مسئلہ کشمیر کے حل کا بہترین وقت!

08:59 AM, 6 Aug, 2025

تاریخ کی کتب میں ایک مشہور واقعہ درج ہے کہ تکریت کے گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ہونے تک شادی سے انکار کرتے رہے۔ ایک دن ان کے بھائی اسد الدین شیر کوہ نے ان سے کہا بھائی تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ نجم الدین نے جواب دیا، میں کسی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا۔ اسد الدین نے کہا، میں آپ کے لیے رشتہ مانگوں؟ نجم الدین نے کہا کس کا؟ اسد الدین نے کہا ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا، یا وزیر الملک کی بیٹی کا۔ نجم الدین نے کہا وہ میرے لائق نہیں۔ اسد الدین حیرانی سے، پھر کون تیرے لائق ہو گی؟ نجم الدین نے جواب دیا مجھے ایسی نیک بیوی چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا ایک بیٹا ایسا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔ اسد الدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا ایسی تجھے کہاں ملے گی؟ نجم الدین نے کہا نیت میں خلوص ہو تو اللہ مدد کرتا ہے۔ ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے ایک شیخ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ہی شیخ کو آواز دی۔ شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کے لیے نجم الدین سے معذرت کی۔ شیخ نے اُس لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کر دیا جس کو میں نے بھیجا تھا۔ لڑکی بولی اے شیخ، لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر وہ میرے لائق نہیں تھا۔ شیخ نے کہا تم کیا چاہتی ہو؟ لڑکی بولی، شیخ مجھے ایسا لڑکا چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے اللہ مجھے ایک بیٹا دے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔ نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وہی یہ لڑکی بھی کہہ رہی تھی۔ نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے، اس نے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میری شادی کرا دو۔ شیخ نے کہا یہ محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ہے۔ نجم الدین نے کہا میں یہی چاہتا ہوں۔ نجم الدین نے اس غریب اور متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سے وہ شہسوار پیدا ہوا جسے دنیا ”سلطان صلاح الدین ایوبی“ کے نام سے جانتی ہے جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کرایا۔
کشمیر بھی ایک ایسا ہی خطہ ہے جو دہائیوں سے بھارتی ظلم و ستم کی چکی میں پس رہا ہے۔ 75 برس سے زائد ہو گئے لیکن کشمیریوں کیلئے زندگی آج بھی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے اور نہ اظہار رائے کی۔ آخر کچھ تو صیغہ راز ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔ کچھ تجزیہ کار تو یہ کہتے سنے گئے کہ کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے کسی نے خلوصِ نیت سے کوشش ہی نہیں کی کیونکہ نیک نیتی سے کی جانیوالی کوششیں رائیگاں نہیں جاتیں۔ بھارت مسلسل کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہہ رہا ہے اور پانچ اگست 2019ءتاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ خصوصی حیثیت ختم کرنے سے ایک دو دن قبل آزاد جموں کشمیر پر کلسٹر بموں سے حملہ پاکستان اور دنیا کےلئے یقینا ٹیسٹ کیس تھا۔ یہ وہ موقع تھا جب حریت کانفرنس کے رہنما اور بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے امت مسلمہ کے نام ایک درد بھرا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں ایک بڑے قتل عام، تاریخ انسانی کی سب سے بڑی خونریزی اور وادی کو انسانیت کا مقتل و مدفن بنانے کی تیاری کر رہا ہے اگر عالم اسلام اس قتل عام پر خاموش رہا تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ یہ سید علی گیلانی کی اہل پاکستان سمیت پوری دنیا کےلئے ہنگامی کال تھی لیکن دنیا تو اس وقت گونگی بہری بن چکی تھی۔ افسوس اُس وقت کے حکمرانوں پر جو اس ہنگامی کال کے جواب میں ماسوائے بیانات کے گولے داغنے کے ٹھوس اقدات نہ کر سکے۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت کی طرف سے مسلسل جارحیت کے اقدامات جاری رہے اور اس نے اپنے آئین میں سے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا۔ آج مقبوضہ وادی انسانیت کا مقتل و مدفن بن چکی ہے۔ صورت حال ہر لمحہ بد سے بدتر ہو رہی ہے، حالات سنگین تر ہوتے چلے جا رہے ہیں، ظالم بھارتی فوجی ہر چوک، چوراہے اور ہر راستے پر بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ کرفیو، اسلحہ، فائرنگ اور شہادتیں کشمیری مسلمانوں کے لیے نئی بات نہیں ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی ایک نسل کرفیو، گولیوں، فائرنگ اور لاٹھیوں کی برسات میں پل کر جوان ہوئی ہے۔ ان کے دلوں سے بھارتی فوج کا خوف نکل چکا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی اقدام کے بعد تمام تر پابندیوں کے باوجود کشمیری مسلمان سخت ترین کرفیو توڑ کر بھی بھارت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد مقبوضہ وادی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں حالات 27 اکتوبر 1947ءجیسے بن چکے ہیں۔ 1947ءکے موقع پر پاکستانی اور کشمیری قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں متفق و متحد تھے۔ قائداعظمؒ نے قوم کو ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ کا نعرہ دیا تھا“ وہ بستر مرگ پر بھی کشمیر کی آزادی کےلئے بے تاب و بے قرار تھے۔ انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف کو حکم دیا تھا کہ بھارت پر حملہ کیا جائے اور مقبوضہ جموں کشمیر کو بزور قوت آزاد کرایا جائے۔ اس وقت کے پاکستان کے مفتی اعظم نے کشمیر کی آزادی کےلئے جہاد کا فتویٰ دیا تھا۔ مجاہدین کے جذبوں کے سامنے بھارت گھٹنے ٹیکنے لگا، مجاہدین کے قدموں کی دھمک سے سری نگر بھی لرز رہا تھا یہاں تک کہ جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ سلامتی کونسل جا پہنچے اور بچاﺅ بچاو¿ کی دہائی دینے لگے تھے۔ اس نے اقوام متحدہ میں اپیل کی کہ جنگ بندی کرائیں ہم کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ چانکیہ کی سیاست کرنے والوں نے دھوکہ دہی سے کام لیا اور آج تک اپنے وعدوں سے مکر رہا ہے۔ کشمیری آج بھی پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔
بھارت کی حالیہ جارحیت کا پاکستان نے جس مو¿ثر انداز میں جواب دیا پوری دنیا آج اس کی تعریف کر رہی ہے۔ اس وقت پاکستان کی طاقت اور اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ امریکہ، چین، روس سمیت یورپی ممالک بھی پاکستان کی بات کو بغور سننے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ترکی، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات آپ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں ایسے میں یہ بہترین وقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بھی حل کر لیا جائے تاکہ کشمیری بھی آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکیں۔

مزیدخبریں