گوگل کی سربراہی میں ہم شارٹ کٹ کے چکر میں بہت دور جا پڑے۔ شارٹ کٹ راستے عام طور پر منزل سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ گوگل کی سربراہی بھی عجیب ہے، بسا اوقات سر دردی بن جاتی ہے۔ ایک جیتا جاگتا ہوش مند انسان اپنا راستہ متعین کرنے کا اختیار مشین کو سونپ دیتا ہے۔ عجیب تر بات تو یہ ہے کہ انسان مشین کو خود سے بڑا مان لیتا ہے لیکن ایک گوشت پوست کے انسان کو اپنے سے بڑا ماننے میں متامل رہتا ہے۔ مشین کی عظمت کو سلام کرتا ہے اور انسان کی عظمت ماننے سے منکر ہے۔ راز یہی کھلتا ہے کہ انسان کو تسلیم کرنے میں نفس کو جھکانا پڑتا ہے، اس لیے یہ سجدہ اس پر ہمیشہ گراں رہا۔ دراں حالے کہ یہی سجدہ ہے جو اسے ہزار سجدوں سے نجات دیتا ہے۔ کسی مشین کو بڑا ماننا، کسی فرشتے کو بڑا ماننا، کسی ماورائی طاقت کو بڑا تسلیم کرنا، یہاں تک کہ خالی خدا کو بڑا ماننا اس کے نفس کے لیے سہل ہے۔ یہاں اسے اپنے نفس کو رکوع و سجود کی حالت میں جھکانا نہیں پڑتا۔ جو چیز نفس پر آسان ہے، وہ نیکی کس طرح ٹھہری۔ قرآن کہتا ہے کہ تم نیکی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے، جب تک وہ خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ نفس اور خواہشِ نفس انسان کو سب سے عزیز اور مرغوب ہوتے ہیں اور نیکی کے سفر میں اسی کی قربانی طلب کی جاتی ہے۔ معلوم ہوا نیکی کے قرب و جوار میں پہنچنے کے لیے اپنے نفس پر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ پندارِ نفس کا برباد ہونا، نیکی کے قریے کا آباد ہونا ہے۔
سربراہی گوگل کی ہو یا انسان کی، اسے من و عن قبول کیا جائے تو بات بنتی ہے۔ اگر کسی قیادت کو تسلیم کر لیا ہے تو درمیان میں اپنے عقلی، منطقی نکتے اور سابقہ علم کے لقمے نہ دئیے جائیں تو سفر آسان ہو جاتا ہے، قاید کا کام بھی آسان ہو جاتا ہے، وگرنہ یہاں بار بار اپنے موقف کی وضاحت دینے کا وقت ہوتا ہے نہ مزاج جو اپنے کیف میں ہے، وہ اپنے غیر میکانکی، آفاقی اور روحی شعور کے مدار کو چھوڑ کو واپس میکانکی منطق کی زمین پر قدم کیوں رکھے گا۔ کچھ اپنی مانو اور کچھ گوگل کی، کبھی اپنی مرضی کر لو اور کبھی گوگل کی مرضی پر چلو تو وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ ہوا۔ ہوا یوں کہ قونیہ کی طرف جاتے ہوئے شارٹ کٹ کے چکر میں ترکی کے گاو¿ں کی سیر تو خوب ہو گئی لیکن اس گاو¿ں کی سڑک نے جس مقام پر قونیہ کی شاہراہ سے ملاقات کرنا تھی، عین اس جگہ ریل کا پل تعمیر ہو رہا تھا۔ وہاں گوگل راستہ بتا رہا تھا لیکن ہماری نظریں کنکریٹ کے زیرِ تعمیر پل سے ٹکرا کر بے نیل و مرام واپس لوٹ رہی تھیں۔ پل کے دائیں بائیں
