انتہا درجے کا باولا پن

09:04 AM, 7 Apr, 2026

چند روز قبل بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر جب "بدزبان جے شنکر" کے عنوان سے مضمون لکھا تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قسم کی مزید تحریریں بھی لکھنا پڑیں گی۔ دنیا پر ایسا دور پہلے کبھی شاید ہی آیا ہو کہ جب اتنی بے لگام زبانوں والے لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہوں جتنے کہ آج کے دور کے کچھ لوگ ہیں۔ خاص طور پر بھارت اور امریکہ اس حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ جے شنکر نے تو پاکستان کے خلاف ایک ہی بار اپنے اندر کا خبث نکالا تھا کیونکہ سفارت کار ہونے کے ناتے اس کی تربیت نے اسے اس سے زیادہ لغو گوئی کی اجازت نہیں دی ہو گی لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تو شاید کبھی سفارت کاری کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ ایک ایسے منصب پر فائز ہیں جہاں انھیں روک ٹوک کرنے والا بھی کوئی نہیں، اس لیے وہ آج کل بے دریغ "جے شنکر پن" کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔
شاید ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی اور ایران کی ناقابل یقین مزاحمت نے ٹرمپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب کر لی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران میں امریکی صدر کی جانب سے اخلاقیات کے منافی زبان کے استعمال کی اتنی مثالیں سامنے آ چکی ہیں کہ محتاط سے محتاط لفظوں میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے ہوش و حواس کھو چکے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال میں تو ڈونلڈ ٹرمپ ہر حد ہی پار کر گئے ہیں۔ انہوں نے دو روز قبل سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ایران کو باقاعدہ گالی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں ایسے غلیظ الفاظ کا استعمال کیا ہے جنہیں یہاں دہرایا بھی نہیں جا سکتا۔
ٹرمپ کا یہ ٹویٹ اس وقت عالمی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا سب سے زیادہ مرکز بنا ہوا ہے۔ امریکی سیاستدانوں، عالمی رہنماو¿ں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں ابھی تک کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جس نے اس زیر ناف قسم کی زبان کی حمایت کی ہو۔ ہر کوئی ٹرمپ کو برا بھلا کہتا نظر آ رہا ہے۔ اس دھمکی آمیز ٹویٹ میں ایران کو گالی دینے کے بعد ٹرمپ نے آخر میں ایک ایسا جملہ بھی کہا ہے جو ٹرمپ کی منتشر ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور وہ جملہ ہے "تعریف اللہ کے لیے"۔ اس جملے کو پڑھنے کے بعد ذہن میں پہلا سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اگر اسلام قبول نہیں کیا تو پھر اللہ کا نام کیوں لیا کیونکہ اللہ پر تو صرف مسلمان یقین رکھتے ہیں جبکہ ٹرمپ تو مسیحی ہیں اور مسیحیوں کے ہاں خدا کا تصور کچھ اور ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کی رشتہ داری اپنی بیٹی کے توسط سے یہودیوں کے ساتھ ہے کہ ان کا داماد جیرڈ کشنر یہودی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کا واحد یہودی ملک اسرائیل بھی امریکہ کا چہیتا ہے۔ یہودیوں سے رشتہ داری اور ایک خاص تعلق کے ناتے ٹرمپ کو اس خدا کا نام لینا چاہیے جسے یہودی مانتے ہیں یا اسے یاد کرنا چاہیے جسے مسیحی مانتے ہیں لیکن اپنے ٹویٹ میں وہ اس خدا کا نام لے رہے ہیں جس کے ماننے والوں کے ساتھ وہ براہ راست برسر بیکار ہیں۔ ٹرمپ جیسے اسلام دشمن کا اللہ کا نام لے کر مسلمانوں کو ڈرانا مضحکہ خیز ہی نہیں، ان کے ذہنی انتشار کا بین ثبوت ہے۔
امریکی صدر اللہ کا نام لے کر شاید باور کرانا چاہتے ہیں وہ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن انھیں خبر نہیں کہ اللہ پر یقین رکھنے والوں کے طور طریقے ایسے نہیں ہوتے جیسے ان کے ہیں۔ ممکن ہے وہ ایران کو باور کرانا چاہتے ہوں کہ اللہ ایران سے زیادہ امریکہ کے ساتھ ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ بھی ٹرمپ کی خام خیالی ہے کہ اللہ اس کے ساتھ کیسے ہو سکتا ہے جو اس پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران کی مزاحمت نے ٹرمپ کو اللہ اللہ کرنے پر مجبور کر دیا ہو اور بعید نہیں کہ جلد یا بدیر وہ توبہ توبہ کرتے نظر آئے یا پھر اللہ پر ایمان ہی لے آئیں۔ یہ بات ماننا پڑے گی کہ ایران کی مزاحمت نے امریکی قیادت کو بالعموم اور صدر ٹرمپ کو بالخصوص مذہبی ٹچ کے استعمال پر مجبور کر دیا ہے۔ چند دن قبل امریکی وزیر جنگ نے بھی کہا تھا کہ وہ یہ جنگ حضرت عیسیٰؑ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے حضرت عیسیٰؑ کے واسطے سے مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے دعا کی درخواست بھی کی تھی جس پر پاپائے روم نے اس طرح کی دعا سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰؑ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں، خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے۔
یہ تو سب کو یاد ہو گا کہ ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ٹرمپ نے اپنے دفتر میں بھی مسیحی رہنماو¿ں کو جمع کر کے دعا کرائی تھی۔ یقینا ان کا اس قسم کا مذہبی ٹچ مخالفین کو مرعوب کرنے کے لیے ہے لیکن وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ اللہ پر یقین رکھنے والے اس قسم کے کسی مذہبی ٹچ سے مرعوب نہیں ہوتے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر کی جھنجھلاہٹ اور زبان کے غیر محتاط استعمال کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں بھی اسی قسم کے نازیبا الفاظ استعمال کر چکے ہیں جبکہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے بارے میں بھی طنزیہ جملے کہہ چکے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ٹرمپ کی یہ بے لگامی ان کے ذہنی خلفشار کا نتیجہ ہے یا پھر وہ عادتاً ایسا کرتے ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ محض ٹرمپ کا ذاتی رویہ ہے یا امریکی حکومت کی سرکاری پالیسی ہے کہ مخالفین کے خلاف گھٹیا ترین الفاظ کا استعمال کیا جائے۔ یا شاید پھر یہ ٹرمپ کے پاس موجود آخری ہتھیار ہے جسے وہ اپنے اب تک استعمال کیے گئے ہتھیاروں کی ناکامی کے بعد انتہائی اضطراب کے عالم میں استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بات باعث حیرت ہے کہ امریکی عوام نے ایک ایسے شخص کو دوسری بار صدر منتخب کیا ہے جسے اپنی زبان پر قابو نہیں۔ اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکیوں کے نزدیک یہ انتہا درجے کا باو¿لا پن ایک معمول کی چیز ہے۔

مزیدخبریں