اگست 1945 انسانی تاریخ کا وہ مہینہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانا محض ایک جنگی فیصلہ نہ تھا، بلکہ ایک عالمی طاقت کے ابھرتے ہوئے سامراجی عزائم کا عملی مظاہرہ تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کی آڑ میں امریکہ نے دنیا کو بتا دیا کہ اب وہ صرف ایک اتحادی طاقت نہیں بلکہ عالمی سیاست کا نیا ”حاکم“ ہے۔ 1945 کے وسط تک جاپان کی شکست تقریباً یقینی ہو چکی تھی۔ اس کے بندرگاہی راستے بند ہو چکے تھے، فضائی حملوں نے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور لاکھوں فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے تھے۔ جاپان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور خوراک کی قلت نے عوام کو بدترین حالات سے دوچار کر رکھا تھا۔ جاپان مختلف سفارتی چینلز، بالخصوص سوویت یونین کے ذریعے امن کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہا تھا۔ اس وقت ایٹمی حملے کی کوئی فوجی یا سٹریٹیجک مجبوری باقی نظر نہیں آتی تھی۔ ایسے میں جاپان پر ایٹمی حملے کا فیصلہ جنگی ضرورت کی بجائے نئی ابھرتی عالمی طاقت کا محض ایک ”اختیار“ تھا، جسے امریکہ نے سامراجی انداز میں استعمال کیا۔ 6 اگست کو ہیروشیما اور 9 اگست کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ ان دو حملوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنے، لاکھوں انسان زخمی اور معذور ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری، عورتیں، بچے اور بزرگ تھے۔
یہ سوال آج بھی تاریخ دانوں اور اخلاقی مفکرین کے درمیان موضوعِ بحث ہے کہ یہ بم جنگ ختم کرنے کے لیے گرائے گئے تھے یا محض ایک عالمی ”پیغام“ دینے کے لیے۔ بہت سے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ حملے دراصل سوویت یونین کو خبردار کرنے کے لیے کیے گئے کہ اب دنیا میں ایک نئی عالمی طاقت، یعنی امریکہ کا راج ہو گا۔ یہ سب ایک سوچے سمجھے عالمی سامراجی منصوبے کے تحت ہو رہا تھا۔ ایک امپریل پاور سے دوسری امپریل پاور کو اقتدار کی منتقلی کا بھیانک عمل تھا۔ جس کی بھینٹ کروڑوں بے گناہ انسانوں کو چڑھایا گیا۔ ایٹمی حملوں سے قبل امریکہ اور برطانیہ کے مابین 1941 میں ”اٹلانٹک چارٹر“ کے نام سے ایک معاہدہ ہوا تھا، جس نے جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی بنیادیں رکھیں۔ بظاہر یہ معاہدہ آزادی، خودمختاری، اور امن پر مبنی تھا، مگر درحقیقت اس کا مقصد برطانوی نوآبادیات کے تحفظ کے بدلے میں امریکہ کو دنیا میں نئی سیاسی و اقتصادی بالادستی دینا تھا۔ برطانیہ (جس کی طاقت زوال کا شکار ہو چکی تھی) نے اپنی نوآبادیات بچانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ نے دنیا کے مختلف خطوں خصوصاً ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ”سامراجی خلا“ کو پُر کرنا شروع کر دیا۔ فرانس اور برطانیہ کی کمزور ہوتی گرفت کے نتیجے میں امریکہ نے ان کی جگہ لے لی۔ اس نوآبادیاتی مفاہمت کا ایک بڑا ہدف برصغیر تھا۔ 1947 میں برطانیہ نے ”آزادی“ کی آڑ میں ایک تقسیم شدہ، کمزور اور سیاسی طور پر غیر مستحکم برصغیر چھوڑا تاکہ امریکہ یہاں آسانی سے اثر و رسوخ قائم کر سکے۔ تقسیم کے فوراً بعد ہی پاکستان اور بھارت دونوں نے عالمی طاقتوں کی حمایت کے لیے کشمکش شروع کر دی، جس میں امریکہ سب سے بڑا کھلاڑی بن کر ابھرا۔ پاکستان میں تو امریکی اثر و رسوخ اس قدر گہرا ہوتا چلا گیا کہ 1950 کی دہائی سے آج تک، ہر فوجی و سیاسی حکومت نے امریکہ کی طرف ہی دیکھا چاہے وہ سکیورٹی معاہدے ہوں، فوجی امداد، آئی ایم ایف کے قرضے یا جمہوریت کی بحالی کا عمل۔ پاکستان میں 78 سالہ امریکی مداخلت ایک تلخ حقیقت ہے۔ ارض پاک کی سیاسی تاریخ کا اگر باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو ہر اہم مرحلے پر امریکہ کسی نہ کسی صورت موجود نظر آتا ہے۔ ماضی میں پاک بھارت جنگیں، بھٹو کی پھانسی، افغان جہاد، مارشل لائ، بے نظیر بھٹو کی جلا وطنی سے واپسی، نواز شریف کا سعودی عرب سے معاہدہ اور واپسی۔ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہو یا موجودہ سیاسی بحران ہر موقع پر امریکی مداخلت براہِ راست یا بالواسطہ نمایاں رہی ہے۔ اب عمران خان کی رہائی کے لیے بھی امریکہ کی جانب ہی دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت سے جنگ جیتے کا کریڈٹ بھی امریکہ کے جھولی میں ڈال کر، صدر ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینا چاہتے ہیں۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں کی امریکہ پر انحصار کی سوچ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اہم قومی فیصلے بھی واشنگٹن کی رضا مندی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ ہر جماعت، چاہے اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، اپنی بقا اور واپسی کے لیے امریکہ کی طرف رجوع کرتی ہے جو قومی خودمختاری کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ملکی معیشت کا دار و مدار آئی ایم ایف پر، خارجہ پالیسی کا انحصار واشنگٹن کی پالیسیوں پر اور داخلی سیاست کی سمت سفارت خانوں سے طے ہوتی ہے۔ قومی وقار، خودمختاری اور آزادی جیسے الفاظ صرف تقریروں تک محدود ہو چکے ہیں۔ امریکہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو سٹریٹیجک میدانِ جنگ بنا رکھا ہے۔ افغانستان سے لے کر ایران اور چین تک، امریکہ کی پالیسیاں مسلسل کشیدگی کو ہوا دیتی رہی ہیں۔ پاکستان، جسے اس خطے میں ایک مرکزی کردار حاصل تھا، اب معاشی بدحالی، سیاسی بے یقینی اور بیرونی طاقتوں پر انحصاری کا شکار ہے۔ امریکی ایٹمی حملوں کی صورت میں جو انسانی تباہی رونما ہوئی، وہ محض ہلاکتوں تک محدود نہ تھی بلکہ اس نے دیگر خطوں میں بھی نسل در نسل لوگوں کو جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اذیتوں میں جکڑ لیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی آج بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جب طاقت کو ضمیر سے جدا کر دیا جائے تو وہ انسانیت کو خاکستر کر دیتی ہے۔
ہیروشیما اور ناگاساکی کا سانحہ ایک مسلسل سوال ہے، کیا ترقی اور طاقت کا مطلب دوسروں کو روند دینا ہے؟ امریکہ کا سامراجی ماڈل آج بھی دنیا کے کئی خطوں میں ظلم، بے چینی اور بغاوت کو جنم دے رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کب تک اس سامراجی نظام کا حصہ بنے رہیں گے؟ طاقت کو ضمیر، خودمختاری کو بصیرت اور سیاست کو اصولوں کے تابع کیے بغیر قومیں ترقی کرتی ہیں نہ قوموں کا وقار بحال ہوتا ہے۔ دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ ان ذہنوں سے خطرہ ہے جو انہیں چلانے کی نیت رکھتے ہیں۔
اگست کا سیاہ باب جب ایٹم بم سامراجی عزائم کےلیے گرا!
08:59 AM, 6 Aug, 2025