تہران: ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا ردعمل پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران نے فوری جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مسئلے کا حل صرف جنگ کے مستقل اور مکمل خاتمے میں ممکن ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ردعمل میں دس اہم نکات شامل ہیں، جن میں خطے میں جاری تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے لیے ضابطہ کار مرتب کرنا، بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تعمیر نو شامل ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور ایران کے بھرپور جوابی حملوں کے بعد خطے کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔
ایسے میں پاکستان ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد نے اس سلسلے میں کوششیں تیز کر دی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے پہلے 15 نکاتی تجاویز پاکستان تک پہنچائی گئی تھیں، جس کے بعد پاکستان نے یہ تجاویز ایران تک پہنچائیں اور تہران نے جواب بھی ارسال کیا۔
اطلاعات کے مطابق آج ایران نے پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی تجاویز پر اپنا ردعمل تیار کر لیا ہے، جوابات مرتب کیے جا چکے ہیں، اور مقررہ وقت پر اس کے تفصیلی نکات کا اعلان کیا جائے گا۔ ایران نے قومی مفادات کی بنیاد پر اپنے مطالبات ثالثی چینلز کے ذریعے بھی پہنچا دیے ہیں۔