دنیا کو سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن پاکستانیوںکو تو اب سمجھ جانا چاہیے کہ یوتھیا دوبارہ اقتدار میں آ جائے تو سوائے بربادی کے کچھ نہیں کرتا اور اس کی زندہ مثال امریکی یوتھیا مسٹر ٹرمپ دنیا کے سامنے ہے۔ ٹرمپ کی پھیلائی بربادی ابھی کیا کیا رنگ لائے گی اس کے بارے میں حتمی رائے تو خود امریکی سی آئی اے ہیڈ کے پاس بھی نہیں لیکن دنیا مصیبت میں ہے۔ خود ٹرمپ کو ووٹ دینے والے امریکی، اُس کے منتخب ہونے کے بعد عمران نیازی کی رہائی کی امید رکھنے والے یوتھیے، نوبل انعام کیلئے نامزدکرنےوالے پٹواری اور بھٹو گردی کرنے والے جیالے سب شرمندہ ہیں۔ یہی وہ سوراخ ہے جس سے مومن کو دوسری بارے ڈسنے سے منع کیا گیا ہے لیکن یہ سوراخ امریکہ سے لے کر پاکستا ن تک زمین اور آسمان میں پھیلے ہوئے ہیں سو اب ذمہ داری مومنوں کی ہے کہ وہ اس سے کیسے بچتے ہیں۔ قوموں کی زندگی میں سخت وقت آتے جاتے رہتے ہیں لیکن وہ قوم جو اپنے بدترین ہمسائے اور دور بیٹھی سپر پاور اور دنیا کی معیشت پر پھن پھیلائے بیٹھی اسرائیلی ریاست جیسے سانپوں کی آنکھوں کا کانٹا بن چکی ہو اُسے اپنا وجود قائم و دائم رکھنے کیلئے زیادہ سخت اور بہتر فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ پاکستان اپنی تخلیق سے لے کر آج تک دنیا کے لیے خطرہ ہے کیونکہ پاکستان اور اسرائیل ایک سال کے فرق سے دنیا کے نقشے پر ابھرے جبکہ چین میں اُس وقت ایک عوامی انقلاب اپنے عروج پر تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے فاتح برطانیہ کا سورج غروب ہو رہا تھا اور جاپان پر ایٹم بم گرانے اور روس کے ساتھ سرد جنگ کا آغا ز کرنے والا امریکہ دنیا میں ایک بد معاش ریاست کے طورپر ابھر رہا تھا۔ شکست خوردہ جرمن اور اُس کے اتحادی اپنی بساط لپیٹ رہے تھے یعنی دنیا بدل رہی تھی۔ اس دنیا میں اگر پاکستان تخلیق ہوا تو چین، روس اور بھارت بھی ہمارے ہمسائے قرار پائے۔ بھارت کی دشمنی ہمارے ساتھ تھی اور آج تک ہے، روس سے دشمنی ہم نے خود بنا لی البتہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے لیکن عمران نیازی کے عہدِ ستم گر نے جہاں دوسرے بہت سے ممالک کو ناراض کر کے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو برباد کیا وہیں سی پیک بند کر کے چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی بھی پوری کوشش کی لیکن خوش قسمتی سے عمران نیازی مکمل بربادی سے پہلے ہی اقتدار سے کوچ کر گیا۔
اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی ہمیشہ پراکسی رہا ہے لیکن ٹرمپ کی نوازشات نے اسرائیل کو ”منی امریکہ“ بنا دیا ہے۔ عمران نیازی نے سعودیہ، چین اور روس کو ناراض کیا تھا جبکہ امریکی یوتھیا ٹرمپ یورپ سے لے کر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے لے کر لاطینی امریکہ سمیت اپنے شہریوں بلکہ اپنے ووٹروں تک کو ناراض کر بیٹھا ہے جس پر اُسے افسوس کے بجائے فخر ہے لیکن یہ فخر امریکی عوام کو ہرگز نہیں بلکہ وہ ٹرمپ کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ہم ایک عالمی دیہات کے رہائشی ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارا ہمسایہ جنگ میں سلگ رہا ہو اور اُس کے اثرات ہمارے اوپر نہ آئیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے تیل کی قیمتیں بڑھائیں لیکن عوامی رد عمل بلکہ اس میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کا رد عمل سب سے زیادہ تھا، دیکھنے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں تو کمی کر دی لیکن ڈیزل کی قیمت میں کوئی کمی نہیں ہوئی البتہ ڈیزل پر لیوی بڑھائی بھی نہیں گئی۔ بہت زیادہ غور کرنے کے بعد میں تو اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حکومت 260 ارب کا جو عوامی ریلیف فراہم کر رہی تھی وہ موجودہ حالات میں اُس کے بس سے باہر ہوگیا تھا۔ ان حالات کا سامنا صرف پاکستان کو ہی نہیں کرنا پڑا بلکہ دنیا بھر میں اس کے اثرات عوام پر مرتب ہوئے ہیں لیکن پاکستان میں آستینوں کے سانپ نت نئے منفی پروپیگنڈا کر کے عوام کوگمراہ کررہے ہیں۔ وہ دوسرے ممالک کے ریٹ بتاتے ہوئے کرنسی کا فرق بھی بھول جاتے ہیں اور اگر پیٹرول کی اُسی قیمت کو وہ پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر کے دیکھیں تووہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں سے کہیں زیادہ ہو گی۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے زیادہ اثرات خوشخال طبقے پرپڑیں گے کیونکہ کم آمدنی والے افراد کو اب بھی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے موٹر سائیکل سواروں، کسانوں، پبلک گڈز ٹرانسپورٹ اور ریلوے سمیت چار اہم شعبوںکیلئے سبسڈی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان قیمتوں کا ہفتہ وار جائز لیا جائے گا اور جیسے ہی عالمی صورتِ حال میں بہتری آئے گی پیٹرولیم قیمتوں میں کمی بھی کی جائے گی۔ ہمیں قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے کہ ہم نارمل حالات میں نہیں ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال صرف ضرورت کے وقت کریں اس سے حالات بہتر ہوں گے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے مواصلات عبد العلیم خان نے ٹول پلازہ پر فیس میں ہونے والا سہ ماہی اضافہ معطل کرتے ہوئے اضافے کا نوٹس واپس لے لیا ہے، یقینا اس کے پیچھے بھی عوام پر موجودہ حالات میں زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کی حکمت عملی ہی ہو گی۔ 5 اپریل کو جاری ہونے والے اس اضافہ کا نوٹیفیکشن وفاقی وزیر عبد العلیم خان کی ہدایت پر معطل کر دیا گیا ہے تا کہ عوام کو موجودہ حالات میں کم سے کم بوجھ برداشت کرنا پڑے۔
حکومت موجودہ حالات میں عوام کو بدترین حالات سے بچانے کیلئے بہترین اقدامات کر رہی ہے لیکن کیا ان حالات میں یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ٹریفک جرمانوں پر بھی نظر ثانی کر لی جائے کیونکہ اس کا تعلق عام آدمی کی زندگی کے ساتھ سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پیرا نے جو لوٹ مار مچا رکھی ہے اس کا چشم دید گواہ تو میں خود ہوں، کو بھی کنٹرول کیا جانا چاہیے کہ ان حالات میں عام آدمی ان سفید ہاتھیوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں اور ایک ہی بازار میں رشوت دینے والوں کو یہ سب ”سہولتیں“ فراہم کر دیتے ہیں اور رشوت نہ دینے والے پنجاب حکومت کو اس کرپشن کی وجہ سمجھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے یو ٹیوبرز تو جو حرام خوری کر رہے ہیں اُسے تو بالکل نہیں روکا جا سکتا لیکن لا تعداد ”مولا جٹ“ نما تجزیہ نگار جن کے پاس سوائے عمران نیازی سے بچھڑنے کے کوئی دوسرا غم نہیں ہے انہیں بھی کنٹرول کرنا چاہیے کہ جن سے اپنے گھر کے حالات نہیں سنبھالے جاتے وہ نیشنل چینلز پر بیٹھ کر قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کو برباد کرنے کی جو دھمکی دی ہے اور جس طر ح وہ گالی گلوچ پر اتر آیا ہے یہ زبان تو گلی محلوں کے کن ٹٹے بھی استعمال نہیں کرتے۔ اب یہ بات ثابت ہو چکی کہ جو اپنے اداروں پر حملہ کر سکتا ہے اُسے کسی ایٹمی ریاست کا سربراہ تو کسی صورت نہیں ہونا چاہیے، چہ جائیکہ وہ امریکہ جیسی سُپر پاور کا صدر ہو۔ امریکی بڈھے نے دنیا کو اور پاکستانی یوتھیوں نے پاکستان کو برباد کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔
بدزبان امریکی بڈھا....
09:08 AM, 7 Apr, 2026