گدھے کی توہین

08:54 AM, 6 Aug, 2025

گدھے کی سب سے بڑی توہین تو یہی ہے کہ اس کی توہین کرنے میں کوئی عار محسوس کیا جاتا ہے نہ توہین کرنے والے کو کبھی اس پر ندامت ہوتی ہے بلکہ معمول کی کارروائی سمجھ کر یہ فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ دوسری بڑی توہین یہ ہے کہ پوری اردو لغت میں گدھے کا ہم قافیہ کوئی لفظ ہی موجود نہیں۔ ممکن ہے کہ غیر شاعر اسے گدھے کی عزت افزائی سمجھیں کہ اس جیسا منفرد لفظ کوئی اور نہیں لیکن کسی شاعر کی نظر سے دیکھیں تو یہ گدھے کی کھلی توہین ہے کہ کوئی اسے اپنی شاعری میں قافیے کے طور پر ہی استعمال نہ کر سکے۔ یوں تو اور بھی بہت سے جانور ایسے ہوں گے جن کے ناموں کا کوئی ہم قافیہ لفظ لغت میں نہ ہو لیکن ہم پر اس قبیل کا ابھی تک یہی واحد لفظ منکشف ہوا ہے کہ ضرورت ہی اس کے استعمال کی پڑی ہے۔
وہ یوں کہ اسلام آباد میں گدھے کا گوشت پکڑے جانے کی خبریں سن کر جی میں آئی کہ گدھے سے ہم دردی کے لیے کوئی قطعہ لکھا جائے جس کے لیے گدھے کا صرف ایک ہی ہم قافیہ لفظ درکار تھا لیکن بعد از سعی بسیار بھی کسی نئی پرانی اردو لغت میں کوئی ایک لفظ ایسا نہیں ملا جو گدھے کے مقابل بطور قافیہ لایا جا سکے۔ یہ اور بات کہ دیگر زبانوں میں ایسے الفاظ ضرور موجود ہیں لیکن انہیں گدھے کا قافیہ بنانا فسادِ خلق کو دعوت دینے کا موجب بن سکتا ہے۔ اب کوئی یہ نہ پوچھے کہ ایسے الفاظ کون سے ہیں اور کون کون سی زبانوں میں ہیں۔ البتہ آپ سے ضرور یہ درخواست ہے کہ اگر آپ کو اردو لغت میں کوئی ایسا لفظ ملے جسے گدھے کے مقابل بطور قافیہ لایا جا سکے تو ضرور آگاہ فرمائیے گا۔
گدھے کی توہین کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ہر بے وقوف، ہٹ دھرم، بزدل یا ہڈحرام شخص کو گدھا قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تینوں صفات بیشتر جانوروں میں زیادہ جبکہ گدھے میں نسبتاً کم ہیں۔ گائے کو عام طور پر عقل مند جانور تصور کیا جاتا ہے لیکن وہ چلتے پھرتے لوگوں کے ”چھابے“ میں منہ مارتی رہتی ہے جبکہ آپ گدھے کو کبھی ایسی حرکت کا ارتکاب کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ جہاں تک ہٹ دھرمی کی بات ہے تو گدھے سے زیادہ ہٹ دھرم بھینس ہوتی ہے۔ بھینس کے آگے بین بجانا کا محاورہ تو سب نے سن ہی رکھا ہو گا۔ گدھے کو بزدلی کی تہمت بھی سہنا پڑتی ہے حالانکہ بزدل کے تو معنی ہی بکری کے دل والا ہیں، یوں بزدلی کی صفت بکری کا خاصہ ہے۔ گدھے پر ہڈحرامی کا الزام بھی درست نہیں۔ گدھے کے ذمہ جو کام لگایا جائے، اسے پورا کرتا ہے۔ جو بوجھ اس پر ڈالا جائے، اسے منزل تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ اب اگر دم لینا بھی ہڈ حرامی ہے تو پھر یہ عادت تو خود انسانوں میں سب سے زیادہ ہے۔ گدھے کی ”دولتی“ بھی بہت مشہور ہے حالانکہ یہ کسی کا اتنا نقصان نہیں کرتی جتنا گھوڑے کی ”یک لتی“ کر دیتی ہے کہ اس میں گدھے کی دس دولتیوں جتنی طاقت ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گدھے کا گوشت کھانے والوں میں گدھے جیسی عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ کچھ کا دولتیاں جھاڑنے کو جی چاہتا ہے تو کسی کا ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے کو۔ کچھ باتیں تو ایسی بھی سننے کو ملتی ہیں جن کے بیان کا یہاں محل نہیں تاہم ایسی تمام باتیں چاہے ناقابل بیان ہوں یا قابل بیان سراسر بے بنیاد ہیں۔ کیونکہ اگر کسی جانور کا گوشت کھانے سے اس کے جیسی عادات پیدا ہوتی ہوں تو گائے بھینس کا گوشت کھانے والے ڈکراتے، بکرا کھانے والے ممیاتے، مرغ کھانے والے کڑکڑاتے نظر آئیں۔ بلکہ ممکن ہے کچھ لوگ بھونکتے اور کچھ کائیں کائیں کرتے بھی دکھائی دیں۔
گدھے کا گوشت پہلے تو پوری دنیا میں صرف چین میں کھایا جاتا تھا لیکن اب کچھ عرصے سے پاکستانیوں کو بھی کھلایا جانے لگا ہے تاہم یہاں بہت سے لوگ اسے بیف کے دھوکے میں کھا رہے ہیں۔ چین کے علاوہ گدھے کا گوشت دنیا میں کہیں نہیں کھایا جاتا حالانکہ مغرب میں خنزیر تک بھی کھا لیا جاتا ہے لیکن گدھا کھانے سے وہاں بھی اجتناب کیا جاتا ہے۔
کیا یہ گدھے کی توہین نہیں کہ اس کا گوشت ایسے علاقوں میں فروخت کیا جائے جہاں کے لوگ اسے کھانا ہی پسند نہیں کرتے۔ ایسی واردات جب لوگوں کے علم میں آتی ہے تو ان کا رویہ نہ صرف گدھے کے حوالے سے مزید معاندانہ ہو جاتا ہے بلکہ وہ دوسرے جانوروں کے گوشت سے بھی کراہت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ذرا اس کیفیت کا تصور کریں کہ آدمی کی بھوک اپنے جوبن پر ہو، گرد و پیش میں کھابوں کی درجنوں دکانیں بھی موجود ہوں، طرح طرح کے پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں اپنی طرف کھینچ رہی ہوں، رال بھی مسلسل ٹپک رہی ہو، جی برابر للچائے چلا جا رہا ہو، جیب میں پیسے بھی موجود ہوں لیکن آدمی کا ذہن کچھ کھانے پر آمادہ ہی نہ ہو رہا ہو۔ دل و دماغ کے درمیان ایک سخت کشمکش جاری ہو اور اس کشمکش کا مرکز و محور صرف ایک لفظ ہو ”گدھا“۔ یعنی گدھے کے گوشت کا تصور ہی آدمی کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہو تو یہ بھی گدھے کی توہین ہے۔ گدھے کو اس توہین سے بچانے کے لیے اشد ضروری ہے کہ اس کا گوشت صرف انہی علاقوں میں فروخت کیا جائے، جہاں اس کی مانگ ہے۔
برادر ملک چین میں ماکولات کے حوالے سے چونکہ حلال و حرام کا کوئی تصور نہیں اور وہاں گدھے کا گوشت رغبت کے ساتھ خریدا اور کھایا جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ گدھے کے قصاب چین سے رابطہ استوار کریں اور گدھے کے گوشت سمیت جملہ باقیات ادھر بھیج دیا کریں تاکہ ان کا کاروبار بھی ترقی کرے اورگدھے بھی توہین سے محفوظ و مامون رہیں۔

مزیدخبریں