ہر دلعزیز سہیل احمد عزیزی

09:06 AM, 7 Apr, 2026

پاکستانی معاشرے میں ایسی شخصیات کم ہی پیدا ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں علم، کردار، فن اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہوں۔ سہیل احمد انہی نابغہ روزگار افراد میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف فن کے میدان میں اپنی پہچان بنائی بلکہ اپنی نجی زندگی میں بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار کو برقرار رکھا۔ سہیل احمد کا تعلق ایک معزز، مذہبی اور صوفی روایت سے جڑے گھرانے سے ہے جہاں علم، دیانت اور انسان دوستی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں عاجزی، خودداری اور مخلوقِ خدا کے لیے درد نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ محض ایک فنکار نہیں بلکہ ایک باوقار انسان ہیں جنہوں نے اپنی زندگی محنت، لگن اور رزقِ حلال کے اصولوں پر استوار کی۔ فنی میدان میں اگر ان کے کیریئر کا جائزہ لیا جائے تو سہیل احمد نے پاکستان کے مقبول ترین مزاحیہ پروگرام حسب حال کے ذریعے گھر گھر شہرت حاصل کی۔ اس پروگرام میں ان کا کردار عزیزی ایک علامت بن چکا ہے، جو نہ صرف مزاح بلکہ معاشرتی اور سیاسی طنز کا ایک منفرد انداز پیش کرتا ہے۔ عزیزی کے کردار کے ذریعے انہوں نے عوامی مسائل، سیاسی حالات اور معاشرتی تضادات کو نہایت سادہ مگر گہری باتوں میں بیان کیا، جو ان کی ذہانت اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔جانے کہاں گئے وہ دن کہ جب ہمارے معاشرے میں اتنی پریشانی، دباو¿ اور بے برکتی نہ تھی روایات زور آور تھیں، خاندان معاشرے کی اکائی گنا جاتا تھا، اب خاندان کی جگہ فرد نے لے لی ہے اور پورا معاشرہ تتر بتر دکھا ہے، کیا دن تھا جب امن تھا، دہشت گردی اور خوف کے بڑھتے ہوئے رجحان میں بدعنوانی، رشوت بطور پالیسی، ڈھٹائی اور طاقتور ہونے پر مخالفت پر چڑھائی کرنے کے رجحان نے ادارے تباہ کر دیئے ہیں۔ کشمیری برادری کے سپوت میاں محمد اکرم صاحب (ریٹائرڈ ڈی ایس پی) جو دیانتداری، شرافت، وضع داری اور علم دوستی کی وجہ سے جانے جاتے تھے، ان کا بیٹا سہیل احمد جس نے اپنے والد کی ناراضی کے باوجود ان فنی کیرئیر کا آغاز سٹیج ڈراموں سے کیا، شدید ترین مخالفت کے باوجود اس کے اندر بڑے فنکار نے اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا کیونکہ ان کے نانا ڈاکٹر فقیر حسین فقیر، جن کو پنجابی زبان کا شیکسپیئر بھی کہا جاتا ہے، تھے۔ گو یا ادب اور لٹریچر اس کے خون میں شامل تھا۔ مسلسل محنت شاقہ اور مشقت سے اپنی پیشہ وارانہ منزلیں طے کرتے ہوئے آج سہیل احمد سٹیج اور ٹی وی کا دنیا کا ایک درخشاں ستارہ بن گیا ہے۔
پرائیڈ آف پر فارمنس یافتہ پروڈیوسر مصنف ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور اداکار سہیل احمد اپنے کام پر مکمل گرفت رکھنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتا ہے چونکہ علم، فکر، ادب و تدبر اور مشاہدہ اس کا خاندانی وتیرہ ہے جس کی مثال اس کے بھائی ڈاکٹر جاوید اکرام کے پنجابی پروگرام ”کلی فقیر دی“ میں پورے جو بن کے ساتھ نظر آتا تھی۔ ان کے دوسرے بھائی میرے دوست پروفیسر جنید اکرم کئی کتابوں کے مصنف ہیں، پنجابی زبان سے محبت رکھنے والے ان کی گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، اس پروگرام کا چرچا بھارتی پنجاب میں بھی ہے، آج جبکہ میڈیا تمام تر رعنائیوں، اچھائیوں اور بھلائیوں کے باوجود لوگوں میں آگاہی سے زیادہ تشویش اور مایوسی پھیلا رہا تھا تو ایسے میں ایک چینل پر عزیزی نمودار ہوا اور چھا گیا، وہ ایسے ہی چھایا جیسے گلوکار مہدی حسن، سلطان راہی یا نصرت فتح علی خان نے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا تھا۔ عزیزی کے کردار میں انفارمیشن، مزاح، تفریح، اصلاح اور نا جانے کیا کیا بھرا پڑا ہے، ایک عزیزی کی پر فارمنس میں عمیق سیاسی مشاہدہ ہے اور طنز بھی سچائی بھی ہے اور عوامی رنگ بھی خلوص کی طاقت اور پاکستانی عوام کی زبان اور آواز بھی۔ ہمارا عزیزی جون کی تپتی دھوپ میں ٹو پیس اور ٹائی نہیں لگاتا بلکہ شرٹ پتلون کے اوپر کیلس لگا کر اس پہناوے اور دکھاوے کا مذاق اڑاتا ہے اس کے اس منہ سے نکلے ہوئے جملے و برخاست سب عوامی ہے، گویا اس کو دیکھنے والا عزیزی میں اپنا آپ دیکھتا ہے۔ 
 اس کے علاوہ سہیل احمد نے کئی معیاری ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں عشق عبادت، دھوپ کنارے اور دیگر ٹیلی وژن پراجیکٹس شامل ہیں جہاں انہوں نے سنجیدہ کرداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی اداکاری میں ایک فطری پن اور سچائی نظر آتی ہے جو ناظرین کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم ان کی اصل عظمت صرف فن تک محدود نہیں۔ وہ ایک دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں جو خاموشی سے خدمتِ خلق میں مصروف رہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ مستحق افراد پر خرچ کرتے ہیں، اور اس عمل میں کسی قسم کی نمائش کے قائل نہیں۔ سفید پوش لوگوں کی مدد کرنا، ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا، اور بغیر تشہیر کے بھلائی کرنا ان کی شخصیت کا خاص وصف ہے۔ ان کی زندگی کا ایک اور روشن پہلو عشقِ رسولﷺ ہے۔ حضرت محمدﷺ کی تعلیمات سے ان کی وابستگی محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی صورت میں نظر آتی ہے۔ ان کا صوفیانہ پس منظر انہیں محبت، رواداری اور انسانیت کا درس دیتا ہے، جو ان کے کردار میں نمایاں جھلکتا ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ ایسی باوقار شخصیت بھی بعض حلقوں کی بے بنیاد تنقید اور پراپیگنڈے کا نشانہ بنی۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ سچ ہمیشہ اپنی روشنی خود پیدا کرتا ہے۔ سہیل احمد نے ہمیشہ وقار اور تحمل کا دامن تھامے رکھا اور اپنے عمل سے جواب دیا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شخصیات کو افواہوں کی عینک سے نہیں بلکہ ان کے کردار، خدمات اور عملی زندگی کی روشنی میں پرکھیں۔ سہیل احمد المعروف عزیزی بلاشبہ ایک ایسے فنکار، دانشور اور انسان دوست ہیں جن کی مثال کم ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے اور ہمیں سچ کو پہچاننے کی بصیرت عطا فرمائے۔

مزیدخبریں