اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسلامی اجلاس میں عالمی توانائی بحران کی سنگین صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کی قربانی دے کر عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے بڑے جھٹکے سے بچا لیا ہے۔وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی نے سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے اثرات درج ذیل ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت 300 ڈالر تک جا پہنچی۔جہازوں کا کرایہ اور انشورنس جو پہلے چند لاکھ ڈالر تھی، اب 15 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث متبادل منڈیوں سے تیل منگوانے پر پریمیم 5 ڈالر سے بڑھ کر 70 ڈالر ہو گیا۔علی پرویز ملک کے مطابق، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے درج ذیل ہنگامی اقدامات کیے۔ وفاقی حکومت نے ہفتہ وار 50 سے 60 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کر کے عوام کو منتقل ہونے سے روکا۔ سرکاری سطح پر سخت کفایت شعاری اپنائی گئی اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کی گئی۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے تمام گاڑیوں کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی تقسیم کو شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔
وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ قطر اور کویت کے ساتھ ایل این جی اور ڈیزل کے معاہدے سپلائی لائن کٹنے سے متاثر ہوئے، تاہم وزیراعظم اور عسکری قیادت کی مشاورت سے متبادل انتظامات کر لیے گئے ہیں تاکہ ملک میں ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔
"آبنائے ہرمز کی بندش اور پیٹرولیم بحران: وفاقی وزیر پیٹرولیم کی عالمی توانائی بحران کی سنگین صورتحال پراہم بریفنگ
07:22 PM, 6 Apr, 2026