ہمارے ہاں نظام تعلیم اور معیار تعلیم کا معاملہ اکثر زیر بحث رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان سے اب تک جائزہ لیں تو شعبہ تعلیم کے بہت سے معاملات میں نمایاں بہتری دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر1947 میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ اب یہ تعداد کئی گنا بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔یہ ہرگز معمولی بات نہیں ہے۔ علمی تحقیق کے میدان میں بھی ہم آگے بڑھے ہیں۔ نامورعالمی تحقیقی جریدوں میں پاکستانی محققین کے نام نظر آتے ہیں۔ بالکل اسی طرح غیر ملکی تعلیمی اداروں تک پاکستانیوں کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہماری کوئی ایک جامعہ بھی عالمی درجہ بندی کی فہرست میں شامل نہیں ہوتی تھی۔ درجہ بندی کی اہمیت اور اس سے جڑے تنازعات سے قطع نظر، اسے مثبت پیش رفت ہی کہنا چاہیے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ پاکستانی جامعات نے عالمی درجہ بندی میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے جب بھی کوئی عالمی ادارہ جامعات کی درجہ بندی فہرست جاری کرتا ہے اس میں پاکستانی یونیورسٹیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے جامعات کی تازہ ترین عالمی درجہ بندی جاری ہوئی ہے اس میں پاکستان کی کئی سرکاری اور نجی جامعات کے نام دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔
ان مثبت پہلووں کے باوجود ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ شعبہ تعلیم کی صورتحال اصلاح احوال کی متقاضی ہے۔ برسوں بلکہ دہائیوں سے ماہرین تعلیم اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے کیساتھ ساتھ ہمیں تعلیم کے معیار کی جانب بھی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ پرانے وقتوں میں کوئی بی۔ اے کرتا تھا تو یہ ڈگری اس قدر اہمیت کی حامل ہوتی تھی کہ اس شخص کے نام کیساتھ باقاعدہ بریکٹ میں بی۔ اے لکھا جاتا تھا۔ خاندان کے وہ بزرگ جنہوں نے محض چند جماعتوں تک تعلیم حاصل کی ہوتی تھی ، انہوں نے بھی درجنوں کتابیں پڑھ رکھی ہوتی تھیں۔ اس زمانے میں تعلیم کا ایک معیار تھا۔ اب یہ حال ہے کہ ایم۔ اے کی ڈگری کو چھوڑ دیجئے، ایم۔ فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی ڈگری کے حامل افراد بھی اپنے شعبے اور مضمون کے بارے میں سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل ڈگری کسی کی قابلیت اور ذہانت کا معیار ہر گز نہیں ہے۔ برسوں پہلے (غالبا 2015 میں) پنجاب پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نے اس وقت کے گورنر ( جو صوبے کی تمام جامعات کا چانسلر ہوتا ہے) کو ایک خط تحریر کیا تھا۔ اس خط میں لکھا تھا کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے بعدہونے والے انٹرویو میں یہ افسوس ناک صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے کہ وہ امیدوار جو ایم ۔فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگریوں کے حامل ہوتے ہیں ، وہ ڈھنگ سے اپنے تحقیقی مقالے کا عنوان تک بتانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس خط میں گورنر سے استدعا کی گئی تھی کہ جامعات کے وائس چانسلروں کو اس صورتحال سے آگاہ کریں ۔اور انہیں معیار تعلیم کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ہدایت کریں۔ اس کے بعد گورنر ہاوس سے ایک خط جاری ہوا تھا۔ مگر بات رسمی کاروائی سے آگے نا بڑھ سکی۔
