ایرانی کرنسی ایک بار پھر مضبوط ہورہی ہے

09:09 AM, 7 Apr, 2026

 چیئرمین ایکسچینج کمپنیز / ملک محمد بوستان
مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں جنگ بندی کی امیدوں میں اضافے کے بعد ایرانی کرنسی نے پاکستانی روپے کے مقابلے میں نمایاں بحالی دیکھی جارہی ہے، کیونکہ ٹرمپ امریکا کی جانب سے یہ اشارے ملے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آ سکتی ہے۔ایران کے ریال کی طلب بڑھتی جارہی ہے، اور اس کی قدر میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ایرانی کرنسی کی قدر مقامی کرنسی کے مقابلے میں چار گنا بڑھ گئی ہے۔ دس ملین ایرانی ریال، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز پر تقریباً 2,500 روپے میں ٹریڈ ہو رہے تھے، اب تقریباً 10,000 روپے میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ لوگ مثبت توقعات کے باعث ایرانی کرنسی خرید رہے ہیں، کیونکہ انہیں امید ہے کہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا اور ایران پر تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی، جو مذاکرات میں ایرانی حکومت کا بنیادی مطالبہ ہے۔ بعض عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی ریال کی قدر میں اچانک اضافے کی ایک وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جو تیل برآمد کرنے والے ممالک کی کرنسی کو مضبوط کرتا ہے۔ 2018میں ایران پر معاشی پابندیاں نہیں تھیں، اس وقت 50ہزار روپے کے عوض ایک کروڑ ایرانی ریال ملتا تھا تاہم پابندیوں کے بعد2026کی جنگ سے پہلے ڈھائی ہزارپاکستانی روپے میں ایک کروڑ ایرانی ریال ملنے لگے جس پر ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئے،جیسے ہی مذاکرات شروع ہوئے ہیںلوگوں کو امید بند ھ چلی ہے کہ ایران پر پابندیاں ختم ہو جائیں گی اس کے بعد ایرانی ریال کی ویلیو بھی بڑھے گی اور اس کے اثرات سامنے آرہے ہیں کیونکہ حالیہ جنگ میں ایرانی کرنسی مضبوط دکھائی دی ہے۔ایران آبنائے ہرمز کی بندش سے فی جہاز 2ملین ڈالر(چینی یوآن یا ایرانی کرنسی)میں وصول کررہا ہے اور ڈالر کے بجائے یہ رقم ایرانی کرنسی میں لینے کا مقصد یہی ہے کہ اس کی کرنسی کی ویلیو بڑھے،یہی وجہ ہے کہ پابندیاں ختم ہو نے کے بعد ہی جنگ ختم ہو سکتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ ایرانی کرنسی کو ہی ہوگا۔ اور اسی امید کے سہارے لوگ ایرانی کرنسی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں کہ جنگ ختم ہو اورایران پر لگی پابندیاں بھی ختم ہوجائیں توایرانی کرنسی کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ سال2001میں جو افغان جنگ ہوئی تھی اور امریکا نے ٹیک اوورکیا تھا،اس وقت ایک لاکھ افغانی ایک سوروپے کا آتا تھا اور آج ایک لاکھ افغانی کے بدلے 4لاکھ30ہزار روپے دینا پڑتے ہیں، افغانی کرنسی کی ویلیو اتنی زیادہ بڑھی کہ جن لوگوں نے افغانی کرنسی خرید رکھی تھی انہیں کئی گنا فائدہ ہوا۔ اسی طرح سال 2013 میں عراق، امریکاجنگ میں بھی یہی ہوا تھاکہ ایک لاکھ عراقی دینار 2000 پاکستانی روپے میں ملتے تھے، عراقی دینار آج 21 ہزار کا ہو گیا ہے۔ ایران بھی اپنی کرنسی کی مضبوطی چاہتا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کو پرموٹ کر رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی تذکرہ کیا کہ سٹیٹ آف ہرمز میں جتنے بھی شپنگ ہیں ان سے ایران 2 ملین ٹول ٹیکس لے رہا ہے اور وہ چینی یوآن کے بدلے ایرانی ریال دے گا تو اس سے ایرانی ریال کی ویلیو میں اضافہ ہو گا۔ پاکستانی بارڈر ٹریڈ یا تو گڈزکے بدلے گڈز میں ہورہی ہے یا پھرسواپ کرنسی لوکل کرنسی کے ذریعے ہورہی ہے تو اس میں بھی ایرانی کرنسی کی ڈیمانڈ ہے۔ایرانی حکومت بھی چاہتی ہے کہ انکی کرنسی مضبوط ہو۔اطلاعات کے مطابق ایران نے مارچ کے آغاز میں اپنی تیل کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ کیا، حالانکہ اس نے امریکی-اسرائیلی جنگ کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو عرب ممالک کے لیے بند کر دیا تھا۔ تیل کی پیداوار میں اضافے سے ملکی معیشت کے امکانات بہتر ہوتے ہیں، جس سے ایرانی ریال کو تقویت ملی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور اس کا دارومدار وہاں ہونے والی پیش رفت پر ہے۔ وہ امریکی صدر کے آئندہ کے بیانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جس سے تنازع کے مستقبل کے حوالے سے مزید وضاحت متوقع ہے۔ کرنسی مارکیٹ میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی حاصل کر رہا ہے، اور آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں اس کی کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ ایرانی ریال کی طلب میں اچانک اضافے کی وجوہات واضح نہیں، تاہم کچھ لوگ اس کرنسی کو بطور سرمایہ کاری خرید رہے ہیں، اس توقع پر کہ جنگ کے بعد یہ مزید مضبوط ہو جائے گی۔دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایرانی مصنوعات، بشمول پیٹرولیم، پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے اس کرنسی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور قیمت اوپر جا رہی ہے۔ جنگ کے باوجود ایران کی تیل پیداوار میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ پاکستانی کرنسی بھی بڑی مضبوط ہے،روپیہ فی ڈالر295روپے کی سطح سے کم ہوکر280روپے ہوگیا ہے، اسی طرح ہمارے ملکی ریزرو بھی تقریباً 22ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ2022میں ہمارے ریزرو 3ارب ڈالر تھے تواس میں19ارب ڈالرکا اضافہ ہوا ہے، پاکستانی کرنسی دن بہ دن مضبو ہو رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا کرنٹ اکاﺅنٹ اللہ کا شکر ہے کہ پچھلے مہینے بھی سرپلس رہا ہے،اگر جنگ جاری رہتی ہے تو پاکستان میں کروڈ آئل کی قیمتیںبڑھ جائیں گی،کیونکہ کروڈ آئل 60ڈالر سے بڑھ کر106 ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا ہے اگر ہمارا بل بڑھتا ہے تو کرنٹ اکاﺅنٹ میںفرق آئے گا،پھر پاکستانی کرنسی میں بھی کچھ اثر آئے گا مگر فی الحال پاکستانی کرنسی پر کوئی مشکل نہیں ہے، اس کے بدلے میں انڈیا کا روپیہ 85سے بڑھ کر95تک چلا گیا ہے اور اس کے ڈالر کے ریزرو بھی کم ہوئے ہیں جبکہ انڈین کرنسی کی نسبت پاکستانی کرنسی نے اچھی پرفارمنس دی ہے،امید ہے کہ اگلے ایک سال کے آخر تک پاکستانی روپیہ250روپے تک بھی آسکتا ہے اور اگر سٹیٹ بینک انٹربینک سے خریداری نہ کرے تو ڈالر کا ریٹ اور بھی گرسکتا ہے ۔ ہمارے کرنسی ایکس چینج کاﺅنٹرز پر لوگ ڈالر فروخت کرنے آرہے ہیں اور ورکرز کی ریمیٹنس بھی آرہی ہیں، لوکل بائنگ ڈالر کی صرف10فیصد ہے اور 90فیصد ہمارے پاس ڈالر سرپلس ہیں جو کہ ہم انٹربینک کے ذریعے حکومت کو دیتے ہیں۔

مزیدخبریں