہوں نے واپسی کے لئے اپنا عرصہ داز سے زیراستعمال جہاز ایئرفورس ون سی استعمال کیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کا ہیلی کاپٹر بڑے حادثے سے بال بال بچا ہے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاﺅس کے قریب ایلیس سے لاس اینجلس جانے کے لئے بذریعہ ہیلی کاپٹر روانہ ہونا تھا لیکن قریب ترین رونالڈ ریگن ایئرپورٹ پر جہازوں کی معمول کی پروازوں کو نہ روکا تھا یوں جب امریکی صدر کے ہیلی کاپٹر کے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک کم ہو گیا دونوں کا ٹکراﺅ ہو سکتا تھا لیکن آخری وقت میں پائلٹ کی حاضر دماغی سے یہ حادثہ ٹل گیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مڈٹرم انتخابات کے لئے فنڈریزنگ کے لئے کیلی فورنیا پہنچے تو تقریب سے کچھ دیر قبل ایک مسلح شخص گالف کلب کے احاطے میں پہنچ چکا تھا اسے مشکوک سمجھ کر تلاشی لی گئی تو 38 سالہ جینین جان کی جیب سے بھرا ہو میگزین پستول اور اضافی گولیاں برآمد ہوئیں اس کے گھر چھاپہ مارا گیا جہاں سے غیرقانونی رائفل 45 پستول باڈی آرمز دو ریڈیو سگنل ڈوائسز برآمد ہوئیں‘ اس معاملے میں ایک نکتہ غور طلب ہے کہ کیا کچھ لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کی جان کے درپے ہیں یا ایک منصوبے کے تحت جان کے کے خطرے کی کہانیاں مارکیٹ کی جا رہی ہیں تاکہ ظالم اور سفاک ٹرمپ کو مصیبت زدہ اور مظلوم بنا کر مڈٹرم الیکشن میں ووٹ اینٹھے جا سکیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جان کو خطرات
09:05 AM, 7 Aug, 2026