شعبہ تعلیم سے وابستہ ہونے کی وجہ سے میرا مشاہدہ ہے کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ معیار تعلیم میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس میں نوجوانوں کا بھی قصور ہے اور اساتذہ کا بھی۔ یونیورسٹی کی سطح پر حالت یہ ہوتی ہے کہ ساری کلاس میں محض چند طالب علم پڑھنے اور سیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آج کل بہت کم نوجوان کتاب سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکچر کے دوران یا بعد میں قلم سے نوٹس لینے کی روایت ختم ہو تی جا رہی ہے۔ پہلے موبائل فون اور اب آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے رہی سہی کسر ختم کر دی ہے۔وہ طالب علم جو اپنے مضمون سے متعلق بنیادی معلومات یا علم نہیں رکھتا، وہ بھی یہ چاہتا ہے کہ ڈگری ملتے ہی اسے لاکھوں روپے کی نوکری مل جائے۔ میں اکثر یہ جملہ بولتی ہوں کہ جسے الف انار ، ب بکری بھی نہیں آتا ، وہ بھی مقابلے کا امتحان پاس کر کے سرکاری افسری کے خواب دیکھتا ہے یا اگر اپنے شعبے کی مثال دوں تو، راتوں رات لاکھوں روپے کمانے والا ٹی۔ وی اینکر بننا چاہتا ہے۔ تاہم کم سہی، ایسے اچھے اور ذہین طالب بھی ہیں جو اپنے ادارے اور والدین کیلئے قابل فخر ہوتے ہیں۔
اس بگڑتی صورتحال میں ہم اساتذہ بھی قصور وار ہیں۔ زیادہ تر اساتذہ کا معمول یہ ہو چلا ہے کہ تحقیقی مقالے لکھنا، بھاری بھرکم رقوم کے عوض انہیں ملکی اور غیر ملکی جریدوں میں چھپوانا، لایعنی کانفرنسوں میں شرکت کرنا ان کی اولیں ترجیحات ہوتی ہیں ۔ کتابیں پڑھنا، تحقیق کر کے اپنے لیکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا، طالب علموں کو کلاس کے بعد وقت دینا، ان کی راہنمائی اور اخلاقی تربیت کرنے کا وقت بیشتر اساتذہ کے پاس نہیں ہوتا۔تحقیقی میدان میں آگے بڑھنا قابل تحسین سہی، تاہم ہمارے پروفیسروں کے ناقص اور نقل شدہ مضامین کے قصے کئی بار عالمی سطح پر سامنے آئے ہیں۔ ایسے بھی ہیں ، جو اس قدرجناتی خصوصیات کے حامل ہیں کہ ہر چند ہفتوں بعد ان کا ایک نیا مضمون تیار ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں جامعات اعلیٰ اور جدید تعلیم کے مراکز ہوتی ہیں۔ پاکستان کی بہت سی جامعات سیاست کے اکھاڑے بن چکی ہیں، جہاں اساتذہ اپنا وقار بھلائے باہمی اختلافات کا شکار ہیں۔ عہدوں اور مراعات کی دوڑ میں سربراہ جامعہ کی تعریف و تحسین میں مصروف ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بہت سی جامعات کے سربراہان اپنے اداروں کی اصلاح احوال سے زیادہ تشہیر اور ذاتی تعلقات بڑھانے کی مہم پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔ میں ذاتی طور کئی جامعات کے قصے کہانیوں سے آگاہ ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں کو مالی وسائل فراہم کریں۔ یہ بحث بھی بالکل ٹھیک ہے کہ معیار بہتر کرنا ہے تو حکومت تعلیمی اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر بجٹ فراہم کرئے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہر مسئلے کا حل صرف بجٹ ہی ہے۔ مثال کے طور پر معیاری لیکچر دینے ، وقت پر کلاس میں آنے اور جانے پر، طالب علموں کی اخلاقی تربیت کرنے اور ایسے ہی دیگر کاموں پر کون سا بجٹ خرچ ہوتا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب ہی اپنی ذمہ داریوں سے نظریں چرانے اور کسی دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے لے عادی ہو چلے ہیں۔
یہ اعلیٰ تعلیم کی صورتحال کی ہلکی سی جھلک ہے۔بر سبیل تذکرہ، اسکول ایجوکیشن کی حالت بھی کون سی اچھی ہے۔ معیار کی بحث کو ایک طرف رکھ دیں تب بھی یہ امر باعث تشویش ہے کہ اسکول میں پڑھنے کی عمر کے تقریبا ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت ہے۔ تاہم ایٹمی پاکستان آ ج تک سو فیصد پرائمری تعلیم کا ہدف بھی حاصل نہیں کر سکا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک ڈھلوان کا سفر ہے جس پر ہمارا شعبہ تعلیم گامزن ہے۔اور اس سفر میں ہم سب حصہ دار ہیں۔
ڈھلوان کے سفر پر گامزن شعبہ تعلیم!
09:09 AM, 6 Apr, 2026