'وعدہ صادق 4' کی 96 ویں لہر نے اسرائیل کو ہلا دیا،حیفہ اور عراد کے کئی سیکٹرز میزائلوں کی براہِ راست زد میں

09:40 AM, 6 Apr, 2026

یروشلم/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں لگی آگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایران کے 'آپریشن وعدہ صادق 4' کی 96 ویں لہر کے نتیجے میں اسرائیل کی دفاعی لکیریں ٹوٹ گئیں۔ سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز نے اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر قیامت ڈھا دی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کے بھاری میزائل حملوں نے اسرائیل کے اہم ترین شہروں کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ تل ابیب، حیفہ اور عراد کے کئی سیکٹرز میزائلوں کی براہِ راست زد میں آنے کے بعد ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ عالمی میڈیا ان شہروں کی حالت کا موازنہ غزہ کی تباہی سے کر رہا ہے۔
 ایران نے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے امریکی کیمپوں میں شدید کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ایران کے حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو لبنان اور یمن سے بھی بدترین حملوں کا سامنا ہے۔ لبنان سے حزب اللہ نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شمالی اسرائیل کو میدانِ جنگ بنا دیا ہے۔ یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر اور جنوبی اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے اسرائیل کا دفاعی نظام مکمل طور پر دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
ایران کی اس 96 ویں لہر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایک طرف ایران کے یہ حملے اور دوسری طرف ٹرمپ کی 'پاور پلانٹ اور برج ڈے' کی دھمکی—دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آج رات 10 بجے صدر ٹرمپ کی فوجی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس اب صرف ایک بیان نہیں بلکہ اسرائیل کی اس تباہی کا انتقامی اعلان بھی ہو سکتی ہے۔

مزیدخبریں