محمد علی رندھاوا نے جنوری 2023ءکو کمشنر لاہور کا چارج سنبھالا اور اس کے کچھ دنوں بعد ہی ڈی ایل سی کا چارج بھی انہیں دیا گیا اس کے علاوہ ایڈمنسٹریٹر ایم ایل سی کی حیثیت سے نہ صرف لاہور میں ترقی کا پہیہ تیز گھما دیا بلکہ برسوں کے رُکے ہوئے منصوبوں کو بھی شبانہ روز محنت سے پایہ تکمیل کو پہنچایا ۔جن کی تفصیل میں جانے سے قبل یہ ادراک ضروری ہے کہ محدود وسائل، موسموں کی شدت اور ایک ہی وقت میں بیسیوں شروع ہونے والے پراجیکٹس جنہیں نہ صرف مکمل کیا گیا بلکہ محدود وسائل میں ہر پراجیکٹ میں کفایت شعاری کر کے ممکنہ تخمینے سے کم لاگت میں مکمل بھی کیا گیا۔
جس برق رفتار ”سپیڈ“ سے جسے میاں شہبازشریف نے محسن سپیڈ کا نام دیا یہ منصوبے چلے اور پورے ہوئے اہل لاہور حیران تھے کہ بے تحاشہ مسائل سے بھرپور ٹریفک کو آرگنائز کرنے اور آنے والے کئی سالوں کے لئے کس قدر تعداد میں اوور ہیڈ برجز اور انڈر پاسز ادھر افتتاح ہوتا ادھر تکمیل ہو جاتی لوگ کہتے کوئی افسر ایسی ”جناتی“ قوت سے یہ کام نہیں کر سکتا مگر ان کے ساتھ کام کرنے والے جانتے ہیں کہ محمد علی رندھاوا جب پراجیکٹس میں جان مار رہے ہوتے ہیں تو ان کو نہ اپنی صحت کی پرواہ ہوتی ہے نہ آرام کی جتنی تعداد میں ٹریفک مسائل کو ہینڈ کیا گیا.... اس سے ہم انہیں ”ماہر نشیب و فراز“ یعنی ماہر انڈر پاسز و ماہر اور ہیڈ برجز کہا کرتے لاہوری چونکہ اپنے پر احسان کرنے والوں سے ہمیشہ محبت کرتے ہیں اور کبھی احسان فراموش نہیں کرتے اس لئے ابھی جب انتظامی امور کے سلسلے میں اسلام آباد میں چند تبدیلیاں ہوئیں تو رندھاوا صاحب کے حق میں زیادہ تر آوازیں لاہور سے اٹھیں جنہوں نے ان کی انتھک کارکردگی کی گواہی دی۔
میں کبھی توصیفی کالم نہیں لکھتی ہاں مگر اعتراضی کالم ضرور لکھتی ہوں ایک ایسا معاشرہ جہاں صرف بیورو کریسی کو جلن کی وجہ سے رگیدا جاتا ہے وہاں ایک سچے قلمکار کا فرض بنتا ہے کہ سچ لکھے اگر کوئی افسر ہے ہی غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک تو محض اسے اس بنیاد پر کہ وہ بیورو کریٹ ہے تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ محمد علی رندھاوا پر ناجائز تنقید کی گئی اس طرح سے محکمے ایک انتھک افسر سے محروم ہوئے لاہور کی خدمات کے بعد جب انہیں چیف کمشنر و چیئرمین سی ڈی اے لگایا گیا تو انہوں نے تقریباً گزشتہ دو برس وہاں بھی عوامی خدمت کے منصوبوں کی لائن لگا دی جب ہم اسلام آباد رہتے تھے تو میلبری کے پودوں کی وجہ سے جان عذاب تھی جنہیں کاٹنے کا حکم نامہ قانونی طور پر جاری ہو چکا تھا جب ان درختوں کو کاٹا گیا تو اس سے دگنی تعداد میں پھل اور پھولدار سایہ دار درختوں کی آبیاری کی گئی پھر سرکاری زمین کو واگزار کروانا بھی جرم قرار دیا گیا۔
لاہور میں جیسے پی کے ایل آئی کی تزئین و آرائش کارڈیالوجی میں جیسے مسافر خانہ، سمن آباد انڈر پاس، مولانا محمد علی جوہر کی تکمیل، نظریہ پاکستان کو ریڈور منصوبہ جو کہ پانچ سال سے بند پڑا تھا مکمل ہوا کیولری انڈر پاس کی تکمیل، ایل ڈی اے اسفالٹ پلانٹ کا فنکشنل ہونا، گلبرگ سپورٹس کمپلیکس، سنت نگر کمپلیکس، ایل ڈی موبائل ایب، بزرگ صارفین کو گھر پر دستاویزات کی سہولت اور اس طرح کے بے شمار منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے۔
اسلام آباد تعیناتی کے گزشتہ دو سالوں میں جس قدر کام ہوا اس کے بارے میں وہ خود کہتے ہیں کہ جب میں اپنے دور ذمہ داری پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے صرف منصوبے اور اعداد شمار ہی نظر نہیں آتے بلکہ ایک مشترکہ عزم، انتھک محنت اور اس یقین کی جھلک نظر آتی ہے جس کا اسلام آباد مستحق ہے۔
اس ضمن جو کام ہوئے ان میں انفراسٹرکچر کی ترقی جناح اسکوائر انٹرچینج ،مری روڈ، طیب اردگان انٹرچینج ،اقبال فلائی اوور (روات) شاہین چوک انڈر پاس سگنل فری، اسلام آباد ایکسپریس وے کوریڈور جناح کنونشن سینٹر کی آرائش، بزنس فیسیلئشن سینٹر، گندھارا ہیرٹیج کالچر سینٹر کی بحالی پارکنگ پلازہ بلیوایریا اور اس نوع کے بے شمار منصوبے ماحولیاتی خدمت کے ضمن میں ”لارڈینیائ“ نرسری اور بے شمار منصوبے ”پولر“ کے مریض تو رندھاوا صاحب کو دُعائیں دیتے ہیں۔
لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تو وہ ہر جگہ کرتے ہیں کیش فری نظام ڈیجیٹل پارکنگ انسان گنواتے گنواتے تھک جائے مگر یہ ترقیاتی کاموں کی فہرست ختم نہیں ہو سکتی اپنے کیریئر میں سب سے زیادہ میاں شہبازشریف کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب کام کرتے دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افسران میں محمد علی رندھاوا بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں وہ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر کی سیٹوں سے سبکدوش ہوئے ہیں اور کام کی جیسی مثال قائم کر گئے ہیں اس کی تقلید نہ لاہور میں ان کے متبادل ہو سکی، نہ اسلام آباد میں ہو گی اب وہ ڈی جی پاسپورٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ یقینا وہ یہاں سے بھی سستی کاہلی کرپشن کا خاتمہ کر کے اسے شاندار ادارہ بنا دیں گے اس بات سے بے پرواہ کہ منفی لوگ منفی پراپیگنڈہ کرتے رہیں۔
محمد علی رندھاواخدمت و فرض شناسی کی مثال
09:09 AM, 7 Apr, 2026