سے گزرنے کی کوشش کی، لیکن بے سود۔ ذیلی سڑک تعمیراتی میٹریل کی زد میں آ کر بلاک ہو چکی تھی۔ بڑی مشکل پیش آئی۔ ادھر سورج غروب ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔ ادھر یہ خوف دامن گیر کہ اس اجنبی گاو¿ں میں اگر رات ہو گئی تو کیا ہو گا۔ دو عدد بیگمات ہمراہ ہیں یعنی میری بیگم اور میرے بیٹے کی بیگم! ہم باپ بیٹا گاڑی سے اتر کر نامکمل سڑکوں کا جائزہ لینے لگے، کہیں اونچی اور کہیں نیچی سڑکیں موجود تھیں لیکن کوئی بھی سڑک اپنے سے بڑی شاہراہ سے کہیں بھی معانقہ نہیں کرتی دیکھی گئی۔ ہم بڑی شاہراہ پر دوڑتی ہوئی گاڑیوں کی آوازیں بھی سن رہے تھے لیکن اپنی گاڑی اوپر چڑھا نہیں سکتے تھے، جب تک کہ کوئی کرین ہماری گاڑی کو اٹھا کر اس سڑک پر نہ رکھ دے۔ تلاش کرتے، کھوج لگاتے بالآخر ایک چھوٹی سی سڑک کو آنک لیا، اس پر گاڑی چڑھائی تو دیکھا کہ آگے تازہ مٹی کی دو پہاڑیاں کھڑی ہیں۔ ایسے معلوم ہوتا تھا، گویا ابھی ابھی کوئی مٹی گرانے والا ڈمبر یہاں مٹی گرا کر گیا ہے۔ اس پر گاڑی چڑھانے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا تھا، کہ نرم مٹی میں ٹائر دھنس گئے تو گاو¿ں تک بھی واپس کیسے پہنچیں گے۔ ہم جس علاقے میں کھڑے تھے، وہ گاو¿ں کی حدود سے کافی باہر تھا۔ ادھر ادھر دائیں بائیں سے دو مرتبہ مزید کوشش کی، شاید کوئی ایسی سڑک مل جائے جو اصل شاہراہ پر ڈال دے، لیکن دونوں مرتبہ ہی گھوم پھر کر اسی سڑک کی طرف نکل آئے جو تازہ مٹی کے ڈھیر سے ڈھیر ہوئی پڑی تھی۔ چنانچہ بھاری دل کے ساتھ واپس ہو لیے۔ شارٹ کٹ راستہ اپنا خراج لے چکا تھا۔ اب ساٹھ سے ستر کلومیٹر واپس جائیں گے اور سیدھے راستے سے واپس آئیں گے۔ جب ہم گاو¿ں کے قریب سے دوبارہ گزرے تو میں نے بیٹے سے کہا، یہاں کسی مقامی دہقان سے راستہ پوچھ لو، انسان بہرحال مشین سے زیادہ قابلِ اعتبار ہوتا ہے۔ گاو¿ں کی ایک کشادہ گلی سے گزرتے ہوئے ایک نوجوان پر نظر پڑی، گاڑی روک کر اسے آواز دی اور راستے کی مشکل بیان کی۔ اس نے جو کچھ بتایا، اس کا اردو مفہوم کچھ اس طرح سے اخذ کیا گیا کہ راستہ موجود ہے، گاڑیاں گزر جاتی ہیں، پل کے دائیں طرف سے عارضی سڑک بنا کر ایک چھوٹا سا انڈر پاس بنا دیا گیا ہے، وہاں ”قونیہ کی طرف“ کے بورڈ بھی نصب ہیں۔ ان عارضی بورڈوں پر نصب تیروں کی سمت کے رخ چلتے جائیں، شاہراہ پر پہنچ جائیں گے۔ ہم کھِل اٹھے۔ لمبا سفر بچ گیا۔ خوش خوش گاڑی واپس موڑ لی اور بتائی ہوئی عارضی سڑک پر تیروں کی راہنمائی میں چلتے لگے۔ شومئی قسمت یہ راستہ بھی اسی سڑک پر لے گیا جسے مٹی کے بڑے بڑے ڈھیروں نے بند کر رکھا تھا۔ اب ایک بار پھر گاو¿ں کی طرف واپس ہو لیے۔ سڑک پر مٹی کے ڈھیروں کی یہ تازہ واردات غالباً ابھی گاو¿ں والوں کے علم میں نہیں آئی تھی۔ واپس گاو¿ں آتے ہوئے راستے میں مخالف سمت ایک خالی ڈمپر جاتا دکھائی دیا۔ بیٹے نے اندازہ لگایا کہ یہ ڈمپر سڑک سے مٹی اٹھانے جا رہا ہے، اب اس کے پیچھے چلتے ہیں، راستہ کھل جائے گا۔ میں نے سختی سے منع کر دیا۔ اب تین مرتبہ کوشش کر لی ہے، کافی ہے۔ اس سے زیادہ کے ہم قائل نہیں۔ ”بار بار کوشش کرو“ والا کلیہ یہاں درست نہیں۔ اب ناک کی سیدھ میں چلتے جا، خواہ راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔ سیدھا راستہ طویل ہوتا ہے، لیکن محفوظ ہوتا ہے۔ شارٹ کٹ راستے خطرے سے خالی نہیں ہوتے۔ شریعت سیدھا راستہ ہے محفوظ راستہ ہے۔ اسی راستے پر عزم و استقامت سے چلتے ہوئے طریقت اور معرفت کی شاہراہیں میسر آتی ہیں۔ یہاں شارٹ کٹ اختیار کرنے والے بالعموم گمراہ ہو جاتے ہیں، اغوا ہو جاتے ہیں۔ شریعت ایک حصار ہے، قلعہ ہے۔ یہاں مقیم سپاہی اپنے ازلی دشمن کے تیر و تفنگ سے محفوظ رہتے ہیں۔ ادھر ادھر سیر سپاٹے کرنے والے فکری آوارہ گرد کسی اغوا کار کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
بچپن میں یاد کرایا گیا سبق Try try again غیر حقیقی ہے۔ دنیاوی سفر میں یہ کلیہ درست نہیں۔ زندگی عالمِ امکانات ہے، یہاں ایک در بند ہوتا ہے، سو کھل جاتے ہیں۔ ایک امکان مسدود ہوتا ہے تو کئی امکان راہ تک رہے ہوتے ہیں۔ تین مرتبہ دستک دینے پر دروازہ نہیں کھلتا تو واپس لوٹ جانے کا حکم ہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم یہی ہے کہ تین بار دستک دو، اگر دروازہ نہ کھلے تو واپس لوٹ جاو¿ اور بدگمان نہ ہو۔ یہ زندگی میں کام آنے والا بہت بڑا سبق ہے۔ بدگمان ہوئے بغیر انسان واپس ہو جائے تو دل میں گلہ پیدا نہیں ہوتا، لب پر شکوہ و شکایت نہیں آتی۔ زندگی خوشگوار رہتی ہے۔ ہاں! دین کا معاملہ الگ ہے اللہ اور رسول کا معاملہ ہو تو یہاں بار بار کوشش کرنی چاہیے بار بار دستک دینی چاہیے۔ عمر بھر کے لیے اس دروازے پر کھڑے رہنا اور پڑے رہنا بھی بڑا کام ہے کیونکہ یہ ایک ہی در ہے، جو اس در سے لوٹا، وہ دربدر ہوا۔ اس در کے سوا کوئی اور در نہیں۔ کعبہ ایک ہی ہے، درِ رسول اور بتولؓ ایک ہی ہے، درِ ولایت ایک ہے۔ علی ولیؓ کا در ایک ہے۔ اس در کے علاوہ کوئی اور در نہیں۔ علم کا شہر ایک ہی ہے اور اس میں در بھی ایک ہی ہے۔
درِ نبی پہ پڑا رہوں گا
پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا
کبھی تو قسمت کھلے گی میری
کبھی تو میرا سلام ہو گا
سیدھا رستہ سہل رستہ
09:01 AM, 6 Aug, 2025