ملک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے، وہیں اب پاکستان ریلوے کا صحافیوں کے لیے دی جانے والی رعایت کو 80 فیصد سے کم کرکے 50فیصد کر دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہ صرف تشویش کا باعث ہے بلکہ سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں، بلکہ اس کے اثرات صحافت، معاشرت اور ریاستی ذمہ داریوں تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔صحافی وہ طبقہ ہے جو دن رات سچ کی تلاش میں، عوام کی آواز بن کر اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں ان کے لیے سفری سہولیات میں کمی کرنا دراصل ان کے کام کو مزید مشکل بنانا ہے۔ کیا یہ فیصلہ اس حقیقت سے لاعلمی کا ثبوت نہیں کہ ایک صحافی اکثر اپنی جیب سے خرچ کرکے دور دراز علاقوں میں خبریں جمع کرتا ہے؟
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان ریلوے مالی مشکلات کا شکار ہے اور اسے اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کمی سے واقعی ریلوے کے مالی معاملات بہتر ہو جائیں گے؟ یا یہ ایک ایسا قدم ہے جو کمزور طبقے پر بوجھ ڈال کر وقتی سہارا حاصل کرنے کی کوشش ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اداروں کی بہتری صرف رعایتیں ختم کرنے سے نہیں بلکہ بدانتظامی، کرپشن، اور وسائل کے ضیاع کو روکنے سے آتی ہے۔
یہ فیصلہ بظاہر چھوٹا لگتا ہے، مگر اس کے اثرات بڑے ہیں۔ یہ صحافی برادری کے حوصلے کو متاثر کر سکتا ہے، ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ تاثر دیتا ہے کہ ریاست اپنے ان سپاہیوں کو نظرانداز کر رہی ہے جو قلم کے ذریعے ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔پریم یونین صحافی بھائیوں کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ صحافی برادری متحد ہو، اپنی آواز بلند کرے اور اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرے۔ یہ صرف رعایت کا مسئلہ نہیں، بلکہ عزت، سہولت اور پیشہ ورانہ وقار کا معاملہ ہے۔
پاکستان ریلوے کی بیوروکریسی کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کو سہولت دینے کے بجائے ان سے سہولت چھیننے کے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ ایک مضبوط صحافت ہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔
یہ صرف سہولت کا خاتمہ نہیں.... یہ آوازوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، اور ایسی ہر کوشش کے خلاف قلم ہمیشہ زندہ رہے گا۔
ریلوے کا فیصلہ ....صحافت پر ضرب یا معیشت کی بہتری?
09:07 AM, 6 Apr, 2026