کہتے ہیں، بعض اوقات ایک چھوٹی سی کہانی پوری قوم کی سوچ، اس کے رویوں اور اس پر مسلط نظام کی عکاسی کر دیتی ہے۔ حال ہی میں ایک صحافی دوست، جبار چودھری، نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر مگر نہایت معنی خیز تحریر شیئر کی، جس نے موجودہ حالات کو نہایت سادہ انداز میں بے نقاب کر دیا۔ اس تحریر میں ایک تندور والے اور بادشاہ کا قصہ بیان کیا گیا تھا، مگر درحقیقت یہ قصہ آج کے معاشی اور سیاسی حالات کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک تندور والا بادشاہ کے پاس جا کر عرض کرتا ہے کہ پانچ روپے والی روٹی میں گزارا ممکن نہیں، اس لیے اس کی قیمت بڑھا کر دس روپے کر دی جائے۔ بادشاہ فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے ایک حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ اگلے دن دربار میں عوام کو بلایا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ روٹی کی قیمت اب پندرہ روپے ہو گی۔ یہ سن کر عوام میں شدید ردعمل پیدا ہوتا ہے، شور و غل مچ جاتا ہے اور لوگ اسے ظلم قرار دیتے ہیں۔ پھر بادشاہ عوامی دباو¿ کے تحت قیمت کم کر کے دس روپے کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ پانچ روپے کی کمی ہو گئی، اور تندور والا بھی خوش کہ اس کی اصل خواہش پوری ہو گئی۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی کہانی ہے، مگر جبار چودھری کی اس پوسٹ نے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا، وہ نہایت گہری اور فکر انگیز ہے۔ آج پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ مہنگائی کے فیصلے محض معاشی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ ایک خاص بیانیے کے ساتھ کیے جاتے ہیں، جہاں پہلے بوجھ بڑھایا جاتا ہے اور پھر معمولی کمی کر کے اسے عوامی ریلیف کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اگر ہم موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس کی واضح مثال ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا حوالہ دے کر عوام کو مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ پھر جب کبھی قیمت میں تھوڑی سی کمی کی جاتی ہے تو اسے ایک بڑی کامیابی اور عوامی ریلیف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ قیمتیں اس سطح تک پہلے ہی پہنچا دی گئی ہوتی ہیں جہاں سے معمولی کمی بھی عوام کو بڑی لگنے لگتی ہے۔ یہاں وہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے جو اسی تناظر میں اٹھایا گیا: اگر آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تقریباً 114 ڈالر فی بیرل ہے تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر کیوں ہے؟ اور ماضی میں جب قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچی ہوئی تھی تو عوام کو پٹرول تقریباً 150 روپے فی لیٹر کیسے دستیاب تھا؟ یہ تضاد محض اتفاق نہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عالمی منڈی نہیں بلکہ اندرونی پالیسیوں، ٹیکسز اور ترجیحات کا بھی ہے۔ اسی بحث میں ایک اور طنزیہ مگر معنی خیز سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی پرچم والے ٹینکرز میں کیا واقعی پٹرولیم تھا یا سرسوں کا تیل؟ یہ سوال دراصل عوامی بے بسی اور شکوک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب عوام کو مکمل معلومات نہیں دی جاتیں اور فیصلے شفاف انداز میں سامنے نہیں آتے تو ایسے سوالات جنم لینا فطری بات ہے۔ اصل مسئلہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ اس مہنگائی کو پیش کرنے کا انداز ہے۔ جب عوام کو بار بار یہ باور کرایا جائے کہ حالات بہت خراب ہیں، وسائل کم ہیں اور عالمی دباو¿ زیادہ ہے، تو وہ آہستہ آہستہ ہر مشکل کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر اگر اسی مشکل میں تھوڑی سی نرمی آ جائے تو وہ اسے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی حکمت عملی ہے جو اس تندور والے اور بادشاہ کی کہانی میں بیان کی گئی تھی۔ جبار چودھری کی وہ مختصر سی تحریر دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں ہم اپنی اجتماعی نفسیات کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہم فوری ردعمل دیتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، مگر جلد ہی مطمئن بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں پہلے کہاں سے کہاں پہنچایا گیا ہے، بلکہ ہم صرف موجودہ ریلیف کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ کمزوری ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقتی اعلانات کے بجائے مکمل تصویر کو دیکھنا سیکھیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ قیمت میں کمی اس وقت حقیقی ریلیف ہوتی ہے جب وہ اصل سطح کے قریب ہو، نہ کہ اس سطح سے جہاں تک پہلے ہی غیر معمولی اضافہ کیا جا چکا ہو۔ جب تک ہم اس فرق کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہم اسی طرح خوش فہمیوں میں مبتلا رہیں گے۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو صرف سننے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ سوال بھی کرتی ہے، موازنہ بھی کرتی ہے اور حقائق کو جاننے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اگر ہم نے یہ عادت نہ اپنائی تو پھر ہر نیا اعلان ہمیں وقتی خوشی تو دے گا، مگر مجموعی طور پر حالات جوں کے توں رہیں گے۔ آج کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ عوام اپنی سوچ بدلے، بیانیے کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھے اور صرف وقتی ریلیف کے بجائے مستقل بہتری کا مطالبہ کرے۔ کیونکہ جب قوم کا شعور بیدار ہوتا ہے تو پھر نہ صرف فیصلے بدلتے ہیں بلکہ نظام بھی بدلنے لگتا ہے۔
بیانیے کا جادو اور مہنگائی کی حقیقت
09:05 AM, 7 Apr, 